دنیا اس وقت ایک سنگین جغرافیائی اور معاشی بحران سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں اور بدترین صورت میں 150 ڈالر تک جانے کا خدشہ ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ایک ہی گزرگاہ، آبنائے ہرمز، سے ہوتی ہے، جو اس تنازع کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ یہ صورتحال دنیا کو stagflation یعنی سست معاشی ترقی اور بلند مہنگائی کے خطرناک امتزاج کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ خوراک، توانائی اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں عالمی سطح پر 20 سے 30 فیصد اضافے کے آثار نمایاں ہوچکے ہیں۔
اس عالمی بحران کے اثرات پاکستان جیسے درآمدی معیشت پر کہیں زیادہ شدید ہیں۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا 80 فیصد سے زائد حصہ درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر اضافے سے ملکی معیشت پر تقریباً 1.5 سے 2 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ملک میں پیٹرول کی قیمت بڑھ کر 378 روپے 41 پیسے فی لیٹر تک جا پہنچی ہے۔ حالیہ مہینوں میں فیول کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زائد اضافہ ہوچکا ہے، جبکہ مہنگائی کی شرح دوبارہ 15 سے 17 فیصد تک پہنچنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف معاشی دباؤ کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ ایک ایسے طوفان کی خبر دیتے ہیں جو عام آدمی کی زندگی کو بری طرح متاثر کررہا ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں یہ غیر معمولی اضافہ محض ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پوری معیشت میں سرایت کرجاتے ہیں۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو اشیائے خورونوش، بجلی، گیس اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ یوں مہنگائی ایک زنجیری ردعمل کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ پہلے ہی محدود آمدنی میں زندگی گزارنے والے افراد کے لیے اب روزمرہ اخراجات پورے کرنا بھی ایک چیلنج بن چکا ہے، جبکہ تنخواہوں میں اس تناسب سے اضافہ نہ ہونے کے باعث متوسط طبقہ تیزی سے معاشی دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔
اس بحران کے اثرات سب سے زیادہ خطرناک انداز میں تعلیم کے شعبے میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے توانائی بچانے کے اقدامات کے تحت پہلے اسکولوں کو بند کیا گیا اور اب ہفتے میں 6 دن کے بجائے صرف 4 دن کلاسز کروائی جا رہی ہیں۔ اسی طرح دفاتر بھی اب صرف 4 دن کھلتے ہیں اور 3 دن بند رہتے ہیں۔ بظاہر یہ اقدامات وقتی ریلیف کے لیے کیے گئے ہیں، لیکن ان کے نتائج نہایت دور رس اور تشویشناک ہیں۔ تعلیم کا تسلسل متاثر ہو رہا ہے، طلبہ کی سیکھنے کی رفتار کم ہو رہی ہے اور ایک پوری نسل کے تعلیمی مستقبل پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ ماہرین اسے ایک ممکنہ “Lost Generation” کا آغاز قرار دے رہے ہیں، جہاں بچے نہ مکمل تعلیم حاصل کر پائیں گے اور نہ ہی عالمی معیار کے مطابق مقابلہ کرسکیں گے۔
اگر ہم اس صورتحال کا موازنہ دیگر ممالک سے کریں تو ایک واضح فرق سامنے آتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے اس بحران کے اثرات کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے ہیں، جن میں فیول ٹیکس میں کمی، براہِ راست سبسڈیز، اور توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا شامل ہے۔ بعض ممالک نے کام کے اوقات کار میں لچک پیدا کی، لیکن تعلیم کے شعبے کو متاثر ہونے سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس کے برعکس پاکستان میں بوجھ کا بڑا حصہ براہِ راست عوام پر منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ سوشل سیکیورٹی کا نظام محدود اور کمزور دکھائی دیتا ہے۔
یہاں یہ سوال نہایت اہمیت اختیار کرجاتا ہے کہ کیا حکومتی اقدامات واقعی عوامی مفاد میں ہیں یا یہ صرف وقتی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش ہے؟ بلاشبہ حکومت کو عالمی دباؤ، آئی ایم ایف پروگرام اور محدود وسائل جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن ایک ذمہ دار ریاست کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے عوام، خصوصاً کمزور طبقات اور بچوں کے مستقبل کو اولین ترجیح دے۔ اگر پالیسیوں کا محور صرف اشرافیہ یا قلیل مدتی استحکام ہو تو اس کے نتائج معاشرتی عدم توازن اور عوامی بے چینی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
ایسے نازک وقت میں ہمیں محض وقتی اقدامات نہیں بلکہ ایک جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ توانائی کے متبادل ذرائع، خصوصاً سولر انرجی، کو فوری فروغ دینا ہوگا تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔ تعلیم کو ایمرجنسی کی بنیاد پر تحفظ فراہم کرنا ہوگا تاکہ بچوں کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔ کم آمدنی والے طبقات کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈیز اور ریلیف پیکجز ناگزیر ہیں، جبکہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت اقدامات بھی ضروری ہیں۔ ساتھ ہی، حکومتی اخراجات میں کفایت شعاری اور پالیسیوں میں شفافیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہ بحران صرف معیشت کا نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی مستقبل کا امتحان ہے۔ اگر آج ہم نے بروقت اور درست فیصلے نہ کیے تو کل ہمیں ایک ایسے سماجی بحران کا سامنا ہوگا جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ لیکن اگر ہم نے دانشمندی، ذمہ داری اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا تو یہی مشکل وقت ایک مضبوط اور خودمختار پاکستان کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اس موقع کو پہچان کر صحیح سمت میں قدم اٹھاتے ہیں یا حالات کے رحم و کرم پر خود کو چھوڑ دیتے ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













