آزاد کشمیر انتخابات: 3 سابق وزرائے اعظم کو شکست، سردار عتیق کا اپ سیٹ سب سے بڑا کیوں؟

جمعرات 13 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 2026 کا تیسرا مرحلہ مکمل ہونے کے ساتھ ہی انتخابی عمل اپنے اختتام کو پہنچ گیا، تاہم نتائج نے خطے کی سیاست میں کئی بڑے سوالات چھوڑ دیے ہیں۔

تین سابق وزرائے اعظم کا اسمبلی سے باہر ہوجانا، مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان کی اپنے حلقے سے شکست اور متعدد اہم سیاسی شخصیات کی ناکامی نے اس انتخاب کو غیر معمولی بنا دیا ہے۔

2026 کے انتخابات میں سب سے نمایاں بات یہ رہی کہ آزاد کشمیر کے 3 سابق وزرائے اعظم چوہدری انوارالحق، سردار تنویر الیاس اور سردار عتیق احمد اپنے اپنے انتخابی معرکوں میں کامیاب نہ ہوسکے۔

چوہدری انوارالحق پہلے ہی مرحلے میں آؤٹ

سابق وزیراعظم چوہدری انوارالحق کو انتخابات کے پہلے مرحلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ’آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 3 مراحل میں کرائے گئے اور سب سے پہلے 27 جولائی کو میرپور ڈویژن میں پولنگ ہوئی۔‘

چوہدری انوارالحق بھمبر کے حلقہ ایل اے 7 بھمبر 3 سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں تھے، جہاں سے مسلم لیگ ن کے سیکریٹری جنرل چوہدری طارق فاروق نے کامیابی حاصل کی۔

چوہدری طارق فاروق نے 35 ہزار 490 ووٹ حاصل کیے جبکہ چوہدری انوارالحق 25 ہزار 100 ووٹ لے سکے۔ یوں سابق وزیراعظم پہلے ہی انتخابی مرحلے میں اسمبلی کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔

چوہدری انوارالحق کا سیاسی سفر اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ وہ 2023 سے 2025 تک آزاد کشمیر کے وزیراعظم رہے اور اس سے قبل قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر بھی رہ چکے ہیں۔

سردار تنویر الیاس کو 2 حلقوں سے شکست

سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کی انتخابی صورتحال باقی دونوں سابق وزرائے اعظم سے مختلف اور زیادہ غیر معمولی رہی۔

سردار تنویر الیاس نے 2026 کے انتخابات میں ایک سے زیادہ حلقوں سے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ وہ انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اپر نیلم سے امیدوار تھے، جبکہ تیسرے مرحلے میں وسطی باغ سے انتخاب لڑا، تاہم دونوں حلقوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

سردار تنویر الیاس راولاکوٹ کے حلقہ 5 پونچھ سے بھی آئی پی پی کے ٹکٹ پر امیدوار ہیں، تاہم پونچھ ڈویژن کے 7 حلقوں میں پولنگ امن و امان کی وجہ سے ملتوی کی گئی ہے۔

تنویر الیاس کے لیے وسطی باغ کا انتخاب خاص سیاسی اہمیت رکھتا تھا۔ 2021 کے انتخابات میں انہوں نے اسی حلقے سے کامیابی حاصل کرکے بعد ازاں آزاد کشمیر کی وزارت عظمیٰ سنبھالی تھی۔ 2021 میں وہ وسطی باغ سے 19 ہزار 825 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار ضیا القمر 14 ہزار 558 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے تھے۔

2026 میں صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی۔ اس بار سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس سیاسی طور پر مضبوط سمجھے جانے والے حلقے میں بھی کامیابی حاصل نہ کرسکے۔

تنویر الیاس نے الیکشن سے قبل اختلافات کے باعث پیپلز پارٹی کو خیرباد کہا اور استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہوئے، انہیں آئی پی پی آزاد کشمیر چیپٹر کا صدر بھی بنایا گیا تھا، تاہم پارٹی ایک بھی سیٹ جیتنے میں ناکام رہی۔

سردار عتیق کی شکست، انتخاب کا سب سے بڑا اپ سیٹ

انتخابات کے تیسرے مرحلے میں سب سے بڑا سیاسی اپ سیٹ مسلم کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد کی شکست کو قرار دیا جارہا ہے۔

سردار عتیق احمد ضلع باغ کے حلقہ ایل اے 14 غربی باغ سے امیدوار تھے۔ 2021 کے انتخابات میں وہ اسی حلقے سے 25 ہزار سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے اور انہیں اس مرتبہ بھی مضبوط امیدوار تصور کیا جارہا تھا۔

لیکن 2026 کے انتخابات میں ان کے مقابلے میں عوامی دست و بازو کے سربراہ سردار ساجد اقبال نے حیران کن کامیابی حاصل کرلی۔

سردار ساجد اقبال نے 40 ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کیے جبکہ سردار عتیق احمد خان کو 19 ہزار 234 ووٹ ملے۔

یہ نتیجہ اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ سردار عتیق آزاد کشمیر کی سیاست کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ صرف سابق وزیراعظم ہی نہیں بلکہ مسلم کانفرنس کے موجودہ صدر بھی ہیں، جبکہ مسلم کانفرنس کو آزاد کشمیر کی تاریخی سیاسی جماعت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

غربی باغ کے حلقے سے ہی سردار عتیق کے والد مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان (مرحوم) بھی انتخابات میں حصہ لیتے رہے، اور وہ صدر اور وزیراعظم کے عہدوں پر فائز رہے۔

سردار عتیق کی شکست نے اس سوال کو بھی نمایاں کردیا ہے کہ کیا آزاد کشمیر میں روایتی سیاسی جماعتوں اور بڑے سیاسی خاندانوں کا اثر پہلے کے مقابلے میں کم ہورہا ہے؟

سردار عتیق احمد خان کی شکست نے سب کو حیران بھی کیا، ان کے مقابلے میں پہلی مرتبہ الیکشن میں حصہ لینے والے عوامی دست و بازو کے سربراہ سردار ساجد اقبال کی کامیابی کو انتخابی اپ سیٹ قرار دیا جارہا ہے اور اس نتیجے نے مسلم کانفرنس کی موجودہ سیاسی پوزیشن پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

اب مسلم کانفرنس ایک طویل عرصے بعد آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیاست سے آؤٹ ہوگئی ہے۔

کیا ووٹر کا فیصلہ روایتی سیاست سے آگے نکل گیا؟

2026 کے انتخابات کے نتائج کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ کئی حلقوں میں امیدوار کی ذاتی سیاسی حیثیت، سابقہ حکومتی تجربہ اور روایتی اثرورسوخ کے بجائے ووٹر نے مختلف فیصلہ دیا۔

آزاد کشمیر کی سیاست میں برادری، خاندان، مقامی دھڑے بندی اور ذاتی ووٹ بینک ہمیشہ اہم عوامل رہے ہیں، لیکن حالیہ انتخابات میں پارٹی وابستگی اور بڑے سیاسی ناموں کے ساتھ ساتھ مقامی سطح کی انتخابی مہم اور امیدوار کی مقبولیت بھی فیصلہ کن دکھائی دی۔

سردار عتیق جیسے تجربہ کار رہنما کی شکست اور سابق وزرائے اعظم کی ناکامی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ووٹر اب ماضی کی سیاسی حیثیت کو لازمی طور پر کامیابی کی ضمانت نہیں سمجھ رہا۔

مسلم کانفرنس کے لیے سب سے بڑا امتحان

سردار عتیق احمد کی شکست کا براہ راست اثر مسلم کانفرنس پر بھی پڑے گا۔ جماعت کے سربراہ کا اسمبلی سے باہر ہوجانا تنظیمی اور سیاسی دونوں اعتبار سے اہم پیشرفت ہے۔

مسلم کانفرنس آزاد کشمیر کی سیاست میں تاریخی حیثیت رکھتی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اس کی انتخابی قوت میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔

سردار عتیق کی موجودہ انتخابی شکست جماعت کے لیے یہ سوال ضرور چھوڑ گئی ہے کہ وہ نئی سیاسی نسل، بدلتے ہوئے ووٹر اور دیگر بڑی جماعتوں کے مقابلے میں اپنی جگہ کس طرح برقرار رکھے گی۔

مسلم لیگ ن نے حکومت سازی کے لیے حکمت عملی طے کرلی

ان اپ سیٹس کے ساتھ ساتھ انتخابات کا مجموعی سیاسی منظرنامہ مسلم لیگ ن کے لیے انتہائی سازگار رہا۔ پہلے 2 مراحل میں مسلم لیگ ن نے واضح برتری حاصل کی اور حکومت سازی کی پوزیشن مضبوط کرلی۔

تیسرے مرحلے میں میں باغ کی 3 اور حویلی کی ایک نشست پر انتخابات ہوئے، تاہم وسطی باغ اور شرقی باغ کے کچھ پولنگ اسٹیشنز پر 15 اگست کو دوبارہ پولنگ ہونی ہے، جس کے بعد حتمی نتائج جاری ہوں گے۔

یوں ایک طرف بڑے سیاسی نام انتخابی میدان سے باہر ہوگئے، تو دوسری طرف مسلم لیگ ن نے اپنی نشستوں کی تعداد بڑھا کر نئی حکومت کی تشکیل کی راہ مزید ہموار کرلی۔

مسلم لیگ ن اس وقت سادہ اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے، اور اسے کسی جماعت سے اتحاد کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp