افغان اور بین الاقوامی انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کی درجنوں تنظیموں نے یورپی یونین کی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کی جبری بے دخلی کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے اور طالبان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے سے سختی سے گریز کیا جائے۔
تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ایسے اقدامات سے انسانی حقوق کو شدید نقصان پہنچے گا اور یورپ میں مقیم کمزور و خطرے سے دوچار افغانوں کی سلامتی داؤ پر لگ جائے گی۔
یورپی یونین کے اعلیٰ عہدیداروں بشمول عرسلا وان ڈیر لیین، انتونیو کوسٹا، کاجا کلاس اور میگنس برونر کو لکھے گئے ایک مشترکہ خط میں 47 تنظیموں نے اپیل کی ہے کہ ہجرت کے انتظام اور افغان شہریوں کی واپسی کے معاملات میں طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون سے دور رہا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان کو ایک اور جھٹکا، برطانیہ کے مسترد افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے افغان حکومت سے رابطے
یہ ہنگامی اپیل ان اطلاعات کے بعد سامنے آئی ہے جن کے مطابق یورپی یونین نے افغان پناہ گزینوں کی واپسی سے متعلق مذاکرات کے لیے طالبان کے نمائندوں کو برسلز مدعو کیا ہے۔ اس اقدام پر یورپی قانون سازوں اور مہاجرین کے حامی اداروں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
خط میں واضح کیا گیا ہے کہ بعض یورپی ممالک کی جانب سے طالبان کے ساتھ روابط کو ’تکنیکی سطح کی بات چیت‘ کا نام دینا دراصل طالبان حکومت کو عملی طور پر جائز حیثیت فراہم کرنے کے مترادف ہے۔
تنظیموں کے مطابق طالبان حکام پر وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، خواتین کے خلاف منظم امتیازی سلوک اور انسانیت کے خلاف جرائم کے سنگین الزامات ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تنظیموں نے 20 یورپی ممالک کی اس حالیہ کوشش کو بھی نشانہ بنایا جس میں غیر دستاویزی افغان شہریوں کی واپسی کو ترجیح دینے کی بات کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبہم سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دے کر افغان پناہ گزینوں کو بدنام کرنا یورپی یونین کے بنیادی حقوق کے منشور میں شامل ’نان ریفولمنٹ‘ کے اصول کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت کسی بھی شخص کو ایسے ملک واپس نہیں بھیجا جا سکتا جہاں اسے ظلم و ستم یا جان کا خطرہ ہو۔
مزید پڑھیں:افغان طالبان کا پروپیگنڈا بے نقاب، پاکستان نے ڈرون دراندازی کی تصدیق کر دی
خط میں جرمنی اور ناروے میں افغان قونصل خانوں کے انتظامات طالبان سے وابستہ نمائندوں کے حوالے کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
پناہ گزینوں، خصوصاً سابق سرکاری اہلکاروں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو خدشہ ہے کہ ان کی ذاتی معلومات طالبان تک پہنچنے سے افغانستان میں موجود ان کے اہل خانہ کی جانیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔
دوسری جانب طالبان وفد کی برسلز آمد پر اٹھنے والے اعتراضات کے جواب میں بیلجیم کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لورینس سونین نے کہا کہ اجلاس منعقد کرنے اور وفود کو دعوت دینے کے فیصلے یورپی یونین کے ادارے کرتے ہیں، نہ کہ انفرادی رکن ممالک۔
انہوں نے واضح کیا کہ برسلز میں کسی اجلاس میں شرکت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ بیلجیم طالبان حکومت کو تسلیم کرتا ہے۔
خط کے اختتام پر اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین کے مؤقف کی پیروی کرنے پر زور دیا گیا، جو افغان شہریوں کی جبری واپسی کے سخت خلاف ہے۔
دستخط کرنے والی تنظیموں، جن میں ’افغانستان واچ‘، ’راواداری‘ اور ’فیمینا‘ شامل ہیں، نے یاد دلایا کہ افغانستان اب بھی واپسی کے لیے محفوظ ملک نہیں ہے کیونکہ وہاں ماورائے عدالت ہلاکتیں، جبری گمشدگیاں اور خواتین پر منظم پابندیاں بدستور جاری ہیں۔














