بنگلہ دیش کے ضلع کوشتیا کے علاقے دولت پور میں ایک درگاہ پر مشتعل ہجوم کے حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 2 افراد شدید زخمی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں ذخیرہ اندوزی کیخلاف بڑا کریک ڈاؤن، ہزاروں لیٹر ایندھن برآمد
پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق واقعہ ہفتے کے روز دوپہر کے وقت پیش آیا جب ہزاروں افراد نے فلپ نگر کے علاقے میں واقع درگاہ کا گھیراؤ کیا اور اچانک حملہ کر دیا۔
واقعے کی تفصیل
ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت 65 سالہ عبد الرحمان شمیم کے نام سے ہوئی ہے جو مقامی دربار شریف چلاتے تھے۔
اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ان پر مبینہ طور پر قرآن پاک سے متعلق توہین آمیز ریمارکس دینے کا الزام لگایا گیا جس کے بعد علاقے میں شدید غصہ پھیل گیا۔
مزید پڑھیے: روسی تیل کی ریفائننگ کے لیے بنگلہ دیش کا بھارت سے معاہدہ متوقع
مشتعل افراد نے درگاہ کی عمارت کو نقصان پہنچایا اور کچھ حصوں کو آگ بھی لگا دی۔
ہجوم کا حملہ اور ریسکیو
عینی شاہدین کے مطابق سینکڑوں افراد نے درگاہ کو گھیر کر حملہ کیا اور اندر موجود افراد پر تشدد کیا۔
عبد الرحمان شمیم اور ان کے 2 ساتھیوں کو پولیس اور فائر سروس نے زخمی حالت میں ریسکیو کر کے قریبی اسپتال منتقل کیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
پولیس کا مؤقف
پولیس کے مطابق صورتحال بعد میں قابو میں آ گئی تاہم علاقے میں کشیدگی برقرار رہی۔
اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ مزید ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔
حکام نے کہا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: بھارت کا بنگلہ دیش سے غیرقانونی آمدورفت روکنے کے لیے سرحدی علاقوں میں سانپ اور مگرمچھ چھوڑنے پر غور
یہ واقعہ بنگلہ دیش میں توہینِ مذہب کے الزامات کے بعد پیدا ہونے والے ہجوم کے تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک اور مثال ہے جہاں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی معلومات اکثر فوری ردعمل اور پرتشدد واقعات کا سبب بنتی ہیں۔














