امریکا کے معروف بینک کیپیٹل ون نے اپنے صارفین کے ساتھ 42 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے بڑے تصفیے پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے تحت لاکھوں موجودہ اور سابق اکاؤنٹ ہولڈرز کو ادائیگیاں کی جائیں گی۔
یہ مقدمہ بینک کے ’360 سیونگز‘ اکاؤنٹس سے متعلق تھا، جس میں الزام لگایا گیا کہ کمپنی نے اپنے پرانے سیونگز اکاؤنٹس کو ’360 پرفارمنس سیونگز‘ میں منتقل کرنے کے عمل میں صارفین کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا۔
رپورٹس کے مطابق 2019 میں متعارف کرایا گیا ’360 پرفارمنس سیونگز‘ اکاؤنٹ نسبتاً زیادہ شرحِ سود فراہم کرتا تھا، تاہم بینک نے اپنے پرانے صارفین کو خودکار طور پر اس نئے نظام میں منتقل نہیں کیا، جس کے باعث وہ کم شرحِ سود پر ہی قائم رہے۔
قانونی فرم Wolf Popper LLP کے مطابق، اس عمل نے صارفین کو گمراہ کیا اور انہیں سود کی مد میں لاکھوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ اکاؤنٹس کے ناموں میں مماثلت کے باعث بھی صارفین میں الجھن پیدا ہوئی، جس سے وہ بہتر منافع سے محروم رہے۔
یہ طویل قانونی جنگ بالآخر ڈیوڈ نوواک، جج برائے مشرقی ضلع ورجینیا، کی منظوری سے اختتام پذیر ہوئی۔ اس سے قبل بینک کی جانب سے 30 کروڑ ڈالر کی ابتدائی پیشکش مسترد کر دی گئی تھی کیونکہ اسے ناکافی قرار دیا گیا تھا۔
نیا تصفیہ کیا ہے؟
نئے معاہدے کے تحت وہ تمام صارفین ادائیگی کے اہل ہوں گے جن کے پاس ستمبر 2019 سے جون 2025 کے درمیان ’360 سیونگز‘ اکاؤنٹس تھے۔
بینک نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ وہ پرانے اکاؤنٹس کی شرحِ سود کو بڑھا کر ’360 پرفارمنس سیونگز‘ کے برابر کرے گا۔ مزید یہ کہ دونوں اقسام کے اکاؤنٹس کو کم از کم دو سال تک برقرار رکھا جائے گا تاکہ صارفین کو دوبارہ کم منافع والے درجے میں منتقل نہ کیا جا سکے۔
کون اہل ہے اور رقم کیسے ملے گی؟
عدالتی فیصلے کے مطابق تمام متاثرہ صارفین خودکار طور پر اس ادائیگی کے اہل ہوں گے۔
ادائیگی صرف مرکزی اکاؤنٹ ہولڈر کو کی جائے گی۔
صارفین کو کوئی علیحدہ درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
اگر رقم 5 ڈالر یا اس سے زیادہ ہوئی تو چیک بذریعہ ڈاک آخری معلوم پتے پر بھیجا جائے گا۔
الیکٹرانک ادائیگی حاصل کرنے کی سہولت 30 مارچ تک دستیاب تھی، جو اب بند ہو چکی ہے۔












