ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت یا اے آئی کے خطرات اب صرف ادارہ جاتی نظاموں یا انسانی ذہنی صلاحیتوں تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ سیاسی میدان میں بھی عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مترجم آپ کی ناک پر، اے آئی عینک کا نیا کمال
نئی تحقیق کے مطابق انتہائی حقیقت سے قریب اے آئی پر مبنی ڈیجیٹل شخصیات مستقبل میں عوامی رائے تشکیل دینے اور جمہوری نظاموں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھ سکتی ہیں۔
ایک تحقیق میں ماہرین نے ایسے اے آئی پرسونا کے بڑھتے ہوئے خطرات پر روشنی ڈالی ہے جو انسانی رویے کی نقل کرتے ہوئے آن لائن کمیونٹیز میں مسلسل سرگرم رہتے ہیں سیاسی مباحث میں حصہ لیتے ہیں اور رائے عامہ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
یہ نظام عام چیٹ بوٹس سے مختلف ہیں کیونکہ یہ ہزاروں اکاؤنٹس کے ذریعے منظم انداز میں گفتگو کرتے ہیں، مختلف بیانیے تشکیل دیتے ہیں اور تیزی سے ردعمل دے کر مخصوص سوچ کو فروغ دیتے ہیں جس سے آن لائن ’ایکو چیمبرز‘ بن سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ اے آئی ایجنٹس بظاہر حقیقی صارفین جیسے دکھائی دیتے ہیں اور قدرتی انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف گفتگو میں قائل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ وقت کے ساتھ اپنی حکمتِ عملی بھی بہتر بناتے رہتے ہیں تاکہ سیاسی رائے کو کسی مخصوص سمت میں موڑا جا سکے۔
مزید پڑھیے: اے آئی ماڈلز کا حیران کن رویہ، ایک دوسرے کو بند ہونے سے بچانے لگے
یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے کمپیوٹر سائنسدان ڈاکٹر کیون لیٹن براؤن کے مطابق اے آئی سے تیار کردہ ڈیپ فیک مواد اور جعلی خبریں پہلے ہی مختلف ممالک جیسے امریکا، تائیوان، انڈونیشیا اور بھارت میں انتخابی بیانیوں پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال ہو چکی ہیں۔
ان کے مطابق یہ رجحان جمہوری معاشروں میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر لیٹن براؤن نے خبردار کیا کہ ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ معاشرہ ان تبدیلیوں سے غیر متاثر رہے گا۔
مزید پڑھیں: اے آئی کا استعمال کیوں کیا؟ نیویارک ٹائمز نے صحافی کو برخاست کردیا
ان کے مطابق ایک ممکنہ نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ سوشل میڈیا پر نامعلوم ذرائع پر اعتماد کم ہو جائے جس سے مشہور شخصیات کو زیادہ اثر و رسوخ ملے گا جبکہ گراس روٹ سے آنے والے پیغامات کے لیے جگہ مزید محدود ہو جائے گی۔














