پاکستان کی کامیاب ثالثی کے بعد بھارت میں افسوس و مایوسی کا ماحول چھا گیا۔ بھارتی تجزیہ کاروں اور عوام نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شہرت کو سراہا اور پاکستان کی سفارتی کامیابی پر تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے جبکہ اسی دوران بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
اشوک سوائن لکھتے ہیں کہ پاکستان کی کامیاب ثالثی نے ثابت کر دیا ہے کہ نہ صرف اسے امریکا اور ایران کا اعتماد حاصل ہے بلکہ چین کا بھی اس پر اعتماد ہے۔ مودی پاکستان کو عالمی تنہائی میں لے جانا چاہتے تھے لیکن اس کے برعکس انہوں نے بھارت کو ہی بین الاقوامی طور پر الگ تھلگ کر دیا ہے۔
Pakistan’s successful negotiations of a ceasefire shows not only it has trust of the US and Iran but it has also the trust of China. Modi wanted to isolate Pakistan internationally, instead he has isolated India.
— Ashok Swain (@ashoswai) April 8, 2026
بھارتی صارف ابھیجیت مشرا نے شہباز شریف اور عاصم منیر کو اس جنگ بندی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ثالثی صرف مہارت نہیں بلکہ بڑی ہمت اور خطرہ مول لینے کی صلاحیت بھی مانگتی ہے اور پاکستان نے دونوں دکھا دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کبھی کم نہ سمجھیں۔
My personal congratulations to Shehbaz Sharif & Asim Munir for the ceasefire. Mediation requires skill, but also a high risk taking appetite. Pakistan pulled both off. Like I said, never underestimate Pakistan, despite their propensity to titillate.
— Abhijit Iyer-Mitra (@Iyervval) April 8, 2026
بھارتی صارف دشیانت اروڑا نے مودی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’پاکستان نے جنگ رکوا دی پاپا‘۔
Padosi ne war rukwa di papa.
— Dushyant Arora (@atti_cus) April 8, 2026
اتل نامی صارف نے لکھا کہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اپنی زندگی میں یہ ٹویٹ کروں گا لیکن دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان کا شکریہ۔
I thought I would never tweet this in my life but – Thank you Pakistan for brokering world peace ✌️ 🙏
— Atul Khatri (@one_by_two) April 8, 2026
تیجسوی لکھتی ہیں کہ ایک بھارتی کے طور پر میں پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس نے ثالثی کا کردار ادا کیا، دنیا اور بھارت دونوں کو تیسری عالمی جنگ کے خطرے سے بچایا جبکہ بھارت مودی کی قیادت میں مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے تھا۔
As an Indian, I thank Pakistan for stepping up as mediator when India was completely silent under Modi and saving the world, including India, from World War 3.
Modi's warmongering and weak diplomacy failed us badly.
It's time for real leadership, Rahul Gandhi as PM! 🇮🇳🙏
— Tejasswi Prakash (@Tiju0Prakash) April 8, 2026
ایک اور بھارتی صارف نے کہا کہ بھارت ’پاپا ہم نے جنگ روک دی‘ جیسے جعلی پروپیگنڈے میں مصروف تھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جنگ روکنے والا پاکستان ہی ہےاور جو لوگ اس جعلی پروپیگنڈے کے پیچھے تھے ان سے اب کوئی پوچھ بھی نہیں رہا۔
अब कंगला पाकिस्तान वॉर रुकवा रहा है. सोचिए.. ये बात हमारे लिए कितनी शर्मनाक है.
हमने पाकिस्तान को इतना आगे बढ़ने दिया. कूटनीति के तौर पर ये हमारी सरकार की विफलता है.
हम 'वॉर रुकवा दी पापा' जैसे फर्जी प्रचार में लगे रहे, और असल में वॉर रुकवाने का काम कंगला देश कर रहा है.
और जो…
— Ranvijay Singh (@ranvijaylive) April 8, 2026
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جنگ بندی کے اعلان پر پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات چیت کے بعد جنگ بندی کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ ایران کے خلاف طے شدہ حملے کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے پر آمادہ ہیں، بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور محفوظ طریقے سے کھول دے۔














