: امریکا میں وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کے خلاف منشیات کی اسمگلنگ اور منشیات سے متعلق دہشتگردی کے مقدمے کی باقاعدہ سماعت جون 2027 میں شروع کرنے کی تجویز پیش کر دی گئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وفاقی استغاثہ اور دفاعی وکلا نے بدھ کو ہونے والی عدالتی سماعت سے قبل مشترکہ طور پر قبل از مقدمہ کارروائی کا مجوزہ شیڈول عدالت میں جمع کرا دیا ہے، جسے امریکی ضلعی جج ایلون ہیلرسٹین منظور کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نکولس مادورو کی برطرفی کے بعد وینزویلا کے تارکین وطن واپسی پر غور کرنے لگے
مجوزہ شیڈول کے مطابق نکولس مادورو کی جانب سے خودمختار استثنیٰ (سوورین امیونٹی) سے متعلق درخواست ستمبر میں دائر کی جائے گی، جس پر نومبر میں دلائل ہوں گے، جبکہ دفاع کی دیگر درخواستیں جنوری 2027 تک جمع کرائی جائیں گی۔
استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ زیادہ تر غیر خفیہ شواہد پہلے ہی دفاع کے حوالے کیے جا چکے ہیں، جبکہ بیشتر خفیہ مواد نومبر تک فراہم کر دیا جائے گا۔ دونوں فریقوں نے ضرورت پڑنے پر مقدمے کی سماعت مؤخر کرنے کا حق بھی محفوظ رکھا ہے، جبکہ استغاثہ کا کہنا ہے کہ خفیہ شواہد سے متعلق مسائل پیدا ہونے کی صورت میں شیڈول میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نکولس مادورو کا بیٹا نکولاسیٹو منظر عام پر، امریکی کارروائی کی شدید مذمت
مادورو اور ان کی اہلیہ آخری بار مارچ میں عدالت میں پیش ہوئے تھے، جہاں دفاعی وکلا نے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دی تھی کہ امریکی پابندیوں کے باعث وینزویلا ان کی قانونی فیس ادا نہیں کر سکتا۔ بعد ازاں یہ درخواست واپس لے لی گئی، کیونکہ امریکی محکمۂ خزانہ کے متعلقہ دفتر نے وینزویلا کے سرکاری فنڈز سے قانونی اخراجات ادا کرنے کی اجازت دے دی تھی۔
امریکا نے جنوری میں ایک فوجی کارروائی کے بعد نکولس مادورو اور سیلیا فلورس کو وینزویلا سے اپنی تحویل میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان پر منشیات سے متعلق دہشتگردی اور منشیات کی اسمگلنگ سمیت متعدد الزامات عائد ہیں۔ استغاثہ کے مطابق دونوں نے منشیات فروش گروہوں کے ساتھ مل کر ہزاروں ٹن کوکین امریکا منتقل کرنے میں کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور اہلیہ نیویارک کی عدالت میں پیش، فرد جرم عائد
جنوری میں عدالت میں پیشی کے دوران نکولس مادورو نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا تھا، ‘میں بے قصور ہوں، میں نے کوئی جرم نہیں کیا، میں ایک باوقار انسان ہوں اور اب بھی اپنے ملک کا صدر ہوں۔’














