چین کے شمالی صوبے شانشی میں واقع کوئلہ کان میں گیس دھماکے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 90 ہو گئی ہے۔ چینی حکام کے مطابق حادثے کے وقت 247 مزدور کان کے اندر موجود تھے جبکہ امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ صدر شی جن پنگ نے زخمیوں کے علاج اور لاپتا افراد کی تلاش کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
چین کے شمالی صوبے شانشی میں واقع کوئلہ کان میں ہونے والے خوفناک گیس دھماکے میں ہلاک افراد کی تعداد بڑھ کر 90 ہو گئی ہے۔
چینی سرکاری ٹی وی سی سی ٹی وی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعے کی رات قینیوان کاؤنٹی میں واقع ’لیوشینیو کول مائن‘ میں پیش آیا۔
یہ بھی پڑھیے شمال مشرقی بھارت میں کوئلے کی کان میں دھماکا، 18 مزدور ہلاک
چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق دھماکے کے وقت کان کے اندر 247 مزدور ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔
صدر شی جن پنگ نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کے علاج اور ریسکیو آپریشن میں ’کوئی کسر نہ چھوڑی جائے‘۔
انہوں نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے مکمل تحقیقات اور قانون کے مطابق سخت احتساب کا بھی حکم دیا۔
چینی وزیراعظم لی چیانگ نے بھی صدر کی ہدایات کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ حادثے سے متعلق معلومات بروقت اور درست انداز میں عوام تک پہنچائی جائیں اور ذمہ داروں کا سخت محاسبہ کیا جائے۔
قینیوان کی مقامی ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں جبکہ دھماکے کی وجوہات کی تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے ایران میں کوئلے کی کان میں دھماکا، 50 سے زائد افراد جاں بحق
رپورٹ کے مطابق چین نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سخت حفاظتی قوانین اور بہتر حفاظتی اقدامات کے ذریعے کوئلہ کانوں میں ہونے والے جان لیوا حادثات میں نمایاں کمی کی ہے، تاہم ’لیوشینیو‘ کان کا یہ حادثہ گزشتہ 10 برس کے مہلک ترین حادثات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
شنہوا کے مطابق کان کی ذمہ دار کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ابتدائی رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد صرف 8 بتائی گئی تھی جبکہ 200 سے زائد مزدوروں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں ہلاکتوں میں اچانک اضافے کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔














