کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ہفتہ 22 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وسائل کی کمی بھی بلوچستان کی نوجوان کوہ پیما ملائکہ خان خلجی کے حوصلے پست نہ کرسکی، کوہ پیمائی کے لیے مہنگے جوتے خریدنے کے بجائے کرائے پر لے کر اسکردو میں 640 میٹر بلند پہاڑ سر کرنے والی ملائکہ اب اسپانٹک سمیت 7 اور 8 ہزار میٹر بلند چوٹیوں کو سر کرنے کا خواب دیکھ رہی ہیں۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ملائکہ خان خلجی نے بتایا کہ انہیں بچپن ہی سے پہاڑوں پر جانے کا شوق تھا اور وہ اپنے والد اور بڑے بھائی کے ہمراہ کوئٹہ کے چلتن اور تکتو پہاڑوں پر جاتی رہی ہیں، تاہم پیشہ ورانہ طور پر کوہ پیمائی کو آگے بڑھانے کے لیے انہیں مناسب موقع اور راستے کی ضرورت تھی۔

انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں انہیں پاکستان بھر سے منتخب کی گئی 11 لڑکیوں پر مشتمل کوہ پیماؤں کی ٹیم میں شامل کیا گیا، جس میں وہ سب سے کم عمر جبکہ بلوچستان سے واحد لڑکی تھیں۔ ٹیم نے اسکردو میں 640 میٹر بلند پہاڑ کی مہم مکمل کی۔

ملائکہ خان خلجی کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ان کا ہدف صرف چھوٹی چوٹیوں تک محدود نہیں بلکہ وہ پہلے اسپانٹک اور اس کے بعد پاکستان کی 7 اور 8 ہزار میٹر بلند چوٹیوں کو سر کرنا چاہتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کوہ پیمائی کے دوران سب سے بڑا چیلنج خاندان سے اجازت حاصل کرنا تھا۔ ماضی میں کئی مرتبہ انہیں مواقع ملے لیکن خاندان کی جانب سے اجازت نہیں دی گئی، تاہم اس مرتبہ ان کے بڑے بھائی نے ان کی حمایت کی، جس کے بعد والد بھی راضی ہوگئے۔

ملائکہ کے مطابق ان کے خاندان اور معاشرے میں لڑکیوں کے لیے کوہ پیمائی کو اب بھی عام کھیل کے طور پر نہیں دیکھا جاتا، بعض رشتہ داروں نے تو پہاڑوں پر جانے پر انہیں ’پاگل‘ بھی کہا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ کوہ پیمائی بھی ایک کھیل اور ایڈونچر اسپورٹس کا حصہ ہے اور لڑکیوں کو بھی اس میدان میں آگے آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان سمیت پاکستان میں بہت سی لڑکیوں کو پہاڑوں پر جانے کا شوق ہوسکتا ہے لیکن انہیں خاندانوں کی اجازت اور معاونت نہیں ملتی، لڑکیوں کو چاہیے کہ وہ پہلے اپنی صلاحیت ثابت کریں، کامیابی حاصل کریں اور اپنی فیملی کا اعتماد جیتیں، اس کے بعد خاندان بھی ان کا ساتھ دے گا۔

مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے ملائکہ نے بتایا کہ وہ بلوچستان انسٹیٹیوٹ فار ٹورزم، ہاسپیٹیلٹی اینڈ کلچر میں زیر تعلیم ہیں جبکہ الپائن کلب نے انہیں اسکالرشپ دی، جس سے مہم کے زیادہ تر اخراجات پورے ہوئے، تاہم کوہ پیمائی کا سامان انتہائی مہنگا ہونے کے باعث وہ جوتے سمیت بعض ضروری سامان خریدنے کے بجائے کرائے پر لے کر مہم پر گئیں۔

ملائکہ خان خلجی نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ انہیں مستقبل کی کوہ پیمائی مہمات کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے تاکہ وہ نہ صرف خود مزید بلند چوٹیوں کو سر کرسکیں بلکہ بلوچستان کی مزید لڑکیوں کو بھی اس کھیل میں آگے آنے کا موقع مل سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ مہم میں بلوچستان سے وہ واحد لڑکی تھیں جبکہ پاکستان کے دیگر صوبوں سے 3-3 اور 4-4 لڑکیاں ٹیم کا حصہ تھیں، وہ چاہتی ہیں کہ آئندہ مہم میں بلوچستان سے بھی کئی لڑکیاں ٹیم کا حصہ بنیں اور قومی سطح پر صوبے کی نمائندگی کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘