افغان طالبان کا پروپیگنڈا بے نقاب، پاکستان نے ڈرون دراندازی کی تصدیق کر دی

جمعہ 19 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کی جانب سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں داعش (آئی ایس کے پی) کے مبینہ ٹھکانوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلامی حکومت یا وسائل کی لوٹ مار؟ افغان طالبان کے اندر اقتدار کی خونریز کشمکش سامنے آگئی

وزارتِ اطلاعات کی جانب سے جاری فیکٹ چیک بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان حکومت مختلف پروپیگنڈا ذرائع اور سرکاری بیانات کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں موجود مبینہ داعش کیمپوں کو ابتدائی نوعیت کے ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا، تاہم یہ دعوے حقائق کے منافی ہیں۔

بیان کے مطابق داعش سمیت 2 درجن سے زائد دہشتگرد تنظیموں کے ٹھکانے افغانستان کے اندر طالبان حکومت کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں موجود ہیں، جہاں سے ان کی سرگرمیاں جاری ہیں۔

وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ ہمسایہ ممالک اور خطے میں دہشتگردی کی سرپرستی سے توجہ ہٹانے کے لیے طالبان حکومت اس نوعیت کے بیانات جاری کرتی رہی ہے۔

وزارت نے مزید کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ طالبان حکومت کا ایک ابتدائی نوعیت کا ڈرون خیبر کے علاقے شینکو کے قریب پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا، جسے پاکستان ایئر فورس کے مستعد فضائی دفاعی نظام نے فوری طور پر شناخت کر کے ناکارہ بنا دیا۔

مزید پڑھیں: بنوں حملہ: شواہد افغانستان سے جڑے ہیں، دفتر خارجہ کی افغان طالبان کو وارننگ

وزارتِ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی فضائی نگرانی اور دفاعی صلاحیتیں ہر قسم کی دراندازی کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp