سعودی وزارتِ صحت نے حج 1447 ہجری کے دوران طبی و صحت عامہ کے انتظامات کی کامیاب تکمیل کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پورے حج سیزن میں کسی وبائی بیماری یا عوامی صحت کے بڑے خطرے کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔ وزارت کے مطابق حجاج کرام کو 25 لاکھ سے زائد طبی اور احتیاطی خدمات فراہم کی گئیں، جبکہ جدید طبی ٹیکنالوجی کے استعمال نے صحت کی سہولیات کو مزید مؤثر بنایا۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی وزارتِ داخلہ کا حج 1447 ہجری کی کامیاب تکمیل کا اعلان، اگلے حج سیزن کی تیاریوں کا آغاز
مکہ مکرمہ میں سعودی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق حج سیزن کے آغاز سے 12 ذوالحجہ تک مجموعی طور پر 25 لاکھ سے زائد طبی خدمات فراہم کی گئیں، جن کا مقصد حجاج کرام کی صحت، حفاظت اور فوری طبی نگہداشت کو یقینی بنانا تھا۔
وزارت نے بتایا کہ 114,889 افراد نے مختلف صحت مراکز اور فوری طبی امداد کی سہولیات سے استفادہ کیا، جبکہ ہنگامی شعبوں میں 58,462 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ اسی دوران بیرونی مریضوں کے کلینکس میں 29,846 افراد کو طبی خدمات فراہم کی گئیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 8,342 مریضوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا، جہاں ماہر طبی عملے نے 410 جراحی آپریشن انجام دیے۔ ان میں 323 دل کی شریانوں کے کیتھیٹرائزیشن کے پیچیدہ عمل اور 33 اوپن ہارٹ سرجریز بھی شامل تھیں، جو حج کے دوران فراہم کی جانے والی خصوصی طبی سہولیات کی عکاسی کرتی ہیں۔
وزارتِ صحت نے کہا کہ بیماریوں سے بچاؤ اور صحت سے متعلق آگاہی کے اقدامات کو بھی بھرپور انداز میں جاری رکھا گیا۔ اس دوران 292,585 سے زائد احتیاطی اور حفاظتی خدمات فراہم کی گئیں تاکہ حجاج کو مختلف موسمی اور طبی خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:مولانا طاہر اشرفی کا سعودی قیادت کو خراجِ تحسین، حجاج کے لیے مثالی سہولیات کی فراہمی تاریخی کامیابی قرار
بیان کے مطابق وزارت کے متحدہ کال سینٹر ’937‘ نے بھی غیر معمولی کردار ادا کیا اور اسے 10 لاکھ سے زائد کالز موصول ہوئیں۔ کال سینٹر نے 7 مختلف زبانوں میں 24 گھنٹے طبی مشورے، رہنمائی اور ہنگامی معاونت فراہم کی، جس سے دنیا بھر سے آنے والے حجاج کو بروقت معلومات اور مدد حاصل ہوئی۔
سعودی وزارتِ صحت نے اس سال جدید طبی ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال کو حج آپریشنز کی نمایاں خصوصیت قرار دیا۔ پہلی مرتبہ اہم ادویات اور طبی سامان کی تیز تر ترسیل کے لیے ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جبکہ پیچیدہ طبی کارروائیوں میں میڈیکل روبوٹکس سے بھی مدد لی گئی۔

زیادہ خطرے سے دوچار حجاج کی صحت کی مسلسل نگرانی کے لیے اسمارٹ واچز استعمال کی گئیں، جن کے ذریعے دور سے ہی دل کی دھڑکن، جسمانی درجہ حرارت اور دیگر اہم طبی اشاریوں پر نظر رکھی گئی۔ وزارت کے مطابق یہ اقدامات سعودی عرب کے اس عزم کا اظہار ہیں کہ حجاج کرام کو عالمی معیار کی صحت سہولیات فراہم کرنے کے لیے جدید اور اختراعی طبی حل بروئے کار لائے جائیں۔
سعودی وزارتِ صحت نے حج 1447 ہجری کے دوران طبی خدمات کی کامیابی کو ملکی صحت کے نظام، تربیت یافتہ طبی عملے اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر امتزاج کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حجاج کی سلامتی اور صحت کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح رہے گا۔














