شمالی کوریا نے ایک بار پھر اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ڈینیوکلئیرائزیشن‘ یعنی جوہری تخفیف کا معاملہ اب ناقابلِ واپسی طور پر ختم ہو چکا ہے۔ یہ بیان امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان حالیہ دفاعی مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔
North Korea says 'denuclearisation' is a matter terminated irreversibly https://t.co/D00tZhuzGP https://t.co/D00tZhuzGP
— Reuters (@Reuters) June 14, 2026
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سرکاری میڈیا کے ذریعے جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شمالی کوریا کے خلاف بیانات اور سرگرمیاں ان کے مؤقف کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔
بیان میں کہا گیا کہ شمالی کوریا اب خود کو ایک جوہری طاقت کے طور پر دیکھتا ہے اور اس حقیقت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ جوہری تخفیف کا معاملہ اب حتمی طور پر ختم ہو چکا ہے اور اس پر دوبارہ بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:چینی صدر کے دورے سے ایک روز قبل شمالی کوریا کا جوہری حیثیت برقرار رکھنے کا اعادہ
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے واشنگٹن اور سیئول کے حکام نے جنوبی کوریا میں ہونے والے مذاکرات کے دوران شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے جوہری پروگرام کے خلاف دفاعی تعاون اور تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے پر بات کی تھی۔
دونوں ممالک نے اپنے مشترکہ پلیٹ فارم ’نیوکلئیر کنسلٹیٹو گروپ‘ (این سی جی) کے تحت خطے میں دفاعی حکمت عملی اور ڈیٹرنس کو بہتر بنانے پر زور دیا تھا۔

شمالی کوریا کی جانب سے اس بیان کو خطے میں کشیدگی میں اضافے کے ایک اور اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق اس سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مذاکرات کی امیدیں مزید کمزور ہو سکتی ہیں۔














