برطانیہ نے اپنی امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے ایسے افغان شہریوں کو دوبارہ افغانستان بھیجنے کے امکانات پر غور شروع کردیا ہے جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہوچکی ہیں۔
اس سلسلے میں کابل میں برطانوی حکام اور طالبان نمائندوں کے درمیان ابتدائی رابطوں اور بات چیت کا انکشاف ہوا ہے، جس نے برطانیہ سمیت عالمی سطح پر انسانی حقوق کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں افغان شہریوں کا ڈیٹا لیک، 3 ہزار 700 افراد متاثر
افغان وزارت داخلہ کے ترجمان مفتی عبدالمتین غنی نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان حکومت واپس بھیجے جانے والے اپنے شہریوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے اور اس حوالے سے برطانوی حکام کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے۔
دوسری جانب برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے بھی حکومتی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ ان افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے تمام قانونی اور عملی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے جن کے پاس برطانیہ میں قیام کا اب کوئی قانونی جواز باقی نہیں رہا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران 7 ہزار 330 افغان شہریوں کی پناہ کی درخواستیں مسترد کی گئیں، لیکن سیکیورٹی اور سفارتی پیچیدگیوں کے باعث صرف 135 افراد کو ہی رضاکارانہ یا جبری طور پر واپس بھیجا جاسکا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیٹا لیک کے بعد خفیہ پروگرام کے تحت ہزاروں افغان شہریوں کی برطانیہ منتقلی کا انکشاف
ماہرین اور انسانی حقوق کے اداروں نے اس ممکنہ فیصلے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں خواتین کے حقوق کی پامالی، آزادیِ اظہار پر پابندیوں اور غیر یقینی سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر پناہ گزینوں کی جبری واپسی ایک انتہائی خطرناک اور متنازع قدم ثابت ہوسکتا ہے۔













