مزید عدالتیں یا بہتر انصاف؟

بدھ 22 جولائی 2026
author image

عبید الرحمان عباسی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں جب بھی عدالتی اصلاحات کی بات ہوتی ہے تو اکثر اس کا آغاز ایک نئی عدالت یا نئے ٹریبونل کے قیام سے کیا جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر مسئلے کا حل ایک نئی عدالت ہے۔ حالیہ دنوں وفاقی کمرشل کورٹ کے قیام کی تجویز بھی اسی سوچ کی عکاس ہے۔ بظاہر یہ تجویز سرمایہ کاری، تجارتی تنازعات کے فوری حل اور معاشی ترقی کے لیے مفید دکھائی دیتی ہے، لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا اصل مسئلہ عدالتوں کی کمی ہے یا انصاف کی فراہمی کا بحران؟

میری رائے میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ صرف بدعنوانی، مالی مشکلات یا سرمایہ کاری کی کمی نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی کا وہ نظام ہے جو شدید دباؤ، غیر معمولی تاخیر اور عوامی بے اعتمادی کا شکار ہے۔ جب انصاف بروقت نہ ملے تو قانون کی حکمرانی کمزور پڑتی ہے، معیشت متاثر ہوتی ہے، سرمایہ کاری رک جاتی ہے اور شہریوں کا ریاست پر اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے۔ آج پاکستان کی عدالتوں میں لاکھوں مقدمات زیر التوا ہیں۔ عام شہری، پینشنرز، مزدور، کسان، خواتین، چھوٹے کاروباری افراد اور کمزور طبقات برسوں بلکہ بعض اوقات دہائیوں تک انصاف کے منتظر رہتے ہیں۔ بعض مقدمات میں فیصلہ آنے تک فریقین اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، لیکن مقدمات ختم نہیں ہوتے۔ انصاف میں اس تاخیر نے عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

یہ تاثر بھی عام ہے کہ وسائل، مؤثر قانونی معاونت یا زیادہ ادارہ جاتی رسائی رکھنے والے فریق نسبتاً جلد اپنے مقدمات آگے بڑھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، جبکہ عام شہری طویل انتظار کرتا رہتا ہے۔ خواہ اس تاثر کی وجوہات کچھ بھی ہوں، حقیقت یہ ہے کہ انصاف کا نظام صرف منصفانہ ہونا کافی نہیں، بلکہ عوام کو اس پر یکساں اعتماد بھی ہونا چاہیے۔

ایسے حالات میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک اور نئی عدالت واقعی اس بحران کا علاج ہے؟

پاکستان میں پہلے ہی خصوصی عدالتوں کی کمی نہیں۔ بینکنگ کورٹس، فیملی کورٹس، لیبر کورٹس، کنزیومر کورٹس، ڈرگ کورٹس، احتساب عدالتیں، انسداد دہشتگردی کی عدالتیں، سروس ٹریبونلز اور متعدد دیگر خصوصی فورمز موجود ہیں۔ اگر صرف نئی عدالتیں قائم کرنے سے انصاف بہتر ہوتا تو آج پاکستان دنیا کے بہترین عدالتی نظام رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا۔

وفاقی کمرشل کورٹ کے حامی اکثر سنگاپور، برطانیہ، متحدہ عرب امارات اور امریکا کی مثال دیتے ہیں، لیکن یہ تقابل اسی وقت درست ہوگا جب پورا تناظر بھی سامنے رکھا جائے۔ ان ممالک میں صرف خصوصی عدالتیں ہی نہیں بلکہ پورا عدالتی نظام تیز رفتار، جوابدہ، جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ اور مؤثر انتظامی ڈھانچے پر قائم ہے۔ وہاں کیس مینجمنٹ مضبوط ہے، غیر ضروری التوا کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، عدالتی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے اور انصاف کی فراہمی کو ریاست کی اولین ترجیح سمجھا جاتا ہے۔ خصوصی عدالتیں وہاں مضبوط نظام کا حصہ ہیں، کمزور نظام کا متبادل نہیں۔

پاکستان اس وقت شدید مالی دباؤ اور بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں ہر نئی عدالت کے قیام کا مطلب نئی عمارتیں، انتظامی ڈھانچہ، جج، رجسٹرار، عملہ، سیکیورٹی، گاڑیاں، دفاتر اور مسلسل سرکاری اخراجات ہیں۔ قومی وسائل محدود ہوں تو ریاست کو ہر نئے ادارے کے قیام سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا موجودہ اداروں کو مؤثر بنا کر بھی مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔

اگر واقعی تجارتی انصاف بہتر بنانا مقصود ہے تو اس کے لیے ایک کم خرچ اور زیادہ مؤثر راستہ موجود ہے، موجودہ ہائیکورٹس کے اندر خصوصی کمرشل بینچز قائم کیے جا سکتے ہیں، تجربہ کار جج تعینات کیے جا سکتے ہیں، جدید کیس مینجمنٹ، ای فائلنگ، ورچوئل سماعتوں اور مقدمات کے لیے لازمی ٹائم لائنز متعارف کرائی جا سکتی ہیں۔ اس سے مطلوبہ مقصد بھی حاصل ہوگا اور نئے ادارے کے قیام پر اربوں روپے خرچ کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑےگی۔

اصل عدالتی اصلاح کا مطلب عدالتوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ انصاف کی رفتار، معیار، شفافیت اور عوامی اعتماد کو بہتر بنانا ہے۔ جب تک ماتحت عدالتوں کی استعداد میں اضافہ، ججوں کی خالی آسامیوں کی بروقت تکمیل، عدالتی نظم و نسق میں بہتری، غیر ضروری التوا کا خاتمہ اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال یقینی نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک نئی عدالتیں بھی انہی مسائل کا شکار رہیں گی جن کا سامنا موجودہ نظام کو ہے۔

پاکستان کو آج ایک بنیادی سوال کا جواب دینا ہوگا: کیا ہم نئے ادارے بنا کر اصلاح کا تاثر پیدا کرنا چاہتے ہیں یا موجودہ نظام کو واقعی مؤثر بنانا چاہتے ہیں؟

اگر ایک عام شہری، ایک پینشنر، ایک بیوہ، ایک مزدور اور ایک چھوٹا تاجر اپنے مقدمے کا فیصلہ برسوں تک حاصل نہ کر سکے تو پھر ایک اور خصوصی عدالت قائم کر دینا اصلاح نہیں بلکہ مسئلے کو ایک نئی شکل دینا ہے۔

پاکستان کو اس وقت مزید عدالتیں نہیں بلکہ بہتر انصاف چاہیے۔ انصاف جو بروقت ہو، سستا ہو، شفاف ہو، سب کے لیے یکساں ہو اور عوام کے اعتماد کو بحال کرے۔ یہی وہ اصلاح ہے جو سرمایہ کاری بھی لائے گی، معیشت کو بھی مضبوط کرے گی اور ریاست کو بھی مستحکم بنائے گی۔ اس کے بغیر نئی عدالتیں بن سکتی ہیں، لیکن انصاف کا خواب پھر بھی ادھورا رہے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سینئر قانون دان کالم نگار اور فری لانس جرنلسٹ ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی آئی اے اور ایئر فرانس کا اشتراک، ایک ہی ٹکٹ پر یورپ کے 21 شہروں کا سفر ممکن

راول ڈیم صفائی مہم، 200 سے زیادہ رضاکاروں کی شرکت، 2 ٹن کچرا اٹھا لیا

پاکستان میں مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ’آئی آر ایف پیس بلڈر فورم‘ اگست میں شروع ہوگا

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیر العظیم انتقال کر گئے

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کردیا گیا

ویڈیو

اسحاق ڈار کی فلپائن میں سری لنکا اور مصر کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقاتیں

پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش

بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید

کالم / تجزیہ

فلم تھری ایڈیٹس کے حقیقی رانچھو کی اصل جنگ

کشمیر انتخابات: تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے

ورلڈ کپ ختم ہوا، کہانی نہیں