آج کل پاکستانی سوشل میڈیا پر ایک دلچسپ ٹرینڈ چل رہا ہے۔ لوگ اپنی موجودہ تصویر اے آئی کو دیتے ہیں اور چند لمحوں بعد وہی شخص 1980 یا چوراسی، پچاسی کے کسی پاکستانی فوٹو اسٹوڈیو سے نکلا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ کہیں چوڑے کالر والی شرٹ، کہیں پرانے فریم کی عینک، گھنی مونچھیں اور اسی زمانے کا ہیئر اسٹائل۔ تصویر کے رنگ بھی ہلکے، تھوڑے سے مدھم جیسے کسی پرانے فیملی البم کے پلاسٹک کور کے نیچے تیس چالیس برس سے محفوظ پڑی رہی ہو۔
کچھ لوگ اپنی حقیقی 1980 بیاسی یا نوے کی تصویر کے ساتھ آج کی اے آئی سے بنائی گئی تصویر ملا کر پوسٹ کررہے ہیں۔ کوئی خود کو پرانے فلمی ہیرو کے انداز میں دیکھ رہا ہے، کوئی اپنی اہلیہ کو اسی دور کے لباس میں، بعض نے اپنے نوجوان بچوں کو بھی ایسا بنا دیا ہے جیسے وہ ان کے ہم جماعت رہے ہوں۔ بظاہر یہ چند دن کا سوشل میڈیا کھیل ہے، مجھے مگر اس میں دلچسپ پیٹرن نظر آئے۔
کتنی عجیب بات ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا کی تصویر بنانے کے لیے اے آئی استعمال کر رہے ہیں جس کی کشش شاید یہی ہے کہ اُس دنیا میں اے آئی نہیں تھی۔ اسمارٹ فون، نہ ہر لمحے نوٹیفکیشن اور نہ کھانا ٹھنڈا ہونے سے پہلے اس کی تصویر بنا کر دنیا کو دکھانے کی ضرورت۔ ہم مستقبل کی سب سے نئی ٹیکنالوجی سے ماضی تخلیق کر رہے ہیں۔ آخر کیوں؟
ادھار کی یاد
گزشتہ کچھ عرصے سے امریکی، برطانوی، کینیڈین اور آسٹریلوی اخبارات پڑھتے ہوئے میں بار بار ایک رجحان نوٹ کررہا ہوں۔ نئی نسل کے ایک حصے، خاص کر جین زی میں پچھلی دہائیوں کے فیشن، موسیقی، گھریلو سجاوٹ اور طرز زندگی کی کشش بڑھ رہی ہے۔ ڈھیلی یعنی بیگی جینز، چھوٹی ٹی شرٹس، چوڑے بیلٹ، پرانے ڈیزائن کے جوتے، جیکٹس، قدیمی ریکارڈ اور پرانے کیمرے نوجوان ڈھونڈ کر خرید رہے ہیں۔ یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ جو نوجوان 1980 میں پیدا ہی نہیں ہوا، وہ اس زمانے کا لباس کیوں پہننا چاہتا ہے؟ جس نے 1990 کی دہائی دیکھی ہی نہیں، وہ اس کے لیے ناسٹلجیا کیوں محسوس کرتا ہے؟
ماہرین اس کیفیت کو تاریخی ناسٹلجیا کہہ رہے ہیں۔ سادہ لفظوں میں اسے ادھار کی یاد کہہ لیں۔ والدین کے البم، پرانی فلمیں، ڈرامے، موسیقی، یوٹیوب کلپس اور اب اے آئی مل کر ایک ایسا ماضی بنا دیتے ہیں جس میں نئی نسل خود کو رکھ کر دیکھنا چاہتی ہے۔
ویسے مارکیٹ ٹرینڈز بھی اس کی تصدیق کررہے ہیں۔ امریکا میں یوگوو کے ایک سروے میں جین زی کے تقریباً 65 فیصد افراد نے 1990 کی دہائی کے فیشن کو دوسرے عشروں سے زیادہ پسند کیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے 2000 کے ابتدائی برسوں کے ٹریک سوٹس اور ڈھیلی جینز کی واپسی کے ٹرینڈ پر لکھا۔
برطانیہ میں گارڈین نے اویسس کے کنسرٹس کو 1990 کی نئی کشش سے جوڑا، جہاں پرانے مداحوں کے ساتھ ان کے بچے بھی پہنچ رہے ہیں۔ آسٹریلیا میں اے بی سی نے ایک دکاندار کا ذکر کیا جس کے پاس سوشل میڈیا پر مقبول ایک پرانے کیمرے کے تقریباً اسی آرڈر جمع تھے۔ کینیڈین پریس سے نوجوانوں نے کہاکہ ان کیمروں کی دانے دار، کبھی قدرے دھندلی تصویر انہیں والدین کے پرانے البمز جیسی لگتی ہے۔ سمارٹ فون کی بے عیب اور ضرورت سے زیادہ صاف تصویر اب بعض لوگوں کو مصنوعی محسوس ہوتی ہے۔
اس پورے منظرنامے اور رجحان پر ممتاز برطانوی اخبار ٹائمز میں جینس ٹرنر نے دلچسپ کالم لکھا۔ مصنفہ کے بقول ان کا بیٹا کہتا ہے کہ 1990 کی دہائی جدید تاریخ میں جینے کے لیے شاید بہترین عشرہ تھا اور آپ لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ آپ کتنے خوش قسمت تھے۔
آج کے نوجوان پرانے ٹی وی شوز دیکھتے، اس زمانے کی برطانوی پاپ موسیقی سنتے اور اسی طرح کنسرٹ ویڈیوز شیئر کرتے ہیں جہاں لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنس اور ناچ رہے ہیں، ہر شخص فون کی اسکرین میں دفن نہیں۔ ظاہر ہے یہ ہر نوجوان کی کہانی نہیں، ایک قابل ذکر حلقہ مگر شاید ماضی کے سامان سے زیادہ ماضی کا احساس ڈھونڈ رہا ہے۔
کیا زمانہ تھا، لوگ کتنے اصلی لگتے تھے
پاکستان میں یہ بات اور بھی آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پر 1980 یا نوے کے پاکستان کی کوئی عام سی تصویر لگا دیں۔ مال روڈ لاہور، صدر کراچی، مری، کسی یونیورسٹی کا کیمپس، کسی متوسط طبقے کے خاندان کی عید کی تصویر یا پی ٹی وی کے کسی پرانے پروگرام کا کلپ لگائیں۔ نیچے کمنٹس پڑھیے، لوگ فوراً کہیں گے، کیا زمانہ تھا، زندگی کتنی سادہ تھی، لوگ کتنے اصلی لگتے تھے، ہم غریب تھے مگر خوش تھے۔
سچی بات یہ ہے کہ ایسی بات تاریخی حقیقت نہیں۔ اُس زمانے کے پاکستان میں سیاسی بحران تھے، فرقہ وارانہ کشیدگی تھی، معیشت کمزور تھی اور علاج، مواصلات اور معلومات تک رسائی آج کے مقابلے میں کہیں کم تھی۔ انسانی یادداشت مگر تاریخ کی کتاب نہیں ہوتی۔ وہ کچھ چیزیں بھلا دیتی ہے اور کچھ محفوظ رکھتی ہے۔ لینڈ لائن فون لگوانے کا انتظار شاید یاد نہ رہے، وہ شام مگر یاد رہ جاتی ہے جب گلی میں بچے کھیلتے تھے، دروازے کھلے رہتے تھے، محلے کے کئی گھروں میں آنا جانا تھا اور دوست سے بات کرنے کے لیے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت نہیں تھی کہ وہ آن لائن ہے یا نہیں۔
جب مستقبل بہتر دکھائی دیتا تھا
1990 کی دہائی کامل نہیں تھی، مغربی دنیا میں مگر اس زمانے کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ مستقبل نسبتاً بہتر دکھائی دیتا تھا۔ سرد جنگ ختم ہو چکی تھی، جوہری تصادم کا خوف کم ہوا۔ جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کا نظام ختم ہوا، اوزون کی تہہ کے مسئلے پر عالمی تعاون کامیاب دکھائی دیا اور شمالی آئرلینڈ جیسے طویل اور خونریز تنازعے میں بھی امن کی راہ نکلی۔ ایک پوری نسل نے یہ سبق سیکھا کہ بڑے مسئلے مشکل ضرور ہوتے ہیں، ناقابل حل نہیں۔
مغرب میں جینے والے آج کے نوجوان کو صبح فون کھولتے ہی اس کے برعکس پیغام ملتا ہے۔ جنگ، موسمیاتی بحران، مہنگائی، سیاسی نفرت، مہنگے مکان، روزگار کا عدم تحفظ اور اب اے آئی کا یہ سوال کہ جس پیشے کی تیاری کررہے ہو، پانچ دس برس بعد وہ پیشہ اسی شکل میں باقی بھی رہے گا یا نہیں؟ ادھر ہمارے ہاں پاکستانی نوجوان کی بے یقینی اس سے بھی گہری ہے۔ اعلیٰ اور مہنگی تعلیم کے بعد اچھی ملازمت یقینی نہیں۔ کرایہ، بجلی اور روزمرہ اخراجات متوسط گھرانے کی آمدن کا بڑا حصہ کھا جاتے ہیں۔ ہر روز صبح آنکھ کھلتے ہی پیٹرول کے نئے بڑھے ہوئے ریٹ کا پتا چلتا ہے۔ اپنا گھر بہت سوں کے لیے دور کا خواب بنتا جا رہا ہے۔ بہتر مواقع کی تلاش میں نگاہ اکثر بیرون ملک جا ٹھہرتی ہے۔
ناسٹلجیا کا معاشی پہلو
پاکستانی بچوں کو شائد اندازہ نہیں کہ ان کے والد کی نسل کے لیے بھی زندگی آسان نہیں تھی۔ ایک عام پاکسانی متوسط طبقے کے آدمی کے ذہن میں مگر زندگی کا ایک نقشہ موجود تھا۔ پڑھائی مکمل کرو، نوکری لو، کچھ برس بعد شادی، پھر شاید ایک چھوٹا سا گھر، موٹر سائیکل سے گاڑی کی طرف سفر۔ آج وہ نقشہ دھندلا ہوچکا ہے۔
ٹائمز لندن میں جینس ٹرنر لکھتی ہیں کہ 1997 میں برطانیہ میں اوسط گھر کی قیمت اوسط آمدن کے تقریباً ساڑھے تین گنا تھی، اب 8 گنا سے زیادہ ہے۔ ان کی اپنی نسل میں شادی، گھر، بچے اور کیریئر کوئی غیر معمولی کامیابی نہیں بلکہ متوسط طبقے کے لیے ایک قابل حصول راستہ تھا، آج یہ نہیں رہا۔
پاکستان میں اعداد مختلف ہوں گے، مگر نتیجہ وہی ہے۔ اپنے آس پاس نوجوانوں کو دیکھیے۔ کتنے ایسے ہیں جو شادی کرنا چاہتے ہیں مگر کہتے ہیں پہلے آمدن کچھ مستحکم ہو جائے، اور یہ انتظار آگے ہی سرکتا جاتا ہے۔ کتنے اپنا گھر بنانے کا سوچ کر ہی گھبرا جاتے ہیں اور کتنے زیادہ اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی کئی برس والدین پر انحصار کرتے ہیں۔ ماضی کی کشش کبھی کبھی معاشی ناسٹلجیا بھی ہوتی ہے۔
ٹیکنالوجی نے جو وعدہ کیا تھا
وعدہ تھا کہ ٹیکنالوجی ہماری زندگی آسان کر دے گی، کہیں راستے میں مگر معاملہ بدل گیا۔ ہم فون استعمال کرتے تھے، اب فون ہماری پوری توجہ اور فوکس کھا جاتا ہے۔ پہلے ہم انٹرنیٹ براؤزنگ کرتے تھے، اب ہم مسلسل انٹرنیٹ میں گھسے رہتے ہیں۔ پہلے شادی یا کسی تقریب میں جاتے تھے تو اس میں شریک ہوتے تھے، اب خاصا وقت یہ سوچنے میں نکل جاتا ہے کہ تصویر کیسی آئی، اسٹوری لگانی ہے، ریل بنانی ہے اور پھر کس نے لائک کیا اور کس نے نہیں کیا؟
کینیڈین رپورٹ میں ایک طالبہ نے بتایا کہ اس نے اپنی والدہ کا پرانا کیمرہ اس لیے اٹھایا کہ یاد بھی محفوظ رہے اور وہ خود اس لمحے میں موجود بھی رہے۔ یہ جملہ مجھے مزے کا لگا۔ نئی نسل ٹیکنالوجی چھوڑنا نہیں چاہتی، صرف یہ چاہتی ہے کہ ٹیکنالوجی ہر لمحے کے درمیان آ کر نہ کھڑی ہو۔ پرانے فیملی البم کی تصویر میں ایک بات آج ہمیں بڑی خوبصورت لگتی ہے۔ اس شخص کو معلوم نہیں تھا کہ پوری دنیا اسے دیکھ سکتی ہے۔ وہ صرف تصویر کھنچوا رہا تھا، اپنا برانڈ نہیں بنا رہا تھا۔ شاید اسی لیے پرانے پی ٹی وی ڈرامے بھی آج ایک عجیب سا سکون دیتے ہیں۔ رفتار دھیمی ہے، لوگ پورے جملے بولتے ہیں، ہر دس سیکنڈ بعد کوئی نیا بصری دھماکا نہیں ہوتا اور کردار خاموش بھی رہ سکتے ہیں۔ نئی نسل اس رفتار میں نہیں پلی، شاید اسی لیے اسے وہ مختلف اور پرکشش لگتی ہے۔
وہ محلہ جو گم ہو گیا
ہماری پچھلی نسل کی یادوں میں محلہ بہت اہم تھا۔ بچے گلی میں کرکٹ، پٹھو گرم اور گلی ڈنڈا کھیلتے۔ دوست بنانے کے لیے پہلے سے وقت طے نہیں کرنا پڑتا تھا۔ کسی گھر میں مہمان آتے تو بچے بھی ساتھ آتے، کزنز کی پوری نسلیں اکٹھی بڑی ہوتیں۔ آج بڑے شہروں میں گھر بہتر، گاڑیاں بہتر اور سہولتیں زیادہ ہیں، بہت سے بچوں کی دنیا مگر ان کے اسکول، ٹیوشن، گھر اور اسکرین کے درمیان محدود ہوگئی ہے۔ خاندانی دعوت میں بھی اکثر ہر شخص اپنے فون میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ ممکن ہے جب کوئی نوجوان 1980 کی تصویر دیکھتا ہے تو اسے لباس سے زیادہ اس تصویر کے باہر موجود دنیا اپنی طرف کھینچ رہی ہو، ایسی دنیا جہاں دوست چند قدم کے فاصلے پر تھا، چند کلکس کے فاصلے پر نہیں۔
یہ رجحان صرف کپڑوں اور کیمروں تک محدود نہیں۔ پچھلے سال کرسمس ٹک ٹاک پر 1990 کے انداز کی گھریلو سجاوٹ کی ہزاروں ویڈیوز سامنے آئیں، رنگین روشنیاں، ہاتھ سے بنے آرائشی کھلونے اور وی ایچ ایس پر ہوم الون۔ آسٹریلیا میں کے مارٹ نے سی ڈی پلیئر اور تار والا فون تک دوبارہ بازار میں اتارا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سادہ زندگی کی یہ خواہش بھی ٹک ٹاک کے ذریعے پھیل رہی ہے۔ نئی نسل ٹیکنالوجی ترک نہیں کر رہی، اسی کے اندر رہتے ہوئے اس سے کچھ فاصلہ بنانے کے طریقے ڈھونڈ رہی ہے۔
ماضی نہیں، وہ یقین واپس چاہیے
اس سب کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہمیں سب چھوڑ چھاڑ کر ماضی میں واپس چلے جانا چاہیے۔ ماضی کے ساتھ مسئلہ یہی ہے کہ ہم اسے کانٹ چھانٹ کر یاد کرتے ہیں۔ پاکستانی نوجوان 1985 کا اصل پاکستان، محدود معلومات اور ناکافی علاج واپس نہیں چاہتا۔ وہ گوگل، یوٹیوب، جدید علاج، آن لائن بینکنگ اور دنیا بھر کے علم تک فوری رسائی ترک نہیں کرے گا۔ وہ شاید صرف یہ پوچھ رہا ہے کہ کیا آج کی تمام سہولتیں رکھتے ہوئے کل کا کچھ سکون بھی واپس حاصل کیا جا سکتا ہے؟ کچھ کم شور، کم موازنہ، زیادہ پرائیویسی، زیادہ خاندانی وقت۔ سب سے بڑھ کر چند حقیقی دوست اور یہ یقین کہ پانچ یا دس سال بعد زندگی آج سے بہتر ہوگی۔
اسی لیے 1980 کے انداز کی یہ اے آئی تصاویر مجھے محض ایک تفریحی ٹرینڈ نہیں لگتیں۔ ان میں ہمارے زمانے کا ایک بڑا دلچسپ تضاد چھپا ہے۔ ہم مستقبل کی سب سے جدید ٹیکنالوجی سے ماضی کی تصویر بنوا رہے ہیں۔ شاید اس لیے نہیں کہ ہمیں 1985 واپس چاہیے، بلکہ اس لیے کہ ہمیں 2026 میں وہ امید، سادگی اور انسانی قربت چاہیے جو ہم نے اس پرانی تصویر کے ساتھ وابستہ کر رکھی ہے۔
جین زی ماضی کی طرف نہیں بھاگ رہی۔ ممکن ہے اس کا ایک حصہ ماضی کی کھڑکی سے جھانک کر صرف یہ دیکھ رہا ہو کہ مستقبل کیسا ہونا چاہیے تھا؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













