رقص کے عالمی دن کے موقع پر اسپاٹیفائی پاکستان سے متعلق دلچسپ حقائق سامنے لایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کلچر ڈے کی مناسبت سے تقریبات کا آغاز، کن فنکاروں نے فن کا مظاہرہ کیا؟
اعداد و شمار کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں لوگوں کی دھڑکن آج بھی بھنگڑے کی تھاپ پر چل رہی ہے۔ شادیوں کا سیزن ہو، کرکٹ کی جیت کا جشن، بسنت کی خوشیاں یا روزمرہ کی محفلیں ہوں، پاکستان میں رقص ہمیشہ خوشی اور پہچان کا ایک بھرپور اظہار رہا ہے لیکن اب ایسے مواقع پر بھنگڑا ایک نمایاں اور پسندیدہ انداز بنتا جا رہا ہے۔
گزشتہ 3 برسوں میں پاکستان میں بھنگڑے کے گانوں کی اسٹریمنگ میں 270 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے جس نے اسے ملک کی سب سے مقبول ڈانس صنف میں شامل کیا ہے۔
یہ اضافہ سامعین کی تعداد کے ساتھ ساتھ اسکے پھیلاؤ میں بھی سامنے آیا ہے۔ نئے سامعین کی تعداد میں تقریباً 350 فیصد اضافہ ہوا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ اس صنف کی موسیقی اب بڑے پیمانے پر لوگوں کو محظوظ کررہی ہے۔
یہ رجحان سامعین کے مزاج میں بھی نظر آتا ہے۔ اسپاٹیفائی کے صارفین کی جانب سے بنائی گئی ایسی پلے لسٹس، جن کے نام میں ’بھنگڑا‘ شامل ہے ان میں تقریباً 120 فیصد اضافہ ہوا ہے اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ لوگ اپنے طور پر بھی موسیقی کے اس انداز سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔
مزید پڑھیے: 5 پاؤنڈز کا عطیہ جیب میں ڈالنے کا معاملہ، ابرار الحق اور صحافی سفینہ خان کے درمیان تکرار کی ویڈیو وائرل
اس ثقافتی تحریک کا مرکز لاہور ہے جسے پاکستان کا ثقافتی دل کہا جاتا ہے۔ اب یہ شہر بھنگڑے کا بھی سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے۔ لاہور میں بھنگڑے کے گانوں کو 17 ملین سے زائد مرتبہ سنا گیا ہے۔ اس کے بعد اسلام آباد، کراچی، فیصل آباد اور راولپنڈی کا نمبر آتا ہے۔
بڑے شہروں کے علاوہ، دیگر علاقوں میں بھی بھنگڑے کی مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ گلگت میں اس صنف کے گیتوں کی ریکارڈ سماعت بڑھ کر 280 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھنگڑا صنف اب پنجاب سے باہر بھی اپنی جگہ بنا رہی ہے۔
شادیوں کے عروج کے سیزن (نومبر سے فروری) میں ابرار الحق کا مشہور گانا ’’نچ پنجابن‘ کو مرکزی اہمیت حاصل ہوئی اور یہ سب سے زیادہ اسٹریم شدہ پاکستانی بھنگڑا گیت رہا جس سے اس کلاسک گانے کی آج بھی بھرپور مقبولیت ظاہر ہوتی ہے۔
پاکستان میں موسیقی کے رجحانات روایت اور نئے انداز کا خوبصورت امتزاج ہیں جہاں پرانے گانے بھی بدستور زندہ ہیں اور نئی دھنیں بھی اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔ یہاں موسیقی صرف سنی نہیں جاتی بلکہ یہ زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: ابرارالحق معروف گلوکار ہنی سنگھ کو خاتون کیوں سمجھتے رہے؟
اسپاٹیفائی صارفین کو اپنے ذاتی نوعیت کے تجربات کے ذریعے یہ موقع فراہم کر رہا ہے کہ وہ اپنی ثقافت، خوشی اور شناخت کو اپنے انداز میں محسوس کریں اور ان لمحات کو یادگار بنائیں۔














