علی امین گنڈاپور اپنی ہی حکومت کے خلاف کھل کر بول پڑے، بجٹ پر تحفظات کا اظہار

اتوار 21 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی امین گنڈاپور نے صوبائی بجٹ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ ترقیاتی منصوبے اس رفتار سے 100 سال میں بھی مکمل نہیں ہوں گے، جبکہ کئی اسکیمیں اراکین اسمبلی کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہیں۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبے میں تھرو فارورڈ بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔ خوشحال ہزارہ جیسے منصوبے موجودہ فنڈنگ کے ساتھ مکمل ہوتے دکھائی نہیں دیتے، کیونکہ کروڑوں روپے کے منصوبوں کے لیے انتہائی کم رقوم رکھی گئی ہیں۔

ترقیاتی اسکیموں پر تحفظات

سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ 200 ارب روپے کے منصوبے کے لیے اگر صرف 2 کروڑ روپے مختص کیے جائیں تو یہ عوام کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں 2 ارب روپے کی اسکیم کے لیے صرف 2 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، اس طرح کے منصوبے اراکین صوبائی اسمبلی کے گلے کا پھندا بنیں گے۔

علی امین گنڈاپور نے کہاکہ تختیاں اور بینرز لگانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر منصوبوں کا جائزہ لے کر تھرو فارورڈ کم کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے حکومت سنبھالی تو ساڑھے 6 سال کا تھرو فارورڈ موجود تھا، جسے کم کرنے کی کوشش کی گئی۔

وفاق سے صوبے کا حق نہ لینے پر اعتراف

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ یہ خیبر پختونخوا حکومت کی نااہلی ہے کہ وفاق سے صوبے کا حق حاصل نہیں کیا جا سکا۔ وفاق کو قبائلی علاقوں کا حق تسلیم کرنا چاہیے، کیونکہ قبائلی عوام نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ این ایف سی کے حوالے سے آئین میں واضح ہے کہ حصہ آبادی کی بنیاد پر ملنا چاہیے، مگر صوبے کو رائلٹی بھی نہیں مل رہی اور اس معاملے پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔

سابق وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ جس معاشرے میں انصاف نہ ہو، وہ ترقی نہیں کر سکتا۔ ملک میں ترقی نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ عوام کو انصاف نہیں مل رہا۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی قانون ساز ادارہ ہے، مگر اگر قانون کا فائدہ عوام تک نہ پہنچے تو یہ ہماری ناکامی ہے۔

علی امین گنڈاپور نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی قید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وہ حقوق نہیں دیے جا رہے جو ایک قیدی کو ملنے چاہییں۔ عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی جا رہی، اس لیے ملاقات کے لیے دباؤ بڑھانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آج ان کا لیڈر جیل میں ہے، کل کسی اور کا لیڈر بھی جیل میں ہو سکتا ہے، اس لیے سیاسی دشمنی اور انتقامی کارروائیوں کا ماحول ختم کرنا ہوگا۔

بجٹ کے داؤ پیچ جانتا ہوں، مجھے کوئی نہیں گھما سکتا

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں 8 بجٹ بنائے ہیں، اس لیے بجٹ کے داؤ پیچ اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کے بقول نئے لوگوں کو گھمایا جا سکتا ہے، لیکن انہیں کوئی نہیں گھما سکتا۔

انہوں نے کہا کہ وفاق سے مسائل حل نہ ہونا صوبائی حکومت کی کمزوری ہے، جبکہ صوبہ مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ ناکامی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کے بجائے حقیقت تسلیم کرنی چاہیے۔

تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کا مطالبہ

سابق وزیراعلیٰ نے بڑھتی مہنگائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں کم از کم 10 فیصد اضافہ ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی اسکیموں کے لیے مختص فنڈز کے باعث تھرو فارورڈ مزید بڑھ رہا ہے، جس کا نقصان عوام کو ہوتا ہے۔

اپوزیشن کو فنڈز نہ دینا غلطی تھی

علی امین گنڈاپور نے اعتراف کیا کہ اپوزیشن کے حلقوں کو فنڈز نہ دینا غلطی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پالیسی یہ تھی کہ اپوزیشن حلقوں میں فنڈز پارٹی ورکرز کو دیے جائیں، پرویز خٹک اور محمود خان کے دور میں بھی یہی طریقہ رہا، کیونکہ وفاق میں بھی اپوزیشن کو فنڈز نہیں دیے جاتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ اپوزیشن کو فنڈز نہ دینا درست فیصلہ نہیں تھا۔

صحت کارڈ اور زراعت سے متعلق تجاویز

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صحت کارڈ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وژن کے مطابق شروع کیا گیا تھا۔ صحت کارڈ بند کیا گیا، تاہم بعد میں اسے بحال کیا گیا۔

انہوں نے تجویز دی کہ صحت کارڈ کے لیے صوبے کی اپنی کمپنی ہونی چاہیے، جس سے قریباً 7 ارب روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔

سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ خیبر پختونخوا کی 69 فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہے، مگر بجٹ میں اس شعبے کے لیے صرف 5 فیصد حصہ رکھا گیا ہے۔

ایوان کی توہین کا الزام

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جن اسکیموں کو مکمل ہونا تھا، ان کے فنڈز کہیں اور خرچ کر دیے گئے، جو ایوان کی توہین ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر پاکستان کو ترقی دینی ہے تو عوام کے لیے سب کو متحد ہونا ہوگا۔ سیاست دان بند کمروں، میدانوں اور شادیوں میں تو اکٹھے ہو جاتے ہیں، مگر عوامی مفاد کے لیے متحد نہیں ہوتے۔

سابق وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے اور سیاسی انتقام کا سلسلہ ختم کرنا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp