گوہر رشید نے عورت مارچ کے متنازع پوسٹرز پر سوالات اٹھا دیے؟

بدھ 29 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار گوہر رشید نے عورت مارچ کے دوران اٹھائے جانے والے بعض نعروں اور پوسٹرز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کے حقوق کی بات مہذب اور باوقار انداز میں بھی کی جا سکتی ہے۔

حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے گوہر رشید کا کہنا تھا کہ گوہر رشید نے کہا(Objectify) نہیں بنایا جانا چاہیے، اسی لیے فلموں اور شوبز میں آئٹم نمبرز کی بھی حمایت نہیں کی جا سکتی کیونکہ وہ خواتین محض ایک شے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح عورت مارچ میں بھی بعض پوسٹرز انتہائی نامناسب اور غیر شائستہ ہوتے ہیں جبکہ اپنے مؤقف اور مطالبات کو زیادہ مہذب اور باوقار انداز میں بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔

گوہر رشید کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ صارفین نے ان کی رائے سے اتفاق کیا جبکہ متعدد افراد نے اس پر تنقید بھی کی۔

ایک صارف نے لکھا کہ گوہر رشید درست کہہ رہے ہیں اب عورت مارچ کے حامی یقیناً ان پر تنقید کریں گے۔ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ کاش وہ خواتین پر تشدد اور بچوں کے ساتھ زیادتی جیسے سنگین مسائل پر بھی اتنے ہی سخت مؤقف اختیار کرتے جبکہ ایک اور صارف نے لکھا کہ تین مرد خواتین کو یہ سمجھا رہے ہیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp