افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی کو علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے یورپی یونین نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
مزید پڑھیں:افغانستان کو شکست، پاکستان نے 74 سال بعد بڑا بین الاقوامی فٹبال ٹائٹل جیت لیا
یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان جِل برٹران نے آمو ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ فتنہ الخوارج سمیت متعدد بین الاقوامی دہشتگرد گروہ افغان سرزمین پر موجود ہیں اور ان کی سرگرمیاں خطے کے امن کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب پاکستان کو سرحد پار دہشتگردی اور پرتشدد کارروائیوں کا سامنا ہو تو ایسے حالات میں اس سے خاموش رہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ جِل برٹران کے مطابق یورپی یونین داعش خراسان کو افغانستان سے جنم لینے والے سب سے بڑے عالمی دہشتگرد خطرات میں شمار کرتی ہے۔
افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی کو علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے یورپی یونین نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔@KhUsamaIqbal @KulAalam #Afghanistan pic.twitter.com/sYbZq3R4Wp
— Media Talk (@mediatalk922) June 16, 2026
یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی نے مزید کہا کہ افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی پر روس، چین، امریکا اور یورپی یونین پہلے ہی اپنے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں اور عالمی برادری اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔
دفاعی اور علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشتگردی کے خطرات پر یورپی یونین سمیت مختلف عالمی قوتوں کی تشویش اس امر کی عکاس ہے کہ یہ معاملہ محض افغانستان کا داخلی مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے اور دنیا کے امن سے جڑا ہوا ہے۔
مزید پڑھیں:افغانستان سے ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے خطرات پر روس کا اقوام متحدہ میں تشویش کا اظہار
ماہرین کے مطابق دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی یورپی حمایت اس مؤقف کو مزید تقویت دیتی ہے کہ دہشتگردی کے سدباب کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے اور خطے کے امن کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔














