اسکینڈے نیویا سے لے کر الپس تک یورپ کا بڑا حصہ ہفتے کے روز شدید گرمی کی لپیٹ میں رہا، جہاں بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا اور متعدد ممالک میں درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔
مختلف ممالک میں گرمی کی لہر کے باعث درجنوں افراد جان کی بازی ہار گئے، صرف فرانس میں 24 جون سے جاری ریکارڈ گرمی کی لہر کے دوران ملک میں معمول سے تقریباً ایک ہزار زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یورپ ہیٹ ویو: اسپین میں 212 ہلاک
حکام کے مطابق 85 فیصد اموات 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی ہوئیں، جبکہ سب سے زیادہ اضافہ پیرس اور اس کے نواحی علاقوں میں گھروں کے اندر ہونے والی اموات میں دیکھا گیا۔ محکمۂ صحت نے واضح کیا کہ یہ ابتدائی اعداد و شمار ہیں اور حتمی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
ہفتے کے روز جرمنی، ڈنمارک اور چیک جمہوریہ میں تاریخ کے بلند ترین درجہ حرارت کے ابتدائی ریکارڈ قائم ہوئے، جبکہ سوئٹزرلینڈ میں جون کے مہینے کا نیا ریکارڈ بنا۔
🚨 Europe is literally melting! 🚨
With heat waves already approaching 40 and 45 °C, the traffic lights in Italy and Germany couldn't withstand the pressure and have started to melt. 🌡️🫠
If you thought the summer in your city was tough, check this out. How's the weather where… pic.twitter.com/cYLK92oxAP
— JIGNESH܁ᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠᅠ (@jignesh03011976) June 28, 2026
ماہرین موسمیات اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی گرمی انسانوں کی پیدا کردہ موسمیاتی تبدیلی کے بغیر تقریباً ناممکن تھی۔
ان کے مطابق اس ہفتے رات کے اوقات میں ریکارڈ کی جانے والی شدید گرمی 2 دہائیاں قبل کے مقابلے میں 100 گنا زیادہ ممکن ہو چکی ہے۔
جرمنی کی گرین پارٹی کی سابق پارلیمانی رہنما کترین گوئرنگ ایکارٹ نے کہا کہ یہ خوشگوار موسمِ گرما نہیں بلکہ صحت عامہ کا بحران ہے۔
مزید پڑھیں: یورپ میں شدید ہیٹ ویو، درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا
برلن میں درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے پر پولیس نے شہریوں کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے واٹر کینن کے ذریعے ہلکا پانی کا چھڑکاؤ کیا۔
جرمن محکمہ موسمیات کے مطابق مشرقی ریاست سیکسنی انہالٹ کے علاقے مویکرن-ڈریوٹز میں درجہ حرارت 41.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
جو ایک روز قبل قائم ہونے والے 41.3 ڈگری کے ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔

ڈنمارک کے محکمہ موسمیات نے شہر آروس کے شمال میں 37 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا، جو 1874 میں ریکارڈنگ شروع ہونے کے بعد ملک کا بلند ترین درجہ حرارت ہے۔
اسی طرح چیک جمہوریہ میں پراگ کے شمال میں 40.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سلوواکیہ کے دارالحکومت براتسلاوا میں جمعہ کی رات ملکی تاریخ کی گرم ترین رات قرار دی گئی۔
پانی کی بچت کی اپیل
جرمنی میں تقریباً پورے ملک کے لیے شدید گرمی کی وارننگ جاری کی گئی، جبکہ گرمی کی لہر مشرق کی جانب بڑھنے سے پولینڈ کے بیشتر علاقوں میں بھی درجہ حرارت 30 ڈگری سے اوپر چلا گیا۔
دریائے ڈینیوب کے پانی کا درجہ حرارت بڑھنے پر ہنگری کے پاکش جوہری بجلی گھر کو اپنے ایک ری ایکٹر کی پیداوار کم کرنا پڑی۔

جبکہ سوئٹزرلینڈ کے بیزناو جوہری پلانٹ نے دریائے آرے کے گرم پانی کے باعث اپنے ری ایکٹر عارضی طور پر بند کر دیے۔
فرانس میں شدید گرمی سے درجنوں افراد، جن میں نوجوان اور بزرگ شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔ 40 ڈگری سے زائد درجہ حرارت کے باعث ریل سروس، بجلی کی پیداوار اور دیگر عوامی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیں: یورپ میں ہیٹ ویو کی شدید لہر، سب سے زیادہ گرمی کہاں پڑ رہی ہے؟
کئی علاقوں میں شراب نوشی پر پابندی عائد کی گئی، تعلیمی سرگرمیاں معطل اور بیرونی تقریبات ملتوی کر دی گئیں۔
فرانسیسی حکومت نے گرمی کی وجہ سے موسمِ گرما کی سیل کی مدت بھی بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

اٹلی کی وزارت صحت نے میلان، روم، ٹورین، وینس، جینوا، فلورنس اور بولونیا سمیت 18 شہروں میں ہفتہ اور اتوار کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا۔
دریائے پو میں پانی کی سطح غیر معمولی حد تک گرنے سے سمندری پانی اندرونِ ملک تک داخل ہو رہا ہے، جس سے زراعت اور آبی ماحولیاتی نظام کو خطرات لاحق ہیں۔
الپس کے پہاڑی علاقوں میں بھی رات کے وقت گرمی برقرار رہی۔ اٹلی کے شہر بولزانو میں رات کا کم سے کم درجہ حرارت 25.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو جون کا نیا ریکارڈ ہے.
جبکہ ماہرین نے یورپ کے گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے پر تشویش ظاہر کی ہے۔
ٹرانسپورٹ اور روزمرہ زندگی متاثر
شدید گرمی کے باعث سڑکوں اور ریلوے ٹریکس کو نقصان پہنچنے کے خدشات کے پیش نظر جرمن ریلوے کمپنی ڈوئچے بان نے آئندہ ہفتے کے آغاز تک طویل فاصلے کے سفر کی مفت منسوخی کی اجازت دے دی۔
جبکہ نیشنل ایکسپریس نے احتیاطی تدابیر کے طور پر بعض ٹرینیں معطل کر دیں۔
مزید پڑھیں: یورپ میں شدید ہیٹ ویو نے ایئرکنڈیشنر ساز ایشیائی کمپنیوں کی جیب گرم کردی
ہیمبرگ کے قریب شدید گرمی سے شاہراہ کا اسفالٹ پھٹنے کے باعث مصروف موٹر وے کا ایک حصہ بند کرنا پڑا۔
سوئٹزرلینڈ میں لوزان پرائیڈ مارچ کے دوران اضافی پانی کے فوارے اور طبی عملہ تعینات کیا گیا، جبکہ میلان میں پرائیڈ مارچ کو گرمی کے اثرات کم کرنے کے لیے شام 5 بجے تک مؤخر کر دیا گیا۔
اسی طرح فرینکفرٹ میں اتوار کو ہونے والی آئرن مین یورپی چیمپئن شپ کے سائیکلنگ اور دوڑ کے مراحل بھی مختصر کر دیے گئے۔
‘اومیگا بلاک’ کی وجہ سے شدید گرمی
ماہرین کے مطابق ہفتے کے اختتام پر گرمی کی شدت میں کچھ کمی متوقع ہے اور اتوار کو مختلف علاقوں میں شدید گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
پیرس میں طوفانی موسم کے خدشے کے پیش نظر پارک، باغات اور نہر سینٹ مارٹن کے تیراکی کے مقامات وقت سے پہلے بند کر دیے گئے۔
رائٹرز کلائمیٹ مانیٹر کے مطابق یہ ہیٹ ویو معمول کے موسمی اوسط سے کہیں زیادہ درجہ حرارت کا سبب بنی، جس کی بنیادی وجہ ‘اومیگا بلاک’ نامی موسمیاتی نظام ہے۔
اس نظام میں گرم ہوا کا ایک بڑا دباؤ کسی خطے پر طویل عرصے تک قائم رہتا ہے، جس کے باعث شدید گرمی برقرار رہتی ہے جبکہ اس کے اطراف نسبتاً ٹھنڈی ہوا موجود ہوتی ہے۔














