پاکستان اور وفاقی جمہوریہ صومالیہ نے دفاع، سلامتی اور عسکری تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک دہشتگردی کے انسداد، عسکری تربیت، پیشہ ورانہ مہارتوں کے تبادلے اور دفاعی استعداد میں اضافے کے شعبوں میں مشترکہ تعاون کو فروغ دیں گے۔
مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جہاں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور صومالیہ کے وزیر دفاع احمد معلم فقی نے معاہدے پر دستخط کیے۔ صومالی وزیر دفاع ان دنوں ایک اعلیٰ سطحی سرکاری وفد کے ہمراہ پاکستان کے سرکاری دورے پر ہیں۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان کا صومالیہ کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ
معاہدے کے تحت دونوں ممالک عسکری تربیتی پروگراموں، دفاعی اداروں کے درمیان روابط، انسدادِ دہشتگردی کے اقدامات، پیشہ ورانہ تجربات کے تبادلے، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سیکیورٹی کے مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دیں گے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک دفاعی اداروں کے درمیان ادارہ جاتی روابط کو بھی مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ مشترکہ چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

حکام کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشت پاکستان اور صومالیہ کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کی عکاس ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی شراکت داری کو ایک مضبوط، پائیدار اور ادارہ جاتی بنیاد فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ نہ صرف باہمی اعتماد کو فروغ دے گا بلکہ علاقائی امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ میں بھی مثبت کردار ادا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان کی صومالی لینڈ پر اسرائیلی وزیر خارجہ کے دورے پر تشویش، صومالیہ کی سرحدی سالمیت کی مکمل حمایت
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان اور صومالیہ کے درمیان دفاعی تعاون میں حالیہ پیش رفت دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے سفارتی اور سیکیورٹی روابط کی اہم علامت ہے، جس سے مستقبل میں عسکری تربیت، دفاعی مہارت اور انسدادِ دہشتگردی کے شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔














