امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکا اپنی فوجی موجودگی ایران کے اطراف برقرار رکھے گا جب تک کسی حتمی معاہدے پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو جاتا۔
سوشل پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحری جہاز، طیارے اور فوجی اہلکار اضافی اسلحہ اور وسائل کے ساتھ ایران کے قریب تعینات رہیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدے پر عمل نہ ہوا تو شدید اور پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور کارروائی کی جائے گی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ماضی میں طے شدہ اصول کے مطابق ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلا اور محفوظ رکھا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج مکمل تیاری کے ساتھ موجود ہے اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ’امریکا واپس آ گیا ہے‘، جو ان کے جارحانہ اور واضح پیغام کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جنگ بندی کا فیصلہ پاکستان کی درخواست پر کیا گیا، صدر ٹرمپ
ٹرمپ نے میڈیا پر بھی کڑی تنقید کی، خاص طور پر نیویارک ٹائمز اور سی این این پر، جنہوں نے ایران مذاکرات کے بارے میں ایک دس نکاتی منصوبہ رپورٹ کیا تھا جسے صدر نے مکمل جھوٹ اور عوام کو گمراہ کرنے والا قرار دیا۔ انہوں نے اسے “ایول لوزرز” کہہ کر مسترد کیا اور امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کا عزم دہرایا۔
ساتھ ہی صدر نے نیٹو پر بھی تنقید کی اور کہا کہ گرین لینڈ کے معاملے میں نیٹو نے ضرورت کے وقت مدد نہیں کی اور آئندہ بھی نہیں کرے گا۔ صدر کے یہ بیانات امریکی خارجہ پالیسی اور ایران کے ساتھ کشیدگی کے حوالے سے عالمی سطح پر دوبارہ توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔














