بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے ایک سینیئر رہنما نے بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ‘اشتعال انگیز’ اور بنگلہ دیش کی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
ہفتہ کے روز جاری بیان میں جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل اور سابق رکن پارلیمنٹ میاں غلام پرور نے مغربی بنگال بی جے پی کے صدر شامک بھٹاچاریہ سے منسوب اس بیان پر ‘گہری تشویش’ کا اظہار کیا، جس میں مبینہ طور پر بنگلہ دیش کے علاقوں کھلنا اور جیسور کو بھارت میں شامل کرنے کی بات کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا کے ساتھ کوئی خفیہ معاہدہ نہیں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان کی وضاحت
میاں غلام پرور نے ان ریمارکس کو ‘انتہائی نامناسب، ناقابل قبول اور بین الاقوامی اصولوں کے منافی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے بیانات ہمسایہ ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو نقصان پہنچاتے ہیں اور بنگلہ دیش کی آزادی اور علاقائی سالمیت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ سرحدی علاقوں میں سیاسی مقاصد کے لیے اثر انداز ہونے کی کوششیں ایک بڑا خطرہ ہیں۔ بیان میں یہ خدشات بھی ظاہر کیے گئے کہ سرحد کے قریب بھارتی فوجی سرگرمیاں، سیٹلائٹ نگرانی اور مذہبی اشتعال انگیزی سرحدی آبادی میں بے چینی پیدا کر رہی ہیں۔
جماعت اسلامی کے رہنما نے بنگلہ دیش کے داخلی امور میں کسی بھی مداخلت کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے عوام اس طرح کی کسی بھی کوشش کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر مناسب سفارتی اور قانونی اقدامات کرے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش بارڈر گارڈ کی کارروائی، بھارت سے اسمگل شدہ کروڑوں مالیت کا سامان برآمد
انہوں نے بھارتی سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے بنگلہ دیش کی خودمختاری کا خیال رکھے۔ ساتھ ہی متنازع بیان واپس لینے اور معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
بیان کے اختتام پر بنگلہ دیشی حکومت سے کہا گیا کہ وہ اس معاملے پر مضبوط ردعمل دے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے ساتھ ساتھ علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کرے۔













