’کراچی میں رہنا پیرس میں رہنے جیسا ہے‘، شرمیلا فاروقی کے بیان پر صارفین کا دلچسپ ردعمل

منگل 14 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے کراچی کو پیرس سے تشبیہ دے دی ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں رہنا ایسا ہے جیسے پیرس میں رہ رہے ہوں۔

شرمیلا فاروقی نے حال ہی میں شرمیلا فاروقی نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں شرکت کی جہاں میزبان کی جانب سے مختلف ہلکے پھلکے سوالات پوچھے گئے۔ اسی سیگمنٹ کے دوران ان سے خالی جگہ پر کرنے کا سوال کیا گیا کہ ’کراچی میں رہنا ایسا ہے جیسے۔۔۔‘

اس سوال کے جواب میں شرمیلا فاروقی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’کراچی میں رہنا ایسا ہے جیسے پیرس میں رہنا‘۔ ان کے اس جواب پر پروگرام میں موجود سابق کرکٹرز، میزبان اور دیگر شرکاء نے تالیاں بجائیں اور ماحول خوشگوار ہوگیا۔

تاہم یہ بیان سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل کا باعث بھی بنا۔ بعض صارفین نے اس پر تنقیدی تبصرے کیے اور طنزیہ انداز میں کہا کہ اس تشبیہ کے بجائے اسے یوں کہنا چاہیے تھا کہ کراچی میں رہنا ایسے ہی ہے جیسے جنت میں رہنا۔

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ برسات میں کراچی کی سیر کو آئیں آپ کو وینس کا نظارہ ملے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

شادی کی تقریب میں جنرل (ر) باجوہ سے بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر کی ملاقات نے نئی بحث چھیڑ دی

خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر محکمہ خزانہ کو کیا اعتراضات ہیں؟

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا