مردوں میں جنسی صحت کا مسئلہ کئی سنگین بیماریوں کا باعث، کیسے بچا جائے؟

پیر 15 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مردوں میں جنسی صحت کا مسئلہ جس کو طبی اصطلاح میں ’ایریکٹائل ڈس فنکشن‘ کہتے ہیں صرف ایک جنسی مسئلہ نہیں بلکہ جسمانی صحت کی مجموعی حالت کا ایک اہم اشارہ بھی ہو سکتا ہے جسے نظرانداز کرنا سنگین بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جنسی و تولیدی صحت تک عام رسائی کیوں ضروری ہے؟

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مسئلہ دل کی بیماری، فالج، ذیابیطس اور حتیٰ کہ ڈیمنشیا جیسے دماغی امراض کی ابتدائی وارننگ بھی ہو سکتا ہے۔ ماہرین اسے ’خاموش وبا‘ قرار دیتے ہیں کیونکہ دنیا بھر میں 40 سال سے زائد عمر کے نصف سے زیادہ مرد کسی نہ کسی حد تک اس کا شکار ہوتے ہیں لیکن بہت کم لوگ اس پر بات کرتے ہیں۔

طبی ماہرین اور محققین کے مطابق مردوں کے جسم میں ’مخصوص عضو‘ کا نظام خون کی روانی پر براہ راست انحصار کرتا ہے۔ جب خون کی نالیوں میں کسی بھی وجہ سے تنگی یا کمزوری پیدا ہوتی ہے جیسے ہائی بلڈ پریشر یا ایتھروسکلروسس تو اس کا اثر سب سے پہلے اس مخصوص عضو پر ظاہر ہو سکتا ہے کیونکہ اس کی شریانیں نسبتاً باریک ہوتی ہیں۔

اسی وجہ سے محققین اسے جسم میں خون کی نالیوں کی صحت کا ایک ’انڈیکیٹر‘ بھی قرار دیتے ہیں۔ بعض بڑے مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنسی صحت کے مسئلے کے شکار مردوں میں دل کی بیماری کا خطرہ تقریباً 59 فیصد اور فالج کا خطرہ 34 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔

ذیابیطس بھی اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ سمجھی جاتی ہے کیونکہ خون میں شوگر کی زیادتی شریانوں اور اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے جس سے جسم میں خون کی روانی متاثر ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں یہ مسئلہ عام افراد کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ دیکھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے: نومولود کو دھاتی چمچ پسند نہیں!

تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ اس کیفیت کا تعلق دماغی صحت سے بھی ہو سکتا ہے۔ ایک مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ جنسی صحت کے مسئلے کے شکار افراد میں ڈیمنشیا کا خطرہ بھی زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ دماغ بھی مناسب خون کی فراہمی پر انحصار کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ مسئلہ عام ہے لیکن شرمندگی اور ہچکچاہٹ کے باعث بہت سے مرد ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتے۔ تاہم ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیص نہ صرف اس مسئلے کا علاج ممکن بناتی ہے بلکہ دل اور دیگر خطرناک بیماریوں کی بروقت نشاندہی بھی کر سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: زچگی کے عمل کا دوسرا فریق

آخر میں محققین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جنسی صحت کے مسئلے کو صرف ایک ذاتی یا شرمناک مسئلہ سمجھنے کے بجائے جسم کی مجموعی صحت کے ایک اہم اشارے کے طور پر لینا چاہیے تاکہ ممکنہ بیماریوں سے بروقت بچاؤ ممکن ہو سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی عالمی امن کے لیے خطرہ، یورپی یونین کی پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت

اقصادی سروے اور غربت کی شرح، عام آدمی کہاں کھڑا ہے؟

امریکی حملے میں 3 بھارتی ملاحوں کی ہلاکت، مودی حکومت کی خارجہ پالیسی تنقید کی زد میں

امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے، بلوچستان کے کاروبار پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

پنجاب پرفارمرز ڈیجیٹل شناخت اور مصنوعی ذہانت تحفظ ایکٹ 2026 کیا ہے؟

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے، بلوچستان کے کاروبار پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات، نقصان عوام کا کیسے؟

ایران امریکا کے درمیان فریم ورک معاہدہ کیا ہے اور آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں کیا طے کیا جائے گا؟

کالم / تجزیہ

تاریخ کا رخ موڑنے والا ایک نیا اور سرخرو پاکستان

پنجاب کا حق، ایتھے رکھ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ