بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وزیراعظم طارق رحمان کا بھارت کا مجوزہ دورہ نئی دہلی کی جانب سے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ اور دیگر مطلوب افراد کی حوالگی کے معاملے پر پیش رفت سے مشروط ہے۔
بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے حکام گزشتہ کئی ہفتوں سے طارق رحمان کے نئی دہلی کے ممکنہ دورے کے حوالے سے رابطے میں ہیں، تاہم 5 اگست کو نئی دہلی میں شیخ حسینہ کی جانب سے کی گئی کھلی پریس گفتگو کے بعد دورے کے لیے سازگار ماحول متاثر ہوا ہے۔
Breaking:
Dhaka says ‘propitious environment’ needed for Bangladesh PM Rahman’s India visit, restates Hasina extradition demand.
Remark by Spox of Bangladesh foreign ministry A.K.M. Shahidul Karim in Dhaka short while ago: pic.twitter.com/OAZkqkYn1d
— Sidhant Sibal (@sidhant) August 16, 2026
وزارت خارجہ کے ترجمان اے کے ایم شاہد الکریم نے کہا کہ بنگلہ دیش نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شیخ حسینہ اور دیگر مفرور ملزمان کی حوالگی کی درخواست پر فوری کارروائی کی جائے۔ انہوں نے بھارت سے سیاسی کارکن شہید شریف عثمان ہادی کے قتل کے ملزمان کو بھی دوطرفہ حوالگی معاہدے کے تحت بنگلہ دیش کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔
بنگلہ دیش کے مطابق حسینہ کی نئی دہلی میں پریس کانفرنس نے طارق رحمان کے دورے کے لیے جاری عمل کو متاثر کیا۔ بھارت پہلے ہی واضح کرچکا ہے کہ شیخ حسینہ کی حوالگی سے متعلق بنگلہ دیش کی درخواست زیر غور ہے، جبکہ نئی دہلی میں ہونے والی پریس کانفرنس سے بھارتی حکومت کا کوئی تعلق نہیں تھا۔
شیخ حسینہ اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے الگ ہونے کے بعد بھارت چلی گئی تھیں اور تب سے وہ وہیں مقیم ہیں۔ بنگلہ دیش کی عدالت انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزا سنا چکی ہے۔













