محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ راولپنڈی میں 9 تاریخ کو ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے جلسے کے حوالے سے ان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔
اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے مذکورہ جلسے میں شرکت نہ کرنے عندیہ دیا۔
’کسی ایسے احتجاج کی حمایت نہیں کریں گے جس میں لوگوں کے بچے مارے جائیں تاہم عمران خان کو مائنس کرنے کی ہر کوشش پر مزاحمت کی جائے گی۔‘
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کا لیاقت باغ میں جلسے کا اعلان، کیا اندرونی اختلافات کی موجودگی میں یہ ممکن ہوسکے گا؟
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے صوبائی حکومت یا وزیراعلیٰ کی جانب سے بھی ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔
محمود خان اچکزئی کے مطابق عمران خان نے خود اپنی جماعت کو ہدایت دے رکھی ہے کہ جہاں جلسے کے لیے این او سی نہ ملے وہاں اجتماع نہ کیا جائے۔
ان کا مؤقف تھا کہ اطلاعات کے مطابق راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے کے لیے ابھی تک این او سی جاری نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: لکھ کر دیتا ہوں کہ نہ پی ٹی آئی 9 اپریل کو جلسہ کرے گی نہ اس میں جلسہ کرنے کی صلاحیت ہے، شیر افضل مروت
انہوں نے مزید کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا گیا ہے جس میں اس صورتحال پر باقاعدہ مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گ۔
تاہم ان کے لہجے سے یہ تاثر ملا کہ وہ اس جلسے میں شرکت کے حق میں نہیں ہیں۔
دوسری جانب محمود خان اچکزئی نے عمران خان کو سیاسی منظرنامے سے مائنس کرنے کی کسی بھی کوشش کی سخت مخالفت کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ چاہے ایسا فیصلہ پارٹی کے اندر سے ہی کیوں نہ آئے، وہ نہ صرف اس کی مذمت کریں گے بلکہ بھرپور مزاحمت بھی کریں گے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا اسلام آباد میں جلسہ، 5 مرتبہ کب اور کیوں منسوخ ہوتا رہا؟
ان کے مطابق انہیں پاکستان تحریک انصاف کے اندر سے بھی ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ عمران خان کو الگ کرنے کی کوششیں ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ پی ٹی آئی اہم فیصلے مشاورت کے بغیر کر رہی ہے جس سے اتحادیوں میں بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر کل ہونے والا اجلاس اہم فیصلوں کا تعین کرے گا۔













