اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ غزہ بدستور سنگین انسانی بحران کا شکار ہے، وہاں کے شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: اقوام متحدہ اجلاس: ٹرمپ مسلم ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے، ایجنڈے پر غزہ بحران سرفہرست
سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کے باعث عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے، جبکہ غزہ میں انسانی بحران بدستور شدت اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہاکہ غزہ کے لاکھوں باشندے بھوک اور غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ بچے غذائی قلت کے ساتھ ساتھ صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔
عاصم افتخار احمد نے زور دیا کہ انسانی امداد کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیاکہ رفح سمیت تمام سرحدی گزرگاہوں کو فوری طور پر کھولا جائے تاکہ امدادی سامان متاثرہ آبادی تک بلا رکاوٹ پہنچایا جا سکے۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر عالمی برادری کو مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا غزہ میں انسانی بحران اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر شدید اظہارِ تشویش
واضح رہے کہ غزہ امن معاہدہ ہونے کے باوجود اسرائیل کی جانب سے بمباری کا سلسلہ تھم نہیں سکا، اور جنگ بندی کے بعد ہونے والی کارروائیوں میں اب تک سینکڑوں شہری شہید ہو چکے ہیں۔














