طالبان کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہیں، فاطمیون ڈویژن کے کمانڈر کا اعلان

بدھ 5 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران کی سرپرستی میں قائم افغان شیعہ ملیشیا فاطمیون ڈویژن کے ایک کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے زیرِ کمان سینکڑوں جنگجو طالبان کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہیں، تاہم اس کے لیے کسی مؤثر طالبان مخالف گروہ کی جانب سے وسائل اور تعاون فراہم کرنا ضروری ہوگا۔ دوسری جانب ایرانی سفارت کار کے حالیہ بیان نے فاطمیون کے جنگجوؤں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔

افغانستان انٹرنیشنل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فاطمیون ڈویژن کے ایک کمانڈر، جنہوں نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنی شناخت ظاہر نہیں کی، کہا ہے کہ ان کے زیرِ کمان موجود سیکڑوں جنگجو طالبان کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہیں اور اگر کسی طالبان مخالف محاذ کی جانب سے مطلوبہ وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ اس کے ساتھ مل کر لڑ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:طالبان رجیم نے 3 ماہ میں 184 سابق سیکیورٹی اہلکار ہلاک کر دیے، سابق افغان جنرل

کمانڈر کے مطابق کابل میں ایران کے نائب سفیر سید حسن مرتضوی کے اس بیان نے فاطمیون کے ارکان میں شدید ناراضی پیدا کی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ طالبان کے خلاف مسلح جدوجہد کو مزاحمت قرار نہیں دیا جا سکتا اور افغانستان کے مسائل کا حل مذاکرات میں ہے، جبکہ ایران کسی سیاسی یا عسکری طالبان مخالف گروہ کی حمایت نہیں کرتا۔

فاطمیون کمانڈر نے دعویٰ کیا کہ بیشتر جنگجو افغانستان کی صورت حال کو غزہ، لبنان یا دیگر علاقائی تنازعات سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز (آئی آر جی سی) نے 2016 میں فاطمیون کو افغانستان میں لبنان کی حزب اللہ جیسی بااثر عسکری و سیاسی تنظیم بنانے کا وعدہ کیا تھا، مگر یہ وعدہ کبھی پورا نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد بھی ایرانی حکام نے فاطمیون کو مزاحمت سے روکنے اور مناسب وقت کا انتظار کرنے کا کہا تھا۔ ان کے بقول اگر ایران طالبان کے ساتھ اپنے موجودہ تعلقات برقرار رکھتا ہے تو مزید فاطمیون جنگجو طالبان مخالف گروہوں میں شامل ہونے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق فاطمیون ڈویژن 2013 میں ایران کی سرپرستی میں قائم کیا گیا تھا اور اس میں زیادہ تر ایران میں مقیم افغان شیعہ اور ہزارہ جنگجو شامل ہیں، جنہوں نے شام میں بشار الاسد حکومت کی حمایت میں بھی جنگ لڑی۔

دوسری جانب طالبان نے ان دعوؤں پر کوئی ردعمل نہیں دیا، تاہم ماضی میں طالبان نے افغانستان میں شیعہ اور ہزارہ برادری کے خلاف امتیازی سلوک کے الزامات کو مسترد کیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان برادریوں کی صورتحال پر مسلسل تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ رپورٹ میں شامل تمام دعوے فاطمیون کے ایک کمانڈر اور دیگر ذرائع سے منسوب ہیں جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یومِ استحصالِ کشمیر: پاکستان اپنے اصولی مؤقف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا، خالد حسین مگسی

ملک کے مختلف علاقوں میں آج بھی بارش کا امکان، گلگت بلتستان میں سیلابی صورتحال برقرار

یومِ استحصالِ کشمیر: پاکستان کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گا، اعظم نذیر تارڑ

یومِ استحصالِ کشمیر: چیئرمین کشمیر کمیٹی کا کشمیری عوام کی حمایت کے عزم کا اعادہ

سعودی کابینہ نے بین الاقوامی مرکز برائے مصنوعی ذہانت تحقیق و اخلاقیات کے بنیادی نظام کی منظوری دے دی

ویڈیو

واشنگٹن کے چڑیا گھر میں باؤلی نے اپنی 5ویں سالگرہ کیسے منائی؟

تخلیق کا سفر ذہن سے شروع ہوتا ہے مصنوعی ذہانت سے نہیں، 9 برس کی عمر میں ناول نگار بننے والی ایمن رحمان

اسلام آباد: بدھ مت کے تاریخی آثار، شاہ اللہ دتہ غاروں کو عالمی توجہ کا مرکز بنانے کی تیاری

کالم / تجزیہ

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ

خبردار، نظام اسی مہینے میں ری سیٹ ہوسکتا ہے