کیا مصنوعی ذہانت ہمیں آنے والے عالمی بحرانوں سے پہلے خبردار کر کے جنگوں اور تباہیوں کو روک سکتی ہے؟

جمعرات 23 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا میں آنے والے بڑے عالمی بحران اکثر اچانک نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے واقعات کے تسلسل سے جنم لیتے ہیں لیکن یہ اندازہ لگانا کہ کب اور کہاں یہ واقعات ایک بڑے بحران میں تبدیل ہوں گے یہ اندازہ لگانا مشکل سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اب ماہرین کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی شاید اس مسئلے کا حل بن سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا اے آئی جمہوری نظام کے لیے بھی خطرہ ثابت ہوسکتی ہے؟

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق تاریخی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ بظاہر معمولی واقعات بھی بڑے عالمی نتائج کا سبب بن سکتے ہیں۔ جیسے سنہ 1618 میں پراگ میں ایک واقعہ جس نے بعد میں تباہ کن تھرٹی ایئرز وار کو جنم دیا، یا سنہ 1989 میں مشرقی جرمنی کے ایک اہلکار کے غلط بیان نے برلن وال کے گرنے میں کردار ادا کیا۔

ماہرین کے مطابق ایسے واقعات کے پیچھے پہلے سے کئی انتباہی اشارے موجود ہوتے ہیں مگر اصل چیلنج یہ ہوتا ہے کہ کس چھوٹے واقعے سے بڑا بحران جنم لے گا۔

اس حوالے سے مختلف محققین، جیسے آکسفورڈ یونیورسٹی کے عالمی تاریخ لیب میں کام کرنے والے پروفیسر پیٹر ٹرچن اور ان کی ٹیم، ہزاروں تاریخی ڈیٹا سیٹس کا تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ بحرانوں کے پیٹرن سمجھ سکیں۔

ان کے مطابق انقلاب عموماً اس وقت جنم لیتے ہیں جب معاشی بحران، حکومتی کمزوری اور اشرافیہ کے درمیان مقابلہ ایک ساتھ بڑھ جاتا ہے۔

مزید پڑھیے: اے آئی ماڈلز کا حیران کن رویہ، ایک دوسرے کو بند ہونے سے بچانے لگے

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اے آئی اور مشین لرننگ ان ماڈلز کو مزید بہتر بنا سکتی ہے تاکہ ممکنہ بحرانوں کی پیشگوئی کی جا سکے تاہم کچھ ماہرین اس خیال سے متفق نہیں۔

ایلن ٹورنگ انسٹیٹیوٹ برطانیہ کا ایک قومی ادارہ ہے جو ڈیٹا سائنس اور مصنوعی ذہانت پر تحقیق کرتا ہے۔ اس کی ماہر اینا نیک کے مطابق موجودہ دور میں مکمل طور پر درست پیشگوئی کرنا مشکل ہے کیونکہ عالمی ڈیٹا بکھرا ہوا ہے اور اکثر معلومات خفیہ یا نامکمل ہوتی ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا ایف آئی اے کی جدید اے آئی ٹیکنالوجی مجرموں کو پکڑنے میں مدد دے گی؟

دوسری جانب اقوام متحدہ اور مختلف ادارے پہلے ہی اے آئی کو ابتدائی وارننگ سسٹمز اور بحران کے بعد اثرات جانچنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں جیسے زلزلوں اور تنازعات کے اثرات کا اندازہ لگانا۔

مالیاتی شعبے میں بھی اے آئی کے ذریعے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اگر کوئی بڑا مالی بحران آئے تو سب سے زیادہ نقصان کس کو ہوگا۔

اگرچہ کچھ تجربات حوصلہ افزا ہیں جبکہ ماہرین متفق ہیں کہ ابھی اے آئی مکمل طور پر قابل اعتماد نہیں کہ وہ عالمی بحرانوں کی درست پیشگوئی کر سکے۔

یہ بھی پڑھیے: مترجم آپ کی ناک پر، اے آئی عینک کا نیا کمال

رپورٹ کے مطابق مستقبل میں ممکن ہے کہ اے آئی انسانی ماہرین کے ساتھ مل کر عالمی خطرات کو بہتر سمجھنے اور ان کے اثرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے لیکن فی الحال یہ ایک ترقی پذیر میدان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’کیا پراسیکیوٹر جنرل ملک کے بادشاہ ہیں؟‘ سانحہ بلدیہ کیس میں التوا مانگنے پر سپریم کورٹ کے سخت ریمارکس

سپریم کورٹ بار انتخابات، صدر سمیت اہم عہدوں کے امیدواروں کی عبوری فہرست جاری

جنوبی افریقہ کی ناوی پلے نے نوبیل امن انعام جیت لیا، بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے لیے خدمات کا اعتراف

پاکستان میں 5,241 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 3 لاکھ 17ہزار سے تجاوز کرگئی

بھارتی دارالحکومت دہلی قلعہ بن گیا، ہزاروں پولیس اہلکار تعینات، میٹرو اسٹیشنز اور شاہراہیں بند

ویڈیو

حیدرآباد: سڑکوں کی زبوں حالی اور بیڈ گورننس، اربوں روپے کہاں جا رہے ہیں اور مقامی مسائل کون حل کرے گا؟

پی ٹی آئی کے 13 سال، چارسدہ کا ایک سوال: ضلع صحت کی سہولیات سے محروم کیوں؟

لانگ مارچ کے دوران خیبرپختونخوا میں آٹے کے بحران کا خدشہ: قیمتیں آسمان پر، حکومتی اقدامات پر سوالات

کالم / تجزیہ

لیٹر باکس سے ان باکس تک

مودی حکومت، راہول اور جنریشن زی کا نیا سیاسی معرکہ

لانگ مارچ کی 12ویں برسی