میں برسوں سے یہ سوچ رہا تھا کہ میں خاندان میں ٹیکنالوجی کا ماہر ہوں، میں غلط تھا یہ کہنا ہے سابق صدر پاکستان ڈاکٹر علوی کے بیٹے عواب علوی کا، انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دیے گئے پیغام میں مزید کہا کہ جلاوطنی کے دوران، عارف علوی نے خود سے پائیتھون سیکھی اور اپنی زندگی، سیاست اور صدارت کے بارے میں بالکل شروع سے ایک سیلف ہوسٹڈ اور سیلف کمپائلڈ اے آئی آرکائیو تیار کیا ہے۔
پاکستان کے تیرہویں صدر ڈاکٹر عارف علوی جو ایوان صدر سے رخصتی کے بعد سیاسی اور قانونی بھنور میں پھنسے نظر آتے ہیں، عواب علوی کے سوشل میڈیا پیغام سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ وہ پاکستان میں نہیں ہیں، اور جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کہاں مقیم ہیں؟ یہ سوال ملک کے سیاسی حلقوں میں ایک معمہ بن چکا ہے۔ ایک طرف ان کے قریبی ذرائع اور پارٹی رہنماؤں کے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں، تو دوسری جانب ان کے خلاف قانونی گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے۔
موجودہ مقام، امریکا، وسط ایشیا یا کوئی گمنام گوشہ؟
ڈاکٹر عارف علوی کی موجودہ لوکیشن کے حوالے سے سیاسی منظرنامے پر تضادات کی دھول اڑ رہی ہے، بعض قریبی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سابق صدر مزید قانونی کارروائیوں اور گرفتاریوں سے بچنے کے لیے اس وقت امریکا میں مقیم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹیکنالوجی میں کمال مہارت، عارف علوی نے منفرد اے آئی آرکائیو تیار کرلیا
پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما فردوس شمیم نقوی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر عارف علوی اس وقت وسط ایشیا کے کسی ملک میں موجود ہیں۔ جبکہ پی ٹی آئی کراچی کے صدر راجہ اظہر نے تصدیق کی ہے کہ سابق صدر ملک میں نہیں ہیں، تاہم وہ ان کے درست مقام سے لاعلم ہیں۔ البتہ انہوں نے یہ واضح کیا کہ عارف علوی سیاسی طور پر بدستور متحرک ہیں اور ویڈیو لنک کے ذریعے مشاورتی اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کر رہے ہیں۔
سفر کی بندشیں اور سیکیورٹی خدشات
فردوس شمیم نقوی کے مطابق ڈاکٹر عارف علوی کی بیرون ملک موجودگی کی وجوہات محض قانونی نہیں بلکہ سیکیورٹی سے بھی وابستہ ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایک مذہبی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ مبینہ فتوے کے بعد پارٹی قیادت نے انہیں ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا۔ ٹی ایل پی پر پابندی اور حالیہ سیاسی تناؤ کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے خلاف متحرک ہو چکے ہیں۔ فردوس شمعیم نقوی کا مزید کہنا ہے کہ ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد ہیں اور بظاہر ان پر سفری پابندیاں بھی عائد ہیں۔
قانونی محاذ، ایک درجن سے زائد مقدمات اور استثنیٰ کی جنگ
صدارتی مدت ختم ہوتے ہی ڈاکٹر عارف علوی کو حاصل آئینی تحفظ کی ڈھال ہٹ گئی تھی، جس کے بعد وہ مقدمات کی زد میں ہیں۔ ان کے خلاف ملک بھر کے مختلف شہروں میں اشتعال انگیزی، دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور احتجاجی مظاہروں سے متعلق ایک درجن سے زائد ایف آئی آرز درج ہیں۔

عدالتی ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال میں سابق صدر خود عدالتوں میں پیش ہونے کے بجائے اپنے فرزند عواب علوی اور قانونی ٹیم کے ذریعے مقدمات کی پیروی کر رہے ہیں۔
آئینی ترمیم کا سہارا
فردوس شمعیم نقوی کے مطابق پی ٹی آئی نے عدالت میں ایک درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حالیہ ترمیم کے تحت صدر مملکت کو تاحیات استثنیٰ حاصل ہے۔ عدالت نے اس حساس نکتے پر فریقین سے جواب طلب کر رکھا ہے، جو ڈاکٹر علوی کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔
سیاسی میراث اور کراچی کا ناتہ
ایوانِ صدر سے رخصتی کے بعد ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے آبائی شہر کراچی کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا تھا۔ وہ پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے وکلا کنونشنز اور پریس کانفرنسز کے ذریعے اپنا بیانیہ پیش کرتے رہے ہیں۔ تاہم حالیہ پردہ نشینی نے ان کے سیاسی کردار اور قانونی مستقبل پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سابق صدر مملکت عارف علوی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست خارج
کیا ڈاکٹر عارف علوی دوبارہ عوامی منظر نامے پر ابھریں گے یا قانونی پیچیدگیاں انہیں طویل عرصے تک ملک سے باہر رہنے پر مجبور کر دیں گی؟ اس کا فیصلہ عدالت میں زیر سماعت استثنیٰ کیس کے نتیجے سے وابستہ ہے۔













