اسرائیل کا مسئلہ کیا ہے؟

منگل 21 اپریل 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل نے جس طرح انسانیت کو گھائل کیا ہے، لگتا ہے امور ریاست جرائم پیشہ پاگلوں کے ہاتھ میں آ گئے ہیں ۔ سوال اب یہ ہے کہ اسرائیل اس قدر سفاک کیوں ہے؟ کیا اس کا ذمہ دار صرف نیتن یاہو ہے جو انسانی اوصاف سے محروم ایک مجرمانہ ذہنیت کا شخص ہے یا پھر اسرائیلی معاشرے کی تربیت ہی اسی انداز سے ہوئی ہے کہ یہ انسانوں کی طرح سوچنےاور انسانوں کی طرح برتاؤ کرنے کے قابل ہی نہیں رہا؟

اس سوال کا درست جواب ، میں یا آپ نہیں دے سکتے۔ یہ جواب ہبریو یونیورسٹی آف یروشلم کے سابق پروفیسر اسرائیل شحاک جیسا کوئی شخص دے سکتا ہے جو اسرائیلی معاشرے کی فکری بنیاد سے خوب واقف ہو ۔ پروفیسر اسرائیل شحاک کوئی عام اسرائیلی نہیں، وہ ان یہودیوں میں شامل تھے جو ہولوکاسٹ میں بچ گئے اور فلسطین لا کر آباد کر دیے گئے۔ وہ گویا روز اول سے واقف حال ہیں۔

ان کی کتاب ’جیوش ہسٹری، جیوش ریلیجن، دی ویٹ آف تھری تھاؤزنڈ ایئرز‘ کے مطالعے سے اس سوال کا جواب تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کا دیباچہ ایڈورڈ سعید نے لکھا تھا جن کا اپنا تعلق فلسطین سے تھا۔ ویسے تو یہ ساری کتاب ہی اس قابل ہے کہ اہتمام سے پڑھی جائے، موضوع کی مناسبت سے اس کتاب کے صرف دو اقتباسات یہاں نقل کر رہا ہوں۔

وہ صفحہ 24 پر لکھتے ہیں کہ ’اسرائیل میں ہم یہودی بچوں کو یہ پڑھاتے ہیں کہ جب کبھی یہودی قبرستان کے پاس سے گزرو تو مرحومین کے لیے اچھے کلمات ادا کرو لیکن اگر تم کسی ایسے قبرستان کے پاس سے گزرو جو یہودی نہ ہو (مسلمان ہو) تو اچھے کلمات ادا نہ کرو بلکہ مرنے والوں کو ماں کی گالی دے کر گزرو۔‘

وہ لکھتے ہیں کہ ہمیں پڑھایا جاتا ہے کہ کسی غیر یہودی انسان کی جان بچانا ہمارے لیے منع ہے۔ وہ اگر ڈوب کر مر رہا ہو تو ڈوبنے دو۔ ہمیں پڑھایا جاتا ہے کہ غیر یہودی کو دھوکا دینا کوئی جرم نہیں۔ غیر یہودی کا قتل بھی کوئی جرم نہیں جس پر کسی یہودی کو سزا دی جا سکے۔ کوئی یہودی ڈاکٹر کسی غیر یہودی کا علاج نہ کرے بھلے وہ مر جائے، ہاں البتہ اگر اس کے جواب میں غیر یہودیوں کے رد عمل کا ڈر ہو تو علاج کیا جا سکتا ہے۔

اسرائیل شحاک اپنی کتاب کے صفحہ 76 پر اسرائیل فوج کے سنٹرل ریجن کمانڈ کی جانب سے شائع ہونے والے پمفلٹ سے ایک اقتباس نقل کرتے ہیں جس میں ملٹری کمانڈ کی طرف سے مغربی کنارے میں اپنی افواج کو ہدایات جا ری کی گئی تھیں۔ یہ حکم نامہ پڑھنے کی چیز ہے۔ اس میں لکھا ہے: ’جب ہماری افواج جنگ، تعاقب یا حملے کے دوران سویلینز کو سامنے پائیں اور یہ بات یقینی نہ ہو کہ یہ سویلین ہماری افواج کو نقصان پہنچانے کی کوئی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں، تب بھی ہلاک کے اصول کے تحت ان سویلینز کا قتل کیا جا سکتا ہے بلکہ انہیں لازمی طور پر قتل کیا جانا چاہیے۔ حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں کبھی بھی ایک عرب پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ بے شک وہ ایک مہذب شخص ہونے کا تاثر دے تب بھی اسے قتل کر دیا جائے۔ جنگ کے دوران ہماری افواج کو اجازت ہے بلکہ صرف اجازت ہی نہیں انہیں یہ حکم بھی دیا جاتا ہے کہ وہ اچھے شہریوں کو بھی قتل کر دیں۔ یعنی ان شہریں کو بھی جو بظاہر اچھے ہوں۔‘

اب اگر نصاب میں اور ملٹری اکیڈیمی میں یہ پڑھایا جا رہا ہو تو اس کے نتیجے میں بن گویر جیسے زومبی اور نیتن یاہو جیسے سفاک کردار پیدا نہیں ہوں گے تو اور کیا ہو گا؟

یقیناً ایسا نہیں ہے کہ اسرائیل کے تمام یہودی شہری ایک جیسی سوچ رکھتے ہوں، ان میں بہتر فکر کے حامل لوگ بھی موجود ہیں، لیکن سماج کا جو مجموعی فکری تعارف ہے وہ وہی ہے جس کا ذکر اسرائیل شحاک نے کیا اور جس کی اس وقت نمائندگی نیتن یاہو اور بن گویر کر رہے ہیں۔

اسرائیل کی یہی سماجی ساخت تھی جس کی وجہ سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1975 میں 35 کے مقابلے میں 7 ووٹوں سے یہ قرارداد پاس کی کہ صہیونیت نسل پرستی اور نسلی امتیاز کی ایک شکل ہے۔ بہت بعد میں یعنی 16 سال بعد جب فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات ہونے لگے تو اسرائیل کی درخواست ا ور امریکا کے دباؤ پر خیر سگالی کے طور پر اقوام متحدہ نے یہ قرارداد واپس لے لی۔

لیکن اس سے یہ حقیقت تو نہیں بدل سکتی کہ صہیونیت پہلے دن سے انسانیت دشمن تصور حیات کا نام ہے۔

اسرائیل کے سابق وزیراعظم مناکن بیگیم دہشتگرد تنظیم ارغون کے بانیوں میں سے تھے اور 1946 میں اینگلو امریکن کمیٹی آف انکوائری نے اسے دہشتگرد قرار دیا تھا۔

جب دیر یاسین میں فلسطینیوں کا قتل عام ہوا تو اس پر متعدد یہودی عمائدین نے مذمت کا ایک خط لکھا جو نیو یارک ٹائمز میں شائع ہوا۔ اس خط میں مناکم بیگیم کو سفاک، فاشسٹ اور دہشتگرد قرار دیا گیا۔ یاد رہے کہ اس خط پر آئن سٹائن کے دستخط بھی موجود تھے۔

جو بربریت اسرائیل اس وقت غزہ سے مغربی کنارے تک کر رہا ہے اور جس وحشت کے مناظر لبنان میں مسیحی برادری کے جذبات مجروح کرکے سامنے آ رہے ہیں، یہ شرمناک ضرور ہیں لیکن نئے نہیں۔ اسرائیل پہلے دن سے فلسطین میں یہی کام کر رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب کی بار کیمرے کی آنکھ نے سب کچھ دکھا دیا اور سوشل میڈیا کی وجہ سے میڈیا مینجمنٹ بھی نہیں ہو سکی۔

اپنی ایک اور کتاب Racism and the State of Israel کے صفحہ 152 پر اسرائیل شحاک لکھتے ہیں کہ اسرائیل کی سفاکی کا یہ عالم ہے کہ ’ہمیں اس بات پر قائل کرنے کے لیے کہ اسرائیل سے پہلے فلسطین تو ایک ویران اور متروک علاقہ تھا، گاؤں کے گاؤں تباہ کر دیے گئے، کنویں برباد کر دیے گئے اور ان کا نام و نشان مٹا دیا گیا، گھر مسمار کر دیے گئے تاکہ آبادی کا کوئی نشان نہ ملے، یہاں تک کہ قبرستان اور مقبرے بھی تباہ کرکے ان کا نشان مٹا دیا گیا۔‘

ایک اور اہم گواہی اسرائیلی مورخ بینی مورس کی ہے۔ یہ یہودی ہیں اور بن گوریان یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر رہ چکے ہیں اور یونیورسٹی آف کیمرج سے پی ایچ ڈی کر چکے ہیں۔ اپنی کتاب The birth of the Palestinian Refugee Problem Revisited میں انہوں نے وہ احوال بیان کردیا ہے کہ مسلمانوں پر کیا بیتی ا ور ان کی زمینیں کیسے ہتھیائی گئیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ اسرائیل کے قیام کے ایک سال کے اندر اندر فلسطینیوں سے 400 گاؤں خالی کرائے گئے، وہاں قتل عام کیا گیا، بلڈوزروں سے ان کے گھر مسمار کر دیے گئے اور انہیں وہاں سے بھگا کر وہاں قبضہ کر لیا گیا۔ یہ کام اسرائیلی فوج نے بھی کیا اور ان کے ساتھ صہیونی تنظیم Haganah کے لوگ بھی اور پڑوس میں یہودی آبادکار بھی اس عمل میں شریک تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ عمل اسرائیل کے قیام سے پہلے ہی جاری تھا اور اس میں صہیونیوں کو برطانوی معاونت بھی حاصل تھی اور یہ طے شدہ پالیسی تھی کہ عربوں کے گھر مسمار کر دینا ایک جائز عمل ہے۔

صہیونی دہشتگرد تنظیم Haganah کے بارے انہوں نے لکھا کہ اس کے پلان ڈی میں باقاعدہ یہ اصول درج تھا کہ عربوں کے گاؤں جلا کر راکھ کر دیے اور کچھ باقی نہ رہنے دیا جائے۔ collective destruction کو بطور پالیسی اختیار کیا گیا۔ اپریل کو حکم نامہ جاری کیا گیا کہ: To continue harassing and cleansing operations, we should blow up enemy bases.

اس کی وضاحت کرتے ہوئے بینی مورس لکھتے ہیں کہ جن بیسز کا ذکر کیا گیا ہے ان کا مطلب یہ تھا کہ گاؤں تباہ کر دیے جائیں۔ ان کے الفاظ ہیں: The bases referred to, of course, were villages.

یہاں یہ ذکر کر دینا مناسب ہوگا کہ بینی مورس نہ صرف اسرائیلی ہیں اور یہودی ہیں بلکہ وہ صہیونی بھی ہیں اور اس کا اعتراف وہ خود اسی کتاب میں کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ انہوں نے نظریاتی یا سیاسی بنیاد پر کچھ نہیں لکھا بلکہ وہ صرف یہ جاننا چاہتے تھے کہ ہوا کیا تھا؟ چنانچہ جو ہوا وہ انہوں نے بیان کر دیا اور گمان ہے کہ ابھی بھی پورا بیان نہیں کیا ہوگا۔

گولڈا مائر بھی اپنی افتاد طبع میں نیتن یاہو ہی تھی۔ اس کا کہنا تھا: فلسطینی عوام نام کی کوئی چیز اپنا وجود نہیں رکھتی۔ ایسا نہیں کہ ہم آئے اور ہم نے فلسطینیوں کو نکال دیا۔ بلکہ ایسا ہے کہ دنیا میں فلسطینی نام کی کوئی چیز کبھی تھی نہیں۔

معاملہ صرف نیتن یاہو کا نہیں ہے، برطانوی انتداب سے لے کر اب تک صہیونیت کا رویہ ایک جیسا ہی ہے۔ یہ اسرائیل کی پالیسی کا بنیادی اصول ہے کہ مسلمانوں کو جانور جتنے حقوق بھی نہیں دینے۔ جو کچھ ہو رہا ہے یہ اس فکری درندگی کا فطری نتیجہ ہے جو اسرائیل میں پڑھائی جاتی ہے اور جس کے روشنی میں وہاں کا معاشرہ تشکیل دیا گیا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ ہونے والا ہے؟

اسلام آباد میں دھماکا خیز مواد کی جھوٹی خبر، حکام نے افواہوں کو مسترد کردیا

معروف ہالی ووڈ اداکارہ کا انٹرویو میں ’انشاء اللہ‘ کا استعمال، سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی

پاک بحریہ کا تیمور ایئر لانچ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ، دفاعی صلاحیت میں اہم اضافہ

امریکی نائب صدر ابھی تک پاکستان کی طرف روانہ نہیں ہوئے، ذرائع

ویڈیو

لائیوایران امریکا جنگ بندی اختتام کے قریب، مذاکرات بحال ہونے کی امید، تہران کے مثبت اشارے

لائیوجے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد ایران سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہوگیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

کالم / تجزیہ

علامہ اقبال اور پاکستان پوسٹ

ایک اور ایک گیارہ سے نو دو گیارہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن