اسلام آباد کے معروف سرکاری اسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں 30 برس سے زائد عرصے تک خدمات انجام دینے والے معروف نیورو سرجن اور سابق انتظامی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان نے کہا ہے کہ پمز میں نومولود بچوں کی ہلاکت کا سانحہ کسی ایک فرد کی غلطی کا نتیجہ نہیں بلکہ پورے ہیلتھ سسٹم میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پمز سانحہ: وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا استعفیٰ وزیراعظم کو پیش، فرانزک رپورٹ کا انتظار
وی نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان نے کہا کہ محض کسی ایک بڑے عہدیدار کا استعفیٰ لے لینا مسئلے کا حل نہیں، اس سے وقتی طور پر تسلی تو ہوسکتی ہے لیکن اسپتال، ہیلتھ ڈپارٹمنٹ اور ملک کے مجموعی نظام صحت کی صورتحال بہتر نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ سنجیدہ لوگوں سے سنجیدہ بات کی جائے اور یہ دیکھا جائے کہ موجودہ نظام کو تبدیل کیسے کیا جاسکتا ہے، اس میں خامیاں کہاں ہیں اور بہتری کیسے لائی جاسکتی ہے۔
پمز سانحہ اور سسٹم کی خامیاں
پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان نے کہا کہ کسی بھی ادارے میں ہر شخص کا اپنا کردار اور ذمہ داری ہوتی ہے۔ انہوں نے اس کی مثال ایک خاندان سے دیتے ہوئے کہا کہ جیسے ایک گھر بھی ایک ادارہ ہوتا ہے جس میں والدہ، والد، بہن بھائیوں اور دیگر افراد کا اپنا اپنا کردار ہوتا ہے اور ہر شخص کو معلوم ہوتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے، اسی طرح اسپتال کا بھی ایک مکمل نظام ہونا چاہیے۔
ان کے مطابق پمز کے حالیہ واقعے میں بنیادی طور پر ایک مؤثر سسٹم موجود نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ہیلتھ سسٹم کے لیے باقاعدہ نظام موجود ہے جسے آئی ایس او سرٹیفکیشن کے ذریعے بھی جانچا جاتا ہے۔ آئی ایس او سرٹیفکیشن اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ کوئی ادارہ اپنے مقررہ مقاصد حاصل کرنے کے قابل ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان کے مطابق اسپتال کے مقاصد میں یہ شامل ہے کہ جو مریض آئے، اسے اس کی بیماری اور ضرورت کے مطابق علاج فراہم کیا جائے، اسے کسی تکلیف یا غفلت کا سامنا نہ ہو، اس کے آرام، ادویات اور ٹیسٹ سمیت تمام ضروریات کا خیال رکھا جائے۔
مزید پڑھیے: ’آخر مزید کتنے بچوں کی جانیں جائیں گی؟‘، پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر شوبز شخصیات پھٹ پڑیں
انہوں نے کہا کہ اسپتال میں کام کرنے والے ہر شخص کو اپنی ذمہ داری کا علم ہونا چاہیے۔ مریض کو داخل کرنے سے لے کر ڈاکٹر کے ہسٹری لینے، معائنہ کرنے اور پھر سینئر ڈاکٹر کے معائنے تک ہر مرحلہ باقاعدہ طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔
ان کے مطابق یہ معمول اسی وقت درست طریقے سے چل سکتا ہے جب تمام مراحل تحریری شکل میں موجود ہوں اور یہ چیک کیا جاسکے کہ کسی شخص نے اپنا کام کیا یا نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتساب بھی اسی وقت ممکن ہے جب پہلے یہ واضح کیا گیا ہو کہ متعلقہ شخص نے کیا کرنا ہے۔ اگر اس نے وہ کام نہیں کیا، اسے رجسٹر نہیں کیا یا لکھا نہیں تو جب تک اس بات کا ثبوت موجود نہ ہو کہ اس نے کیا کیا یا نہیں کیا، اس وقت تک اس کی جواب دہی ممکن نہیں۔
فائر سیفٹی، بند دروازے اور ایمرجنسی ڈرلز
پمز سانحے کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کا ذکر کرتے ہوئے جب ان سے پوچھا گیا کہ مینٹیننس ڈپارٹمنٹ میں الیکٹرانکس کی چیزیں دیکھنے والا کوئی موجود نہیں تھا، دروازہ بند تھا اور اسٹاف بھی موجود نہیں تھا، کیا یہ ممکن ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان نے کہا کہ یہ باتیں بالکل درست ہیں اور ایسی صورتحال صرف پمز تک محدود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب پورے ملک کے اسپتالوں کے بارے میں سننے میں آرہا ہے کہ اگر کہیں آگ لگ جائے تو فائر ڈرل نہیں ہوتی، اور بہت سے اسپتالوں میں فائر ایمرجنسی سے متعلق ایس او پیز یا تو موجود نہیں یا کسی کو یاد نہیں۔
ان کے مطابق اگر کسی اسپتال میں ایمرجنسی کے لیے کوئی مشین یا سامان رکھا بھی ہو لیکن اسٹاف کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کہاں موجود ہے اور اسے چلانا کیسے ہے تو ضرورت کے وقت اس سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ مستقل آگاہی اور مستقل عملی اقدامات کا معاملہ ہے۔ ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے وقتاً فوقتاً تجرباتی اور ڈرل کی صورت میں مشقیں ہونی چاہییں، تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں اسٹاف کو معلوم ہو کہ کیا کرنا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان نے 2005 کے زلزلے کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت وہ کلاس اور وارڈ میں موجود تھے۔ جب زلزلہ آیا اور چیزیں گرنے لگیں تو ان کی کلاس میں تقریباً 17 سے 18 افراد تھے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے سب سے کہا کہ ہم یہاں سے نہیں جاسکتے کیونکہ ہمارے مریض یہاں موجود ہیں، اگر عمارت گرنی ہے تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔
انہوں نے پمز میں دروازے بند ہونے کے معاملے پر کہا کہ ان کے خیال میں یہ مسئلہ آج سے نہیں بلکہ تقریباً 30 سال پہلے سے موجود تھا۔ کبھی ایک دروازہ بند کردیا جاتا تھا اور کبھی دوسرا، جس کی وجہ سے نہ صرف مریض بلکہ اسپتال کا اسٹاف بھی مشکلات کا شکار ہوتا تھا۔
ان کے مطابق بعض اوقات اسٹاف ایک دروازے سے آتا تو اگلے دن بغیر اطلاع کے وہ دروازہ بند ہوتا اور اسے دوسرے راستے یا پیچھے سے آنا پڑتا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی وجہ سے دروازہ بند کرنا ضروری تھا تو لوگوں کو اس کی اطلاع کیوں نہیں دی گئی؟
ان کا کہنا تھا کہ نرسنگ اسٹاف، ڈاکٹرز، مریضوں کے عزیز یا سسٹم ٹیکنیشن، کسی ایک شخص کو ذمہ دار قرار دینا اس وقت ممکن نہیں جب پورا نظام ہی موجود نہ ہو۔
مزید پڑھیں: پمز سانحہ: پارلیمنٹ کا کام صرف قانون سازی نہیں، احتساب بھی ہے، خواجہ آصف
انہوں نے کہا کہ جب یہ طے ہی نہیں کہ کس کی کیا ذمہ داری ہے تو ہر شخص اپنی مرضی سے کام کرسکتا ہے۔ کوئی مینیجر آتا ہے، کوئی سپروائزر آتا ہے اور دروازہ بند کردیتا ہے، لیکن پوچھنے والا کوئی نہیں۔
ان کے مطابق اگر ایگزیکٹو ڈائریکٹر سب سے اوپر ہیں اور وہ کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو یقیناً کسی وجہ سے کرتے ہوں گے، لیکن اگر کوئی دروازہ بند کیا جارہا ہے تو اس سے پہلے اعلان ہونا چاہیے کہ یہ دروازہ بند ہے اور لوگ دوسرے راستے سے جائیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ پمز کے مرکزی داخلی دروازے کی بات نہیں کررہے بلکہ این آئی سی یو کے دروازے کی بات کررہے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان کے مطابق این آئی سی یو ہو، مین گیٹ ہو یا دفتر کا دروازہ، ہر دروازے کے حوالے سے باقاعدہ نظام ہونا چاہیے۔ اگر کوئی ڈاکٹر رات دن وہاں کام کرتا ہے تو اسے راستوں کا علم ہوتا ہے، لیکن اگر وہ کسی ایمرجنسی کو دیکھنے کے لیے بھاگ رہا ہو اور اچانک اس کے سامنے دروازہ بند ہو تو اسے چکر کاٹ کر دوسری طرف سے جانا پڑے گا۔
ان کے مطابق جب بھی کوئی دروازہ بند کیا جائے تو اس سے پہلے باقاعدہ اعلان کیا جانا چاہیے۔
این آئی سی یو میں کتنے افراد موجود ہونے چاہییں؟
این آئی سی یو میں اسٹاف کی تعداد کے حوالے سے سوال پر پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان نے کہا کہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہاں کتنے مریض موجود ہیں، تاہم عام طور پر تین سے چار افراد کا موجود ہونا ضروری ہے، جن میں نرسز اور ڈاکٹرز شامل ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سانحات کے بعد معطلیاں، تحقیقات اور پھر خاموشی، پمز واقعے نے خامیاں بے نقاب کردیں
انہوں نے کہا کہ ان میں ایک سینئر ڈاکٹر بھی ہوتا ہے، جو مرد یا خاتون ہوسکتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان نے ایک ڈاکٹر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یونٹ میں خواتین زیادہ دلچسپی سے کام کرتی رہی ہیں اور ان کی ایک بہت اچھی ڈاکٹر تھیں جو بچوں کے شعبے میں کام کرتی تھیں اور طویل عرصے تک این آئی سی یو کی دیکھ بھال کرتی رہیں۔
انہوں نے ڈاکٹر کا نام لیتے ہوئے کہا کہ وہ جس انداز سے این آئی سی یو میں بچوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں، وہ قابل تحسین تھا اور وہ انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔
ان کے مطابق وہ ڈاکٹر اپنی ذمہ داریاں بہت مؤثر انداز میں ادا کرتی تھیں اور اس وقت کبھی کوئی شکایت نہیں ہوئی، لیکن جب وہ چلی گئیں تو ان کے بعد تربیت اور نگرانی کا وہ سلسلہ آگے منتقل نہیں ہوا، جس کے نتیجے میں حالات تبدیل ہونے لگے۔
انہوں نے کہا کہ جب کوئی ایسا شخص موجود ہو جو مشنری جذبے سے کام کرتا ہو تو وہ پورے نظام کو نافذ کرتا ہے، لیکن بعد میں ہر شخص کی اپنی شخصیت پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔
پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان کے مطابق نظام کسی ایک شخصیت پر منحصر نہیں ہونا چاہیے بلکہ باقاعدہ تحریری نظام ہونا چاہیے، جس میں قوانین، ضوابط اور اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز موجود ہوں۔
مزید پڑھیں: پمز سانحہ، جاں بحق بچوں کے لواحقین کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایس او پیز موجود نہ ہوں یا ان پر عمل نہ ہو تو کسی بھی وقت ہنگامہ، حادثہ یا سانحہ ہوسکتا ہے۔
ہر شعبے کے پاس اپنے جواز ہیں، لیکن سسٹم کہاں ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان نے کہا کہ انہوں نے پمز کے اس افسوسناک واقعے کے بارے میں بہت سے لوگوں سے بات کی اور ہر شخص کے پاس اپنے مؤقف اور جواز موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نرسنگ اسٹاف سے بات کریں تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس 30 مریضوں کی دیکھ بھال کی صلاحیت ہے لیکن ہم 300 مریضوں کو دیکھ رہے ہیں اور تین تین دن سے سوئے نہیں۔
ڈاکٹرز سے بات کی جائے تو ان کا کہنا ہوتا ہے کہ ہم 40 مریض دیکھ سکتے ہیں لیکن 400 مریض دیکھ رہے ہیں، اس لیے ہم ہر وقت خوش اور خوشگوار نہیں رہ سکتے۔
ایڈمنسٹریٹر سے بات کریں تو وہ کہتا ہے کہ ہمیں اخراجات کے لیے پیسے نہیں ملتے، جبکہ مینٹیننس والوں سے بات کریں تو ان کا مؤقف ہوتا ہے کہ ان کے پاس گیجٹس یا ضروری سامان خریدنے کے پیسے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر ایک کے پاس اپنا جواز ہے، لیکن اگر سب کے پاس جواز ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ غلطی کسی کی نہیں ہوئی یا پھر کسی کی ہوئی؟
ان کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں ایک مؤثر اور مربوط سسٹم موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی اسپتال کی گنجائش ایک خاص حد تک ہے تو اسی حساب سے مریضوں کا بوجھ ہونا چاہیے۔
پمز پر ضرورت سے زیادہ بوجھ کیوں؟
پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان نے کہا کہ پمز صرف اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح کے لیے بنایا گیا تھا۔
ان کے مطابق اس وقت اسلام آباد بھی موجودہ شکل میں اتنا بڑا نہیں تھا۔ جب پولی کلینک کا نظام تھا تو اسلام آباد ان کے خیال میں ایف سیون تک محدود تھا اور آج کی صورتحال اس سے بہت مختلف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایک اسپتال کی گنجائش محدود ہے تو اس پر اس کی سہولیات سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔
ان کے مطابق اگر کسی اسپتال کی سہولیات کم ہیں تو اس کا اعلان ہونا چاہیے کہ مریض دوسرے اسپتال جائیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ اختیار موجود ہی نہیں کہ مریض کو کہاں بھیجا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز بھی مجبور ہیں، جس کے نتیجے میں مریضوں کو اضافی بیڈز، بینچوں، برآمدوں اور کاریڈورز میں رکھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیے: پمز سانحہ: جاں بحق نومولود بچوں کی یاد میں شمعیں روشن
پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومتوں کو مزید اسپتال بنانے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ ہر اسپتال بننے کے بعد یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ وہ کس علاقے کو خدمات فراہم کرے گا۔
دنیا کے دیگر ممالک میں اسپتالوں کا نظام کیسے چلتا ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان نے اپنے انگلینڈ میں تربیت حاصل کرنے کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں ایریا ہیلتھ اتھارٹیز اور ریجنل ہیلتھ اتھارٹیز ہوتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک چھوٹے علاقے کے لیے چھوٹے چھوٹے اسپتال ہوتے تھے جبکہ ایک بڑا اسپتال تدریسی اسپتال ہوتا تھا۔
ان کے مطابق ان چھوٹے یا جنرل اسپتالوں میں عمومی نوعیت کے شعبے ہوتے تھے جبکہ خصوصی نوعیت کے شعبے، جیسے نیورو سرجری، کارڈیک سرجری، نیورولوجی اور گائنی وغیرہ تدریسی اسپتال میں ہوتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ تدریسی اسپتال میں تحقیق بھی ہوتی تھی اور آس پاس کے اسپتال اس سے منسلک ہوتے تھے۔
انہوں نے کیمبرج کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں ایڈم برکس اسپتال مین اسپتال تھا اور ایک وسیع علاقے کو کور کیا جاتا تھا۔
ان کے مطابق جب لوگوں کو اپنے علاقے کے ہیلتھ سسٹم کا علم ہو تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کس بیماری کے لیے کس اسپتال جانا ہے۔ کسی کو لندن جانا ہوتا ہے اور کسی کو برمنگھم جانا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ جس اسپتال میں جارہے ہیں وہاں جگہ اور سہولت موجود ہے یا نہیں، یا پھر یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے علاقے کے لیے کون سا اسپتال مختص ہے۔
ان کے مطابق ایک ہی اسپتال کو پورے کراچی سے لے کر گلگت تک کے مریضوں کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہیے۔
کیا پمز میں دوبارہ ایسا سانحہ ہوسکتا ہے؟
جب پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان سے پوچھا گیا کہ پمز میں جس نوعیت کا سانحہ پیش آیا، کیا اسی طرح کے کسی مزید سانحے کا امکان موجود ہے؟
انہوں نے انتہائی مختصر لیکن واضح جواب دیتے ہوئے کہا: ’اگر اسی طرح رہا تو بالکل ہے، آج بھی ہوسکتا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ انہیں ڈر ہے کہ کہیں کل ہی ایسا نہ ہوجائے، خدا نہ کرے اور ان کے منہ میں خاک، لیکن جب تک موجودہ سسٹم کو درست نہیں کیا جاتا، کچھ بھی نہیں بدلے گا۔
پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان نے کہا کہ یہ ایک دن کا کام نہیں ہے اور نہ ہی سانحہ اچانک ہوتا ہے۔ اس موقعے پر انہوں نے قابل اجمیری کا یہ شعر بھی پڑھا ’وقت کرتا ہے پرورش برسوں، حادثہ ایک دم نہیں ہوتا‘۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ پمز کے بعد گائنی کے پیچیدہ کیسز راولپنڈی اور دیگر اسپتالوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ
انہوں نے اس کی مثال ڈرائیونگ سے دیتے ہوئے کہا کہ جو ڈرائیور قواعد کی پابندی نہیں کرتا، رفتار کی حد کا خیال نہیں رکھتا اور گاڑی کی دیکھ بھال نہیں کرتا، اس کے ساتھ کسی نہ کسی دن حادثہ ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
اس کے برعکس جو ڈرائیور قواعد، اسپیڈ لمٹ اور گاڑی کی دیکھ بھال کا خیال رکھتا ہے، اس کے حادثے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمیں حقیقت کی طرف واپس آنا ہوگا اور یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ مسئلہ ایک دن میں حل نہیں ہوسکتا، بلکہ اس پر پورا سال بھی لگ سکتا ہے۔
صحت اور تعلیم کو اولین ترجیح دینا ہوگی
پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان نے کہا کہ سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمارے پاس وسائل کتنے ہیں، اس کے بعد ہماری ضروریات اور توقعات کیا ہیں، پھر ان سب کو ملا کر صورتحال کا جائزہ لینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ کو بھی دیکھنا ہوگا کہ صحت کے لیے کتنا بجٹ ہے، انتظامیہ اور دیگر شعبوں کے لیے کتنا ہے اور تعلیم کے لیے کتنا بجٹ مختص کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق صحت اور تعلیم دو ایسے شعبے ہیں جنہیں اولین ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کی صحت ٹھیک نہیں ہوگی، جن کی تعلیم اور تربیت درست نہیں ہوگی، وہ کسی ملک میں ترقی کیسے لاسکتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان کے مطابق ’ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ‘ سب سے اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی وسائل کو ایک سسٹم میں ڈالنا ہوگا اور اس کے ساتھ چیک اینڈ بیلنس بھی ہونا چاہیے۔
صحت کے نظام میں اہل افراد کی ضرورت
پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان نے سوال اٹھایا کہ جس شخص نے کسی اسپتال میں کام ہی نہیں کیا، اسے وزیر صحت کیسے بنایا جاسکتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ جس شخص نے ہیلتھ کے شعبے میں انتظامی امور انجام نہیں دیے، اسے سیکریٹری صحت کیسے بنایا جاسکتا ہے؟
ان کے مطابق اگر کسی شخص نے ایک خاص قسم کا امتحان پاس کرلیا، جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ حکومت میں سب سے بڑی حکمرانی انہی امتحانات کے ذریعے آنے والے افراد کی ہوتی ہے، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہر فن مولا ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر عہدے کے لیے ضرورت اور فنکشن کے مطابق اہلیت ہونی چاہیے۔
ان کے مطابق جب تک ضرورت کے مطابق اور فرائض کے مطابق ایس او پیز تیار نہیں ہوں گی، نظام درست نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے ایک بار پھر آئی ایس او سرٹیفکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں مخصوص مقاصد کے لیے آئی ایس او سرٹیفکیشن کا نظام موجود ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان کے مطابق آئی ایس او سرٹیفکیشن صرف ایک مرتبہ حاصل کرکے بات ختم نہیں ہوجاتی بلکہ مقررہ وقفوں کے بعد ڈرلز اور دیگر جائزے کیے جاتے ہیں اور ادارے کو دوبارہ سرٹیفائی کیا جاتا ہے، بصورت دیگر اس کی سرٹیفکیشن ختم ہوجاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اسپتالوں میں بھی مستقل بنیادوں پر ایسے نظام، ایس او پیز، تربیت، مشقوں، نگرانی اور احتساب کا طریقہ کار قائم کرنا ہوگا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اسٹاف کو معلوم ہو کہ اسے کیا کرنا ہے اور ذمہ داری کس کی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان نے کہا کہ پمز کے حالیہ سانحے کے بعد محض کسی ایک شخص سے استعفیٰ لے لینا کافی نہیں، اصل ضرورت پورے نظام کا جائزہ لینے اور اسے تبدیل کرنے کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ خامیوں کو دور نہ کیا گیا اور سسٹم کو بہتر نہ بنایا گیا تو مستقبل میں بھی ایسے حادثات کا خطرہ موجود رہے گا۔












