لیبیا کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی الٹنے کے افسوسناک واقعے میں کم از کم 6 پاکستانیوں سمیت درجنوں افراد کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے بعد خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں کہرام مچ گیا۔
یہ بھی پڑھیں:لیبیا کشتی حادثہ: انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹ گرفتار
میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ کشتی تقریباً 115 مسافروں کو لے کر یورپ جانے کے لیے بحیرہ روم کے راستے پر رواں دواں تھی کہ 5 اپریل کو اچانک الٹ گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق صرف 30 کے قریب افراد کو بچایا جا سکا جبکہ 70 سے زائد افراد کے ڈوبنے کا خدشہ ہے۔ پاکستانی جاں بحق افراد کی حتمی تعداد تاحال سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
73 migrants are feared dead after a migrant boat capsized off the Libyan coast on Saturday morning.
2 bodies have been found and 71 are missing.
The 32 survivors, mostly adult males from Pakistan, Bangladesh and Egypt reached Italy by Sunday pic.twitter.com/uJXFguRiNN
— Visegrád 24 (@visegrad24) April 6, 2026
متاثرہ خاندانوں کے مطابق جاں بحق افراد میں باجوڑ کے رہائشی نوجوان شامل ہیں جو بہتر مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی راستوں سے یورپ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایک جاں بحق شخص ندیم خان کے عزیزوں نے بتایا کہ کشتی ڈوبنے کے دوران شدید لہروں نے انہیں بہا دیا۔ دیگر متاثرین میں ولی خان اور حمزہ خان کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق گجرات سے تعلق رکھنے والے مزید پاکستانیوں کے بھی جاں بحق ہونے کا خدشہ ہے، تاہم حکام کی جانب سے تاحال مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ لاشوں کی وطن واپسی میں 15 سے 20 دن لگ سکتے ہیں۔














