کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

بدھ 5 اگست 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پانچ اگست 2019 کو بھارت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کو کالعدم قرار دے کر کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے اپنے تئیں اسے بھارت کا حصہ قرار دے دیا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کشمیر بھارت کا حصہ بن گیا ہے؟ کیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں طے کردہ اصول بھارت کی قانون سازی سے ختم ہو جاتے ہیں؟

چند بنیادی چیزیں اچی طرح سمجھ لینی چاہییں۔

کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے، بین الاقوامی قانون کے مطابق اس کی قسمت کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ اقوام متحدہ واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ یہ فیصلہ صرف اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے والے استصواب رائے کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے، نہ مقبوضہ کشمیر کی مقامی کٹھ پتلی اسمبلی کو یہ اختیار ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے استصواب رائے سے ہٹ کر کوئی فیصلہ کرے نہ ہی بھارت کو۔ ان دونوں کا کوئی بھی فیصلہ چاہے آئینی ہو یا انتظامی حق خودارادیت کا متبادل نہیں ہو سکتا، نہ ہی ان کے پاس کوئی ایسا اختیار ہے کہ یہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔

اسی طرح بھارت اپنے آئین میں کی گئی کسی ترمیم کی بنیاد پر کشمیریوں کا حق خودارادیت ان سے نہیں چھین سکتا۔ بھارت ایک قابض قوت ہے اور اقوام متحدہ نے اس قبضے کو تسلیم نہیں کیا۔ بھارت کا آئین بھارت میں نافذ العمل ہو سکتا ہے لیکن کشمیر میں نہیں، کیونکہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے۔ بین الاقوامی قانون بہت واضح ہے کہ قابض قوت مقبوضہ جات کی مالک نہیں ہوتی، قبضہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو جائے وہ قوت صرف قابض ہی رہتی ہے۔

یہ اصول 1928 کے معاہدہ پیرس میں طے ہوا، یہی بات اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 میں کہی گئی ہے۔ ہیگ کنونشن کا آرٹیکل 45 بھی یہی کہتا ہے اور جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں میں بھی اس اصول کا اعادہ کیا جا چکا ہے کہ قابض قوت مقبوضہ علاقوں کی مالک نہیں ہوتی۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ بین الاقوامی تنازعات میں بھارت کے آئین کی بین الاقوامی قانون کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہے۔ بین الاقوامی تنازعات کسی قابض ملک کے آئین کے تحت حل نہیں ہوتے، یہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے مسلمہ ضابطوں کی روشنی میں حل ہوتے ہیں۔ بھارت عالمی برادری کا رکن ہونے کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کا پابند ہے، اقوام متحدہ بھارت کے آئین کی پابند نہیں ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ آرٹیکل 370 ہمارا پوائنٹ آف ریفرنس نہیں ہے۔ یہ قانون بنے یا پامال ہو جائے ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ تو بھارت اور اس کے طفیلیے شیخ عبداللہ کی بندر بانٹ تھی، ہمارا پوائنٹ آف ریفرنس اقوام متحدہ کی قراردادیں اور استصواب رائے ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل 68 سال پہلے 30 مارچ 1951 کو اور پھر نومبر 1956 کو یہ اصول طے کر چکی ہے کہ کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے بھارت کی پارلیمان یا مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کے کسی قانون کسی فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی اور اس سے کشمیریوں کا حق خودارادیت ختم نہیں ہوگا۔

کشمیر اگر انٹر نیشنل لا کی روشنی میں ایک حل طلب متنازعہ مسئلہ تھا تو یہ آرٹیکل 370 کی وجہ سے نہیں تھا کہ وہ آرٹیکل ختم ہوگیا تو اب کشمیر کی حیثیت بھی ختم ہوگئی۔

کشمیر کی حیثیت کا تعین اقوام متحدہ کی قراردادیں کرتی ہیں اور ان قراردادوں کے بارے میں سلامتی کونسل نے 1996 میں یہ فیصلہ سنا دیا تھا کہ جب تک پاکستان اور بھارت دونوں اتفاق نہیں کریں گے تب تک یہ قراردادیں سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود رہیں گی۔ جو مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہو اسے بھارتی آئین میں ترمیم کر کے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

کشمیر بھارت کا داخلی مسئلہ نہیں کہ بھارت اپنے آئین میں ترمیم کر کے اس کو حل کرلے۔ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر مسئلہ کشمیر کا عنوان ’پاکستان اور بھارت کا تنازعہ‘ ہے۔ جس مسئلے کو اقوام متححدہ پاکستان اور بھارت کا مسئلہ قرار دے چکی ہو وہ بھارت کے آئین کے تحت حل نہیں ہو سکتا، وہ بین الاقوامی قانون کے تحت ہی حل ہوگا۔

سلامتی کونسل طے کر چکی کی مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی بھی حق خودارادیت کی نفی کرتے ہوئے کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں تو بھارت اس کا مجاز کیسے ہوگیا کہ کشمیر میں کرفیو لگا کر کشمیریوں کی قسمت کا فیصلہ کر دے؟

کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے، یہ مسئلہ بھارت کی قانون سازی سے حل نہیں ہوگا یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل ہوگا، یہ مسئلہ حل کرنے کا طریق کار بی ایک ہی ہے: استصواب رائے۔

ویسے بھی کشمیریوں کا حق خودارادیت ایک مسلمہ اصول ہے۔ یہ آفاقی تصور ہے، اور اگر بھارت اس کی نفی کرتا ہے تو یہ جنگی جرائم میں شمار ہوتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یومِ استحصالِ کشمیر: وزیراعلیٰ بلوچستان کا کشمیری عوام سے غیرمتزلزل یکجہتی کا اظہار

نجی ازبک ایئر لائن سینٹرم ایئر کا تاشقند، کراچی براہِ راست پروازوں کا اعلان

5 اگست 2019 کے بھارتی اقدام کے خلاف وزارتِ امور کشمیر اور وزارتِ خارجہ کی احتجاجی ریلی، کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار

اسحاق ڈار عمان پہنچ گئے، فلسطین کی صورتحال پر اہم وزارتی اجلاس میں شرکت کریں گے

پاکستان اور امریکا کا ٹی ٹی پی، داعش خراسان اور بی ایل اے کیخلاف تعاون بڑھانے کا فیصلہ

ویڈیو

واشنگٹن کے چڑیا گھر میں باؤلی نے اپنی 5ویں سالگرہ کیسے منائی؟

تخلیق کا سفر ذہن سے شروع ہوتا ہے مصنوعی ذہانت سے نہیں، 9 برس کی عمر میں ناول نگار بننے والی ایمن رحمان

اسلام آباد: بدھ مت کے تاریخی آثار، شاہ اللہ دتہ غاروں کو عالمی توجہ کا مرکز بنانے کی تیاری

کالم / تجزیہ

پہلا دروازہ

خبردار، نظام اسی مہینے میں ری سیٹ ہوسکتا ہے

جاوید میانداد کی ایک ناقابل فراموش اننگز کا تذکرہ