خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے حج، عمرہ اور زیارت پروگرام کے تحت فریضۂ حج ادا کرنے والے عازمین مناسک کی تکمیل کے بعد مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق شاہی سرپرستی میں جاری اس پروگرام کے تحت رواں سال 104 ممالک سے تعلق رکھنے والے 2500 عازمین کو حج کی سعادت حاصل ہوئی۔
عازمین نے حج کے تمام ارکان اور مناسک مکمل کیے، جن میں میدان عرفات میں وقوف، مزدلفہ میں قیام، منیٰ میں شب باشی، ایامِ تشریق کے دوران رمی جمرات اور طوافِ وداع شامل ہیں۔
حجاج کرام نے حج کے دوران کیے گئے انتظامات اور فراہم کی جانے والی خدمات پر بھرپور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہترین منصوبہ بندی اور سہولیات کی بدولت انہیں نہایت آسانی اور روحانی سکون کے ساتھ عبادات کی ادائیگی کا موقع ملا۔
یہ بھی پڑھیے حج 1447 ہجری: سعودی وزارتِ صحت کی کامیاب طبی خدمات، 25 لاکھ سے زائد افراد مستفید
شاہی مہمانوں نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان اور ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سعودی قیادت کی جانب سے عازمین کی خدمت اور دیکھ بھال کے لیے کیے گئے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے حج کے محفوظ، آرام دہ اور منظم انعقاد میں فراہم کی گئی سہولیات کو سراہا۔
وزارتِ اسلامی امور، دعوت و ارشاد، جو اس پروگرام کی نگرانی کرتی ہے، کے مطابق منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں مہمانوں کی خدمت کے لیے وسیع پیمانے پر انتظامی، طبی اور ڈیجیٹل وسائل بروئے کار لائے گئے۔ عازمین کو ہر مرحلے پر رہنمائی، طبی سہولتیں اور دیگر ضروری خدمات فراہم کی گئیں۔
حج کی تکمیل کے بعد اب یہ مہمان مدینہ منورہ میں اپنے سفر کا اگلا مرحلہ طے کریں گے، جہاں ان کی زیارات میں مسجد نبوی میں حاضری اور دیگر اہم اسلامی مقامات کی زیارت شامل ہوگی۔
خادم الحرمین الشریفین کا حج، عمرہ اور زیارت پروگرام دنیا بھر کے مسلمانوں کی خدمت کے لیے سعودی عرب کے نمایاں ترین اقدامات میں شمار ہوتا ہے۔ مملکت کے مکمل مالی تعاون سے چلنے والا یہ سالانہ پروگرام عالمِ اسلام میں اتحاد و یگانگت کو فروغ دینے اور مختلف مسلم معاشروں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کے مقصد سے ترتیب دیا گیا ہے۔
ہر سال اس پروگرام کے تحت 100 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد کو مدعو کیا جاتا ہے، جن میں علما، دینی و سماجی رہنما، دانشور، صحافی اور ایسے افراد شامل ہوتے ہیں جو پسماندہ یا بحران زدہ علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور عام حالات میں حج کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے مسجد الحرام میں طوافِ افاضہ کے لیے جدید انتظامی و ڈیجیٹل نظام فعال
پروگرام کے شرکا کو بین الاقوامی سفری اخراجات، ویزا کے اجرا، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رہائش، اندرونِ ملک آمدورفت، طبی سہولیات، مترجمین کی خدمات، دینی رہنمائی اور سیکیورٹی سمیت جامع معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
تین دہائیوں سے زائد عرصہ قبل شروع کیے گئے اس پروگرام کے ذریعے دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں مسلمان سعودی قیادت کے مہمان کے طور پر حج کی سعادت حاصل کر چکے ہیں، جس سے حرمین شریفین اور ان کے زائرین کی خدمت میں سعودی عرب کے کردار کو مزید تقویت ملی ہے۔










