اسلام آباد: بدھ مت کے تاریخی آثار، شاہ اللہ دتہ غاروں کو عالمی توجہ کا مرکز بنانے کی تیاری

منگل 4 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت نے دارالحکومت کے تاریخی شاہ اللہ دتہ غاروں اور دیگر بدھ مت ورثے کے مقامات کو عالمی معیار کے ثقافتی و سیاحتی مراکز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے سبز اثاثوں اور مارگلہ ہلز کو محفوظ کرنے کا تاریخی فیصلہ کرلیا گیا

منصوبے کے تحت قدیم غاروں کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا تاکہ مقامی اور غیر ملکی سیاحوں، بدھ زائرین اور تاریخ کے شوقین افراد کو بہتر سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔

وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے شاہ اللہ دتہ غاروں کے دورے کے دوران اعلان کیا کہ حکومت پاکستان کے قدیم بدھ ورثے کے تحفظ، فروغ اور عالمی سطح پر شناخت کے لیے خصوصی اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ وزیراعظم کے اس وژن کا حصہ ہے جس کے تحت ملک کے تاریخی اور ثقافتی مقامات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔

شاہ اللہ دتہ غاروں کو گندھارا تہذیب اور بدھ مت کے تاریخی ورثے کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ وفاقی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ یہاں جاری تحفظ اور بحالی کے کام کو تیز کیا جائے تاکہ رواں سال ستمبر یا اکتوبر میں ہونے والی گندھارا کانفرنس کے دوران اس مقام کا باقاعدہ افتتاح کیا جاسکے۔

سیاحوں کے لیے جدید سہولیات کا منصوبہ

دورے کے دوران محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر کے حکام نے وفاقی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ غاروں کے سامنے پہاڑی پر بدھ دور کا ایک قدیم اسٹوپا موجود ہے تاہم فاصلے کی وجہ سے زائرین اسے واضح طور پر نہیں دیکھ پاتے۔

مزید پڑھیے: کراچی سے مارگلہ کے دامن تک: پاکستان کے مستقل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا تاریخی سفر

اس مسئلے کے حل کے لیے وفاقی وزیر نے ہدایت دی کہ وہاں جدید دوربین نصب کی جائے تاکہ بدھ راہب، زائرین اور سیاح اس تاریخی اسٹوپا کا قریب سے مشاہدہ کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ شاہ اللہ دتہ غاروں میں بدھ مت کی تاریخ اور اس مقام کی مذہبی و تاریخی اہمیت کو نمایاں انداز میں پیش کیا جانا چاہیے۔

منصوبے میں سیاحوں کے لیے کیفے، تحائف کی دکان اور دیگر بنیادی سہولیات کی تعمیر بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ رات کے وقت غاروں کی خوبصورتی کو نمایاں کرنے کے لیے خصوصی آرائشی روشنیوں کا انتظام بھی کیا جائے گا تاکہ یہ مقام مزید پرکشش بن سکے۔

اسلام آباد کی تاریخ اور دیگر ورثے کو اجاگر کرنے کے اقدامات

شاہ اللہ دتہ غاروں کے دورے کے بعد وفاقی وزیر نے محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں ملک بھر کے تاریخی مقامات کے تحفظ اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں اسلام آباد کی تاریخی ارتقا کو ظاہر کرنے کے لیے ایک خصوصی تاریخی نقشہ تیار کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ وفاقی وزیر نے ہدایت دی کہ محکمے کی گیلری میں ’گکھڑ کارنر‘ قائم کیا جائے جہاں کہوٹہ کے تاریخی گکھڑ قلعے اور گکھڑ قبیلے سے متعلق نوادرات اور معلومات پیش کی جائیں۔

انہوں نے قدیم مہرگڑھ تہذیب سے متعلق نوادرات کو بھی گیلری میں نمائش کے لیے رکھنے کی ہدایت کی تاکہ پاکستان کی ہزاروں سال پرانی تہذیبی تاریخ کو عوام کے سامنے اجاگر کیا جاسکے۔

بلوچستان کے تاریخی مقامات کے تحفظ پر بھی توجہ

وفاقی وزیر نے بتایا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بعض اراکین قومی اسمبلی نے گوادر میں معروف شاعر اور ادیب سید ظہور شاہ ہاشمی کے صدیوں پرانے آبائی گھر سمیت تربت کے دیگر تاریخی مقامات کے تحفظ کے لیے وزارت سے تعاون کی درخواست کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ ارکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ باقاعدہ تحریری سفارشات پیش کریں جس کے بعد قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ان منصوبوں پر کام شروع کیا جائے گا۔

نوجوان نسل کو تاریخی ورثے سے جوڑنے کا منصوبہ

سیکریٹری قومی ورثہ و ثقافت اسد رحمان گیلانی نے بتایا کہ محکمہ کی گیلری کو جدید تقاضوں کے مطابق ازسرنو ترتیب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی طلبہ کے مطالعاتی دوروں اور عوامی شرکت کو بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ پاکستان کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کے بارے میں شعور پیدا کیا جاسکے۔

شاہ اللہ دتہ غاروں کی ترقی کا یہ منصوبہ پاکستان میں بدھ مت کے قدیم ورثے کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے جس سے ملک میں ثقافتی اور مذہبی سیاحت کے فروغ کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp