آزاد کشمیر کے گاؤں بٹلی سے تعلق رکھنے والے سابق ٹیکسی ڈرائیور شوکت علی نے مانچسٹر کے 128 ویں لارڈ میئر کے طور پر حلف اٹھا لیا، جسے برطانوی پاکستانی کمیونٹی کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
گزشتہ روز منعقدہ حلف برداری کی تقریب میں سیاسی، سماجی اور کمیونٹی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر شوکت علی نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا انتہائی یادگار اور جذباتی لمحہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے سی ایس ایس امتحان میں کشمیری خواتین کی شاندار کامیابی، مرد امیدوار پیچھے رہ گئے
شوکت علی نے بتایا کہ وہ 16 برس کی عمر میں بہتر مستقبل کی امید لے کر مانچسٹر منتقل ہوئے تھے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ گزشتہ روز انتقال کر گئی تھیں، جس کے باعث وہ اس اہم موقع پر اپنی والدہ کی موجودگی سے محروم رہے۔
1965 میں پاکستان میں پیدا ہونے والے شوکت علی نے ابتدائی زندگی میں ٹیکسٹائل انڈسٹری میں کام کیا، بعد ازاں فرنیچر کے کاروبار اور ایک چھوٹے فوڈ آؤٹ لیٹ سے بھی وابستہ رہے۔ انہوں نے کئی برس تک مانچسٹر میں بطور لائسنس یافتہ ٹیکسی ڈرائیور خدمات انجام دیں۔
اسی دوران انہوں نے شام کے اوقات میں انگریزی زبان سیکھی اور بعد میں سٹی کالج مانچسٹر سے آئی ٹی میں ڈپلومہ حاصل کیا، جس نے ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں نئی راہیں کھول دیں۔
یاد رہے کہ میرپور ڈویژن سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد برطانیہ اور یورپ کی سیاست میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ میرپور کے علاقے سماہنی سے تعلق رکھنے والے ٹرک ڈرائیور کے بیٹے محمد یاسین برطانوی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہو چکے ہیں، جبکہ کئی کشمیری خواتین بھی سیاسی میدان میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔














