خیبرپختونخوا کا دارالحکومت پشاور جہاں کی مارکیٹوں میں عام طور پر مردوں کا غلبہ نظر آتا ہے، وہاں صدر کے مصروف ترین تجارتی مرکز ‘ڈینز پلازہ’ میں ایک چھوٹی سی دکان آج کل مرکزِ نگاہ بنی ہوئی ہے۔
یہ دکان اسلامیہ کالج کی طالبہ سومیا خلیل کی ہے، جنہوں نے والد کے انتقال کے بعد حالات کے سامنے سر جھکانے کے بجائے رسم و رواج کی زنجیریں توڑ کر پشاور کے سب سے بڑے شاپنگ مال میں اپنی دکان کھول لی ہے۔
بے سہارا ہونے کے بجائے سہارا بننے کا سفر
سومیا خلیل کا سفر آسان نہ تھا، والد کی وفات کے بعد ان کے سامنے دو راستے تھے۔ یا تو وہ دوسروں پر معاشی طور پر منحصر ہو جاتیں یا پھر خود اپنے اور اپنے خاندان کے لیے سہارا بنتیں، لیکن سومیا نے دوسرے کٹھن راستے کا انتخاب کیا۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سومیا خلیل نے کہاکہ والد کی وفات کے بعد میں نے فیصلہ کیاکہ میں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے یا کسی پر بوجھ بننے کے بجائے اپنے قدموں پر خود کھڑی ہوں گی۔ خواتین کا معاشی طور پر خود مختار ہونا صرف ضرورت نہیں بلکہ وقار کا مسئلہ ہے۔
دکان کا انتخاب اور خواتین کے لیے سہولت
سومیا خلیل ڈینز پلازہ کی وہ واحد خاتون دکاندار ہیں جو کاسمیٹکس، پرفیومز اور خاص طور پر خواتین کے انڈر گارمنٹس جیسی اشیا فروخت کررہی ہیں۔ یہ وہ اشیا ہیں جنہیں خریدتے وقت پشاور جیسے شہر میں خواتین اکثر مرد دکانداروں کے سامنے جھجھک محسوس کرتی ہیں۔
خریداری کے لیے آئی ہوئی ایک خاتون گاہک نے وی نیوز کو بتایا کہ خواتین کے لیے مرد دکانداروں سے اپنی ذاتی استعمال کی اشیا مانگنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ سومیا کی یہاں موجودگی ہمارے لیے ایک بڑی سہولت ہے۔ ہم بلا جھجھک اپنی ضرورت بتا سکتے ہیں اور اطمینان سے خریداری کر سکتے ہیں۔
ڈینز پلازہ: سینکڑوں مردوں کے درمیان ایک عورت
پشاور صدر کا ڈینز پلازہ اپنی کثیر المنزلہ عمارت اور سینکڑوں دکانوں کی وجہ سے مشہور ہے، جہاں کپڑوں، جوتوں اور الیکٹرانکس کا بڑا کاروبار ہوتا ہے۔
اس بڑے کاروباری مرکز میں جہاں مردوں کا راج ہے، وہاں سومیا خلیل کی موجودگی ایک سماجی تبدیلی کی علامت ہے۔
مستقبل کی امید
سومیا خلیل جہاں اپنی تعلیم مکمل کررہی ہیں، وہیں وہ اس کاروبار کے ذریعے اپنے خاندان کی کفالت بھی کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ ان تمام خواتین کے لیے ایک مثال بننا چاہتی ہیں جو حالات سے مجبور ہو کر ہمت ہار بیٹھتی ہیں۔
ان کے مطابق اگر نیت صاف ہو اور ہمت جوان، تو پشاور جیسے روایتی شہر میں بھی ایک خاتون باوقار طریقے سے اپنا کاروبار چلا سکتی ہے۔ مزید جانیے مصباح الدین کی اس رپورٹ میں۔












