وزیراعظم محمد شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے درمیان جمعہ کی شام ایک انتہائی اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے تاریخی ’اسلام آباد امن معاہدے‘ کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی امن کے لیے ایک غیر معمولی اور بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، یہ گفتگو انتہائی خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی، جس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کو امن معاہدے کی کامیاب تکمیل پر مبارکباد پیش کی اور اس بحران کے دوران سعودی عرب کی مسلسل حمایت کو سراہا۔
سعودی عرب اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کی تعریف
وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو کے دوران سعودی عرب کی دور اندیش قیادت، بالخصوص ولی عہد محمد بن سلمان کے کلیدی کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران اور امریکا کے درمیان چند ہی ماہ میں امن معاہدے کا طے پانا سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی مضبوط حمایت اور مثبت سفارتی کوششوں کے بغیر کسی صورت ممکن نہیں تھا اور سعودی عرب نے ہمیشہ خطے میں امن کے لیے قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔‘
دوسری جانب، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے وزیراعظم شہباز شریف کو اس تاریخی سفارتی بریک تھرو پر مبارکباد دی اور پاکستان کی امن کوششوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔
انہوں نے بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک محنت، قیادت اور مؤثر سفارتی رابطوں کی تعریف کی، جن کی پیشہ ورانہ کاؤشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ ممکن ہو سکا۔ ولی عہد کا کہنا تھا کہ دنیا پاکستان کے اس مثبت اور ذمہ دارانہ کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
پاک سعودی اقتصادی پیکیج اور دورۂ پاکستان کی دعوت
علاقائی سلامتی کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے پاک، سعودی دوطرفہ تعلقات پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا کہ دونوں ممالک ایک جامع معاشی پیکیج کو حتمی شکل دینے اور اس پر دستخط کرنے کے لیے مکمل تیار ہیں، جس کی سرپرستی خود ولی عہد محمد بن سلمان کر رہے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تاریخی پیکیج سے پاکستان میں سرمایہ کاری، تجارت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، امن کوششوں، دفاعی تعاون اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال
وزیراعظم نے اس موقع پر ولی عہد محمد بن سلمان کو ایک بار پھر پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی اور سعودی فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے نیک خواہشات کا پیغام بھی پہنچایا۔
قریبی رابطوں کا عزم
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ معاہدے کے بعد اب سب سے اہم مرحلہ امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ 60 دنوں کے مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچانے یا سبوتاژ کرنے کی کسی بھی بیرونی کوشش کے خلاف مکمل ہوشیاری اور چوکسی اختیار کی جائے گی۔ گفتگو کے اختتام پر دونوں وزرائے اعظم نے خطے کی بدلتی صورتحال اور امن عمل کی نگرانی کے لیے قریبی رابطے اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔














