سیاست عوام کے لیے کیوں نہیں؟

جمعہ 18 ستمبر 2026
author image

عبیداللہ عابد

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہمارے ایک دوست ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں لیکن اپنے مزاج اور سوچ و فکر کے اعتبار سے  پی ٹی آئی کے کارکن۔ دلیل کے بجائے منہ بھر کے مخالفین کو گالی دینا۔ انتہائی کمزور بنیادوں پر اپنا مقدمہ کھڑا کرنا۔ اگلے روز ملے تو کافی سیخ پا تھے۔ اس قدر زیادہ برہمی کا سبب پوچھا تو کہنے لگے: جماعت اسلامی۔

اس اجمال کی تفصیل جاننا چاہی تو بڑی معصومیت سے فرمانے لگے کہ پاکستان تحریک انصاف کو نہ کہیں جلسہ کی اجازت ہے، نہ جلوس کی، نہ مارچ کی اور نہ ہی کہیں دھرنا دینے کی۔ آخر جماعت اسلامی کو کیوں اجازت ہے؟ جماعت والے کئی ہفتوں سے لاہور، کراچی، پشاور سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں دھرنا دئیے بیٹھے ہیں۔ وہ مارچ بھی کرتے ہیں، اب بیس ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ بھی کریں گے۔

پی ٹی آئی کے اس کارکن صحافی سے پوچھا کہ آپ خود ہی اس کا سبب بیان فرما دیں۔ کہنے لگے کہ اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے جماعت اسلامی پر۔

میں نے عرض کیا: ’جناب! اسٹیبلشمنٹ کا دستِ شفقت جماعت اسلامی پر ہوتا تو جماعت کو سن دو ہزار چوبیس کے عام انتخابات کے کیک میں حصہ ضرور ملتا، دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں بھی اور دو ہزار تیرہ میں بھی۔ اسٹیبلشمنٹ کا دستِ شفقت جماعت اسلامی پر ہوتا تو دو ہزار چوبیس کے انتخابات میں جماعت کے لوگ کراچی اور خیبر پختونخوا میں جیت کر بھی نہ ہارتے۔ اور آج کراچی کی میئر شپ جماعت اسلامی کے پاس ہوتی۔‘

اُن سے عرض کیا کہ کم از کم آپ کو، تحریک انصاف کے ایک ادنیٰ ترین کارکن کی حیثیت سے کسی دوسری جماعت کو اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم قرار دینا زیب نہیں دیتا کہ اکتوبر دو ہزار گیارہ سے لے کر عمران خان کے وزیر اعظم بننے تک، حتیٰ کہ تحریک عدم اعتماد سے پہلے وزیر اعظم ہاؤس میں آخری رات تک، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک صفحہ پر بیٹھ کر عشق و مستی کے کیسے کیسے گُل نہیں کھلائے گئے۔

دوست کے سامنے یہ سب کچھ نہایت تفصیل سے بیان کیا تو وہ قدرے خاموش ہوئے۔ شاید ’جواب آں غزل‘ کے لیے کچھ سامان اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انھیں اس کیفیت میں مبتلا دیکھا تو ان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا:

’آپ کو بتاؤں کہ پی ٹی آئی والوں کو احتجاج کرنے کیوں نہیں دیا جاتا؟‘

وہ فوراً متوجہ ہوئے۔ ان سے عرض کیا کہ سبب ہے سانحہ نو مئی۔

عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی چھتری تلے ملک کے مختلف شہروں میں پُرتشدد احتجاج۔ فوجی تنصیبات، سرکاری عمارات، گاڑیوں اور دیگر املاک پر حملے۔ کور کمانڈر ہاؤس لاہور پر ڈنڈے اٹھائے ہجوم کا دھاوا، اسے نذر آتش کرنا، دیگر عسکری اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانا۔ راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کے مرکزی داخلی حصے پر مشتعل مظاہرین نے دھاوا۔ راولپنڈی کینٹ میں مختلف سرکاری و عسکری املاک کی توڑ پھوڑ، میانوالی ایئربیس پر حملہ، اندر داخل ہونے کی کوشش، وہاں جنگی جہاز کو توڑنا پھوڑنا۔ پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملہ، عمارت میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کرنا اور پھر آگ لگا دینا،  ریڈیو پاکستان کے تاریخی ریکارڈ اور دیگر سامان کو نقصان پہنچانا۔ اس کے علاوہ  شہر میں مختلف فوجی تنصیبات پر حملے۔ کرنل شیر خان شہید کے مجسمہ کو توڑنا پھوڑنا، چاغی مونومنٹ کو نقصان پہنچانا۔

  فیصل آباد میں آئی ایس آئی کے دفتر پر حملہ۔ چکدرہ سوات میں فرنٹیئر کور کے قلعہ پر دھاوا۔

یہ سب کچھ پی ٹی آئی کے دامن پر بڑے بڑے داغوں کی صورت میں موجود ہے۔ یہ داغ تحریک انصاف نے خود لگائے ہیں یا کسی نے چھینٹے اڑا کر عمران خان کی پارٹی کا دامن گندا کیا، بہرحال داغ تو ہیں۔ ایسے میں بھلا پی ٹی آئی والوں کو دھرنوں اور لانگ مارچ کی اجازت کیسے مل سکتی ہے؟ حکومت احتجاجی سرگرمیوں کی اجازت کیسے دے سکتی ہے؟ کوئی کیسے مان لے کہ ایک بار پھر سانحہ نو مئی نہیں ہوگا؟؟

اس کے برعکس جماعت اسلامی یا کسی دوسری جماعت کے ٹریک ریکارڈ میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔سب سیاسی جماعتیں احتجاج کرتی ہیں، جلسے جلوس نکالتی ہیں، لانگ مارچ کرتی ہیں، لیکن اس قدر سنگین جرائم کبھی دیکھنے کو نہیں ملے۔

یقیناً جماعت اسلامی گزشتہ کئی دنوں بلکہ ہفتوں سے پاکستان کے 45 شہروں میں دھرنے دیے بیٹھی ہے۔ اب وہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے والی ہے۔ بادی النظر میں جماعت کے تمام مطالبات عوامی مفاد کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

مثلاً پیٹرول لیوی کا خاتمہ کیا جائے، بجلی کے ٹیرف اور سلیبز میں کمی کی جائے، بجلی کے بلوں سے تمام اضافی ٹیکسز کا خاتمہ کیا جائے، آئی پی پیز (IPPs) کے معاہدوں پر نظرِ ثانی کی جائے، اشیائے خور و نوش کی قیمتوں پر کنٹرول کیا جائے، سرکاری اخراجات میں کمی اور سادگی اختیار کی جائے، صنعت و تجارت اور زراعت کو ریلیف دیا جائے اور  تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا جائے۔

ان میں سے کوئی ایسا مطالبہ نہیں ہے جس سے صرف حافظ نعیم الرحمان یا صرف جماعت اسلامی کو فائدہ پہنچے۔ ذرا ایک لمحہ کے لیے چشمِ تخیل سے دیکھا جائے کہ حکومت یہ سب مطالبات پورے کرلے تو پاکستان میں کیسا ماحول پیدا ہو۔

2024 کے دھرنے کے نتیجے میں حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان آئی پی پیز، بجلی کے نرخوں اور ٹیکس سے متعلق تحریری معاہدہ ہوا اور آئی پی پیز کے معاہدوں کا جائزہ لینے کے لیے ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اور پھر ان معاہدوں پر نظرثانی کی گئی۔

یہ الگ بات ہے کہ معاہدوں پر نظرثانی کے نتیجے میں جو ریلیف ملا، حکومت نے اسے نیچے عوام تک منتقل نہ کیا۔

جماعت اسلامی کے موجودہ احتجاج میں ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ نہ صرف یہ ریلیف نیچے تک منتقل کیا جائے بلکہ مزید ریلیف فراہم کیا جائے۔ جماعت کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ  حالیہ مذاکرات کے دوران میں وزیر توانائی جناب سردار اویس لغاری نے اعتراف کیا ہے کہ جماعت اسلامی کا موقف درست ہے۔

اب جماعت چاہتی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم کی جائے تاکہ پاکستانی قوم کو ریلیف مل سکے۔ لیکن حکومت کا موقف ہے کہ پیٹرول لیوی وصول نہ کریں تو خزانہ کہاں سے بھریں، امورِ مملکت کیسے سرانجام دیں؟ جماعت کے لوگ ان سوالات کے جوابات لے کر مذاکرات کی میز پر بیٹھے تھے چنانچہ انھوں نے تجاویز دیں کہ کیسے خزانہ بھرا جاسکتا ہے اور کیسے امور مملکت چلائے جاسکتے ہیں۔ جماعت  کا موقف ہے کہ جب خطے کے دیگر ممالک میں ایسی کوئی لیوی نہیں لی جاتی، پاکستان میں کیوں لی جائے۔

جماعت اسلامی کے احتجاج کی ایک اہم خصوصیت یہ رہی کہ سڑک پر ایسا احتجاج کرنے کا دعویٰ کرتی ہے جس میں ایک گملا بھی نہیں ٹوٹتا، اس کے ساتھ ہی ساتھ مذاکرات کا راستہ بھی کھلا رکھتی ہے۔ سیاست میں یہی چلتا ہے۔ اسی انداز میں قوم کا بھلا ہوتا ہے۔

پاکستان پون صدی سے زائد عرصہ تک تعمیری سیاست سے محروم رہا۔ سیاست دان ایک دوسرے کی ٹانگیں کھنچتے رہے۔اب یہ سلسلہ رک جانا چاہیے۔ اب یہاں تعمیری سیاست کو جنم لینا چاہیے، اس کی پرورش ہونی چاہیے، اس کو مضبوط و مستحکم ہونا چاہیے۔ اور اس کے نتیجے میں تمام تر فائدہ قوم کو ملنا چاہیے۔ اٹھہتر برس تک اس قوم کا جو نقصان ہوا، اس کی تلافی ہونی چاہیے۔

دنیا  بھر میں مختلف اقوام کے ہاں ہونے والی تعمیری سیاست ہمیں سبق دیتی ہے کہ سیاست کا اصل کمال مخالف کو خاموش کرنا نہیں بلکہ اختلاف کے باوجود ایسا راستہ نکالنا ہے جس سے عوام کی زندگی بہتر ہو۔

جرمنی میں ایک دوسرے کی سخت ترین حریف جماعتیں ساٹھ کی دہائی میں معاشی بحران کے دوران ایک حکومت میں ایک ساتھ بیٹھیں، اس کے نتیجے میں عوام کا بھلا ہوا۔ جنوبی افریقہ میں خونریز ماضی کے بعد انتقام کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں قوم کی تعمیر ہوئی، اسے ترقی ملی۔

پاکستان کو بھی ایسی سیاست کی ضرورت ہے جس میں حکومت احتجاج سے خوف زدہ نہ ہو، اپوزیشن مذاکرات سے شرمندہ نہ ہو اور دونوں کے درمیان سب سے بڑا فریق عوام ہوں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp