روسی تیل کی ریفائننگ کے لیے بنگلہ دیش کا بھارت سے معاہدہ متوقع

جمعہ 10 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش نے توانائی کی فراہمی کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر خام تیل کے ذرائع میں تنوع لانے کے لیے بھارت اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدوں کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

ان معاہدوں کے تحت بیرونِ ملک خام تیل ریفائن کر کے تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات بنگلہ دیش کو فراہم کی جائیں گی۔

حکام کے مطابق ڈھاکہ حکومت بھارت کے ساتھ ‘حکومت سے حکومت’ کی بنیادوں پر ایک معاہدہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے تحت روسی خام تیل درآمد کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: چٹاگانگ ہِل ٹریکٹس میں دیرپا امن کے لیے نئی پیشرفت کا عندیہ

اسے بھارتی ریفائنریوں میں صاف کیا جائے گا اور پھر تیار شدہ مصنوعات کی صورت میں بنگلہ دیش کو واپس بھیجا جائے گا۔

اس پورے عمل کے اخراجات، جن میں درآمد، ریفائننگ اور ترسیل شامل ہیں، بنگلہ دیش خود برداشت کرے گا۔

ڈھاکہ سے شائع ہونے والے روزنامہ دی بزنس اسٹینڈرڈ کے مطابق یہ اقدام عالمی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے تناظر میں کیا جا رہا ہے۔

https://x.com/ReutersAsia/status/2041958115961094457

خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور ایل این جی کی ترسیل میں رکاوٹوں کے بعد، جو ایران سے متعلق کشیدگی کے باعث عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔

دوسری جانب، بنگلہ دیش متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی تعاون بڑھانے پر غور کر رہا ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کے خام تیل کو ریفائن کیا جا سکے اور ایل پی جی سمیت دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں اضافہ کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ ایل پی جی ٹرمینلز کے قیام کی منصوبہ بندی بھی زیرِ غور ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیشی کارکنوں کے لیے ملائیشیا کے دروازے دوبارہ کھلنے کو تیار

توانائی کے شعبے سے وابستہ حکام کے مطابق یہ دو رخی حکمتِ عملی دراصل ایک وسیع پالیسی تبدیلی کا حصہ ہے، جس کا مقصد کسی ایک خطے پر انحصار کم کرنا اور ملک میں ریفائننگ کی محدود صلاحیت کے مسئلے کو حل کرنا ہے۔

بنگلہ دیش کی واحد سرکاری ریفائنری بھاری خام تیل، جیسے روسی تیل، کو مؤثر طریقے سے پراسیس کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، جس کے باعث ملک کو تیار شدہ ایندھن درآمد کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روسی خام تیل سے متعلق کسی بھی معاہدے کو قلیل مدتی رکھنا چاہیے، کیونکہ عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال اور قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ کے خطرات موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: آئینی اصلاحات کی شقیں منسوخ کرنے پر حزب اختلاف نے احتجاج کی دھمکی دیدی

تجزیہ کاروں نے کسی ایک سپلائر پر زیادہ انحصار سے بھی خبردار کیا ہے، کیونکہ جغرافیائی سیاسی تنازعات سپلائی چین کو متاثر کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش پہلے ہی طویل مدتی معاہدے کے تحت سرحد پار پائپ لائن کے ذریعے بھارت سے ڈیزل درآمد کر رہا ہے۔

حکام کا خیال ہے کہ اس تعاون کو مزید وسعت دینے سے نہ صرف توانائی کی فراہمی مستحکم ہو گی بلکہ زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بھی کم ہو گا۔

ادھر متحدہ عرب امارات کی پیشکش کا جائزہ لینے کے لیے ایک تکنیکی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جو اس منصوبے کے مالی اور لاجسٹک پہلوؤں کا تفصیلی تجزیہ کرے گی تاکہ طویل مدتی توانائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا ٹام ہالینڈ ہمیشہ کے لیے اسپائیڈر مین کو الوداع کہنے والے ہیں؟

وزیراعظم نے ورلڈ بینک کی مالیاتی رپورٹ کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کر دی

ترک اپوزیشن پارٹی کے میئر اردال بشکچی اوغلو کرپشن کے الزام میں گرفتار

پاکستان کو وار رسک انشورنس فہرست سے نکالنے کا فیصلہ، اسحاق ڈار کا خیرمقدم

لائیودہشتگردوں کے لیے اب کوئی رعایت نہیں، یا ہتھیار ڈالیں یا آپریشن کا سامنا کریں، ڈی جی آئی ایس پی آر

ویڈیو

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

فون گرو فارم خانیوال: جدید زراعت اور لائیو اسٹاک کی ترقی کا ایک مثالی ماڈل

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘