دنیا میں گاڑیوں کی تاریخ عجیب و غریب ایجادات سے بھری ہوئی ہے اور انہی میں سے ایک منفرد ایجاد آکٹو آٹو بھی ہے جو 8 پہیوں والی ایک غیر معمولی گاڑی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ’بڑے بچوں‘ کے کھلونے: منی اسپورٹس کاریں اصل ماڈل جتنی مزیدار
یہ گاڑی امریکی موجد ملٹن ریوز نے سنہ 1911 میں تیار کی۔ اس زمانے میں سڑکیں خراب اور گاڑیوں کا سسپنشن کمزور ہوتا تھا جس کی وجہ سے سفر انتہائی غیر آرام دہ ہوتا تھا۔ اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے ریوز نے ایک منفرد خیال پیش کیا۔
8 پہیوں کا حیران کن ڈیزائن
ریوز نے ٹرین کے نظام سے متاثر ہو کر گاڑی میں پہیوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
آکٹو آٹو میں کل 8 پہیے تھے،4 ایکسل استعمال کیے گئے یعنی اگلے حصے میں اسٹیئرنگ کے لیے 2 ایکسل تھے اور پچھلے حصے میں بھی اضافی پہیے لگائے گئے۔
مزید پڑھیے: فیریئر ہال میں قدیم گاڑیوں کی بہار، 102 سالہ رولز رائس توجہ کا مرکز
اس ڈیزائن کا مقصد وزن کو برابر تقسیم کرنا تھا تاکہ جھٹکے کم ہوں اور سفر زیادہ ہموار ہو۔
دنیا کی سب سے آرام دہ گاڑی
ملٹن ریوز کا دعویٰ تھا کہ یہ گاڑی جھٹکوں کو کم کرتی ہے، ٹائروں کی عمر بڑھاتی ہے اور سفر کو نہایت آرام دہ بناتی ہے۔ اسی لیے اسے اس وقت دنیا کی سب سے آرام دہ گاڑی کہا گیا۔
مقبولیت تو ملی، کامیابی نہیں
یہ منفرد گاڑی سنہ 1922 میں انڈیاناپولس 500 ریس کے موقعے پر پیش کی گئی جہاں اس نے لوگوں کی بھرپور توجہ حاصل کی۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں سوزوکی بولان کا باب بند، منی وین کا متبادل کیا؟
لیکن قیمت اس کی بہت زیادہ تھی (تقریباً 3200 ڈالر) اورعام گاڑیوں کے مقابلے میں مہنگی تھی جبکہ چلانے میں بھی مشکل تھی۔ اسی وجہ سے وہ گاڑی مارکیٹ میں کامیاب نہ ہو سکی۔
تاریخ میں ایک منفرد مثال
اگرچہ آکٹو آٹو تجارتی طور پر کامیاب نہیں ہوئی لیکن آج بھی اسے دنیا کی سب سے عجیب اور جرات مندانہ گاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔














