ذرا ایک لمحے کے لیے تصور کیجیے کہ دنیا کی تمام اسکرینیں اچانک بجھ جائیں۔ صبح آنکھ کھلے تو موبائل فون سیاہ پڑا ہو۔ دفتر میں کمپیوٹر خاموش ہو۔ اسپتالوں کے مانیٹر اندھیرے میں ڈوب جائیں۔ ہوائی اڈوں کے ڈیجیٹل بورڈ غائب ہو جائیں۔ گھروں میں ٹیلی ویژن صرف ایک بے جان شیشہ رہ جائے۔ بچے آن لائن کلاسوں سے محروم ہو جائیں، سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ کی حرکیات نہ دیکھ سکیں، اور کروڑوں لوگ ایک دوسرے کے چہرے ویڈیو کال پر دیکھنے سے قاصر رہیں۔ اس لمحے احساس ہوگا کہ ہم صرف روشنی پر نہیں، اسکرینوں کی چکاچوند پر زندہ ہیں۔
آج کی تہذیب صرف لکھی ہوئی معلومات کی تہذیب نہیں رہی، بلکہ یہ تصاویر، ویڈیوز، ریلز اور شارٹس کی تہذیب بن چکی ہے۔ ہم خوشی بھی تصاویر میں تلاشتے ہیں، جنگ بھی تصاویر میں، کھیل بھی، محبت بھی، سیاست بھی، تاریخ بھی اور یادیں بھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اکیسویں صدی کو اگر کسی ایک چیز نے سب سے زیادہ بدلا ہے تو وہ اسکرین ہے۔ لیکن اس اسکرین کی بھی ایک تاریخ ہے۔
ہر ایجاد کی طرح اس کی ابتدا بھی کسی بڑی کمپنی، کسی حکومت یا کسی سرمایہ دار کے دفتر میں نہیں ہوئی تھی۔ اس کا آغاز جاپان کی ایک خاموش تجربہ گاہ میں ہوا، جہاں ایک نوجوان استاد مسلسل ناکامیوں کے باوجود ایک ایسے خواب کا تعاقب کر رہا تھا جسے اس زمانے کے بیشتر لوگ ناممکن سمجھتے تھے۔
25 دسمبر 1926 کی سرد صبح تھی۔ جاپان کے شہر ہاماماتسو کی ایک مختصر سی لیبارٹری میں چند افراد خاموش کھڑے تھے۔ میز پر تار بکھرے تھے، شیشے کی ویکیوم ٹیوبیں رکھی تھیں، کاغذوں پر برقی خاکے بنے ہوئے تھے، اور کمرے میں ایک ایسی خاموشی تھی جیسے وقت خود بھی کسی فیصلے کا منتظر ہو۔
لیبارٹری کے وسط میں ایک نوجوان انجینئر اپنی مشین کے سامنے کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں برسوں کی محنت تھی۔ آنکھوں میں امید تھی اور دل میں شاید ایک ہلکا سا خوف بھی کہ اگر آج بھی تجربہ ناکام ہوا تو؟ اس نے آہستگی سے سوئچ دبایا۔ چند لمحوں تک کچھ نہ ہوا۔ پھر اچانک شیشے کی ایک چھوٹی سی اسکرین پر جاپانی زبان کا صرف ایک حرف ابھرا۔
「イ」
وہ صرف ایک حرف نہیں تھا بلکہ آنے والی پوری بصری تہذیب کا روشن اشارہ تھا۔ اسی تجربے میں پہلی مرتبہ جاپانی زبان کے ایک حرف کو کیتھوڈ رے ٹیوب (Cathode Ray Tube) پر کامیابی سے ظاہر کیا گیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے بعد میں ٹیلی ویژن، کمپیوٹر، ویڈیو کیمرا، میڈیکل امیجنگ، اسمارٹ فون، ٹیبلٹ، LED، OLED، 8K اور آج مصنوعی ذہانت کی بصری دنیا تک کے سفر میں اہم کردار ادا کیا۔ اس نوجوان کا نام ’تاکایاناگی کینجیرو‘ تھا۔

تاریخ نے اسے ایڈیسن، گراہم بیل یا اسٹیو جابز جیسی شہرت نہیں دی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر اس نے اس روز وہ ایک حرف روشن نہ کیا ہوتا تو شاید آج ہماری روزمرہ زندگی کی کہانی کچھ اور ہوتی۔
20 جنوری 1899 کو ہاماماتسو میں پیدا ہونے والے کینجیرو کا بچپن بھی لاکھوں دوسرے جاپانی بچوں کی طرح سادہ تھا، مگر اس کی ایک عادت اسے دوسروں سے مختلف بناتی تھی۔ وہ ہر مشین کو صرف استعمال نہیں کرتا تھا، بلکہ یہ جاننے کی کوشش کرتا تھا کہ وہ چلتی کیسے ہے۔
گھڑی ہو یا لالٹین، برقی آلہ ہو یا سائیکل، اس کی دلچسپی صرف ظاہری شکل میں نہیں بلکہ اس کے اندر چھپے نظام میں ہوتی تھی۔ شاید وہ اسی دن انجینئر بن گیا تھا جب اس نے پہلی بار کسی مشین کو حیرت سے دیکھا تھا۔ لیکن صرف تجسس کسی انسان کو تاریخ ساز نہیں بناتا۔ اس کے لیے ایک استاد بھی چاہیے ہوتا ہے۔
جب کینجیرو اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہا تھا تو اس کی ملاقات پروفیسر کونوسوکے ناکامورا سے ہوئی۔ ناکامورا صرف سائنس نہیں پڑھاتے تھے، وہ سوچنا سکھاتے تھے۔ ایک دن انہوں نے کلاس میں طلبا سے کہا کہ ’اگر تم وہی تحقیق کرو گے جو پوری دنیا کر رہی ہے تو شاید تم ایک اچھے سائنس دان بن جاؤ، لیکن اگر تم وہ مسئلہ تلاش کرو جسے دنیا ابھی مسئلہ ہی نہیں سمجھتی، تو ممکن ہے تم تاریخ بدل دو۔‘
یہ الفاظ کینجیرو کے دل میں اتر گئے۔ اس نے اسی دن فیصلہ کیا کہ وہ بھیڑ کا حصہ نہیں بنے گا۔ وہ ایسا راستہ اختیار کرے گا جس پر ابھی کسی نے قدم نہ رکھا ہو۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ کیونکہ اس زمانے میں پوری دنیا ایک اور سمت دوڑ رہی تھی۔
بیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں یورپ اور امریکا کے سائنس دان ایک ہی خواب دیکھ رہے تھے۔ ایسی مشین بنائی جائے جو تصویر کو دور بیٹھے انسان تک پہنچا سکے۔ یہ ٹیلی ویژن کا ابتدائی دور تھا۔ اس وقت برطانیہ کے ’جان لوگی بیرڈ‘ اور دوسرے سائنس دان مکینیکل ٹیلی ویژن پر کام کر رہے تھے، جس میں گھومتی ہوئی، سوراخ دار ڈسکوں کی مدد سے تصویر تشکیل دی جاتی تھی۔ دنیا کو یقین تھا کہ مستقبل اسی راستے میں ہے۔
مگر کینجیرو نے ایسا فیصلہ کیا جسے بہت سے لوگوں نے دیوانگی قرار دیا۔ اس نے کہا کہ مستقبل گھومتی ہوئی ڈسکوں میں نہیں، الیکٹرانوں میں ہے۔ اس نے کیتھوڈ رے ٹیوب پر کام شروع کیا، حالانکہ اس شعبے میں نہ وسائل تھے، نہ تجربہ، نہ عالمی حمایت۔ یہ ایک ایسا راستہ تھا جس کے آخر میں کامیابی بھی ہوسکتی تھی اور مکمل ناکامی بھی۔ مگر تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو دوسروں کے بنائے ہوئے رستوں پر نہیں چلتے، بلکہ نئے راستے تراشتے ہیں۔
کسی بھی عظیم ایجاد کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، آپ کو ایک عجیب بات مشترک نظر آئے گی۔ ابتدا میں قریباً ہر نئی سوچ کا مذاق اڑایا گیا۔ جب ’رائٹ برادران‘ نے کہا کہ انسان اڑ سکتا ہے تو لوگ ہنسے۔ جب مارکونی نے تار کے بغیر پیغام بھیجنے کی بات کی تو اسے دیوانگی کہا گیا۔ جب ایڈیسن نے ہزاروں مرتبہ ناکام ہو کر برقی بلب بنانے کی کوشش کی تو لوگ اسے وقت کا ضیاع سمجھتے رہے۔
اور جب جاپان کا ایک نوجوان استاد یہ کہنے لگا کہ ایک دن تصویر بھی بجلی کے ذریعے ہزاروں میل دور پہنچائی جا سکے گی تو بہت سے لوگوں نے اسے بھی ایک خواب سمجھا۔ لیکن خواب دیکھنے والوں کی ایک خوبی ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کی ہنسی سے زیادہ اپنے یقین کی آواز سنتے ہیں۔ کینجیرو بھی انہی لوگوں میں سے تھا۔
اس زمانے کا جاپان آج کے جاپان سے بالکل مختلف تھا۔ لیبارٹریوں میں جدید کمپیوٹر نہیں تھے، نہ طاقتور مائیکرو پروسیسر، نہ ڈیجیٹل کیمرے، نہ سافٹ ویئر۔ ہر تجربہ عقل و دانش اور محنت کا محتاج تھا۔ ہر سرکٹ خود جوڑا جاتا تھا۔ ہر ویکیوم ٹیوب کو بار بار آزمایا جاتا تھا۔ کبھی برقی رو درست نہ چلتی، کبھی تصویر بکھر جاتی، کبھی اسکرین بالکل سیاہ رہتی اور کبھی مشین ہی جواب دے جاتی۔
ہر ناکامی کے بعد کینجیرو دوبارہ میز پر بیٹھ جاتا۔ پھر خاکہ بناتا۔ پھر تار جوڑتا۔ پھر ویکیوم ٹیوب بدلتا۔ پھر سوئچ دباتا۔ یہ عمل ہفتوں نہیں، برسوں تک جاری رہا۔ ایک موقع ایسا بھی آیا جب اس کے ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ شاید دنیا غلط نہیں اور مکینیکل ٹیلی ویژن ہی مستقبل ہے۔ لیکن اس نے راستہ نہیں بدلا۔ اسے یقین تھا کہ مستقبل روشنی کے گھومتے ہوئے پہیوں میں نہیں، بلکہ الیکٹرانوں کی رفتار میں چھپا ہے۔
آخر وہ دن آ ہی گیا۔ 25 دسمبر 1926۔ ہاماماتسو ہائر انڈسٹریل اسکول کی تجربہ گاہ میں معمول کے مطابق کام جاری تھا، مگر کینجیرو کے لیے یہ معمول کا دن نہیں تھا۔ مشین پہلے سے مختلف تھی۔ کئی ہفتوں کی مسلسل تبدیلیوں کے بعد وہ آخری تجربہ کرنے والا تھا۔ سوئچ دبایا گیا۔ کیتھوڈ رے ٹیوب روشن ہوئی۔ چند لمحوں بعد جاپانی زبان کا حرف 「イ」 واضح طور پر اسکرین پر نمودار ہوگیا۔
1926 کا تجربہ اگرچہ مکمل طور پر الیکٹرانک ٹیلی ویژن نہیں تھا، تاہم ٹیلی ویژن کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ضرور ثابت ہوا۔ تاکایاناگی کے نظام میں تصویر کو اسکین کرنے کے لیے مکینیکل نِپکو ڈسک استعمال ہوتی تھی، جبکہ اسے اسکرین پر ظاہر کرنے کے لیے کیتھوڈ رے ٹیوب استعمال کی گئی۔ اسی تجربے کے ذریعے پہلی مرتبہ کیتھوڈ رے ٹیوب پر جاپانی زبان کا ایک حرف واضح طور پر دکھایا گیا۔ مکمل الیکٹرانک ٹیلی ویژن کی طرف تاکایاناگی کی تحقیق اس کے بعد بھی جاری رہی اور آنے والے برسوں میں انہوں نے اس ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دی۔
آج یہ منظر ہمیں معمولی لگ سکتا ہے۔ مگر قریباً صدی پہلے یہ ایسا ہی معجزہ تھا جیسے پہلی مرتبہ انسان نے آواز ریکارڈ ہوتے دیکھی ہو۔ یہ صرف ایک حرف نہیں تھا۔ یہ ٹیلی ویژن کی تاریخ میں ایک ایسے تجربے کی ابتدا تھی جس نے بعد میں مکمل الیکٹرانک ٹیلی ویژن کی راہ ہموار کی۔
اس ایک حرف کے اندر آنے والی پوری صدی چھپی ہوئی تھی۔ اس تجربے نے ٹیلی ویژن کی ترقی کی ایک نئی راہ کھولی، جس سے آگے چل کر سیاہ و سفید ٹیلی ویژن، رنگین نشریات، ویڈیو ریکارڈر، کمپیوٹر مانیٹر اور پھر LCD، پلازما، LED اور OLED اسکرینوں کی دنیا تک سفر طے ہوا۔
اگر غور کیا جائے تو آج انسان روزانہ سینکڑوں مرتبہ اس ایجاد سے رابطہ کرتا ہے۔ صبح موبائل۔ دفتر میں کمپیوٹر۔ گاڑی میں ڈسپلے۔ بینک میں مانیٹر۔ اسپتال میں اسکرین۔ گھر میں ٹیلی ویژن اور رات کو پھر موبائل۔ ہمیں شاید احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہماری پوری روزمرہ زندگی ایک صدی پہلے کیے گئے اسی تجربے کا تسلسل ہے۔
لیکن تاریخ کبھی سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتی۔ ابھی یہ خواب پروان ہی چڑھ رہا تھا کہ دنیا دوسری جنگِ عظیم کی آگ میں جھلسنے لگی۔ جاپان کی سائنسی ترجیحات بدل گئیں۔ تحقیق کا رخ دفاعی منصوبوں کی طرف موڑ دیا گیا۔ ٹیلی ویژن جیسے منصوبے پس منظر میں چلے گئے۔ 1940 کے ٹوکیو اولمپکس، جنہیں پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر ٹیلی ویژن پر دکھانے کا خواب دیکھا جا رہا تھا، جنگ کی نذر ہوگئے۔ کینجیرو کی تحقیق بھی اس طوفان سے متاثر ہوئی۔ مگر خواب ختم نہیں ہوا۔ صرف کچھ برسوں کے لیے رک گیا۔ جنگیں عمارتیں گرا سکتی ہیں، خواب نہیں۔
1945 میں جب جاپان نے ہتھیار ڈالے تو پورا ملک ملبے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ شہر تباہ تھے۔ صنعتیں برباد تھیں۔ معیشت ٹوٹ چکی تھی۔ لیکن قوموں کی اصل طاقت ان کی عمارتوں میں نہیں، ان کے ذہنوں میں ہوتی ہے۔ جاپانی سائنس دانوں اور انجینئروں نے ایک بار پھر لیبارٹریوں کا رخ کیا۔ کینجیرو بھی انہی میں شامل تھا۔ اس نے تحقیق دوبارہ شروع کی اور چند ہی برسوں بعد جاپان ایشیا میں ٹیلی ویژن ٹیکنالوجی کا قائد بن کر ابھرا۔
1953 میں جاپان میں باقاعدہ ٹیلی ویژن نشریات شروع ہوئیں۔ 1960 کی دہائی تک رنگین ٹیلی ویژن حقیقت بن چکا تھا۔ پھر سونی، پیناسونک، شارپ، توشیبا اور دیگر جاپانی کمپنیوں نے دنیا کی الیکٹرانکس صنعت کا نقشہ بدل دیا۔ کینجیرو کسی بڑی کمپنی کا مالک نہیں تھا، مگر اس کی تحقیق ان سب کمپنیوں کی بنیاد میں شامل تھی۔
20 جولائی 1969 کی ایک رات پوری دنیا کی نظریں آسمان پر تھیں۔ کروڑوں لوگ پہلی مرتبہ بیک وقت ایک ہی منظر دیکھ رہے تھے۔ چاند کی سطح پر ایک انسان آہستہ آہستہ سیڑھی سے نیچے اتر رہا تھا۔ امریکی خلا باز نیل آرمسٹرانگ نے چاند پر پہلا قدم رکھتے ہوئے کہا تھا ’یہ انسان کے لیے تو ایک چھوٹا سا قدم ہے، لیکن پوری انسانیت کے لیے ایک بہت بڑی جست ہے۔‘ وہ تاریخی الفاظ صرف امریکا میں نہیں سنے گئے۔ وہ جاپان میں بھی سنائی دیے۔ افریقہ میں بھی۔ یورپ میں بھی اور پاکستان میں بھی۔
دنیا کے ان بے شمار گھروں میں بھی جہاں پہلی مرتبہ انسان نے محسوس کیا کہ فاصلے ختم ہو سکتے ہیں۔ یہ صرف خلائی کامیابی نہیں تھی۔ یہ تصویر کی فتح تھی۔ اور اس فتح کے پس منظر میں ایک صدی پہلے روشن ہونے والا وہی ننھا سا حرف کھڑا تھا۔
یوں تاریخ کے بڑے واقعات صرف کتابوں میں نہیں رہے۔ انہوں نے حرکت کرنا شروع کر دی۔ 1964 کے ٹوکیو اولمپکس۔ 1970 کا فیفا ورلڈ کپ۔ محمد علی اور انتونیو اینوکی کا تاریخی مقابلہ۔ برلن کی دیوار کا گرنا۔ نیلسن منڈیلا کی رہائی۔ شہزادی ڈیانا کا جنازہ۔ نائن الیون۔ عرب بہار۔ کووڈ 19۔ اور اب مصنوعی ذہانت کی دنیا۔ ہر واقعہ ہماری آنکھوں کے سامنے اس لیے آیا کہ کسی زمانے میں ایک استاد نے روشنی کو تصویر میں بدلنے کا خواب دیکھا تھا۔
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹیلی ویژن صرف تفریح کا ذریعہ تھا۔ حقیقت اس سے کہیں بڑی ہے۔ ٹیلی ویژن نے سیاست بدل دی۔ جمہوریت بدل دی۔ صحافت بدل دی۔ تعلیم بدل دی۔ اشتہارات بدل دیے۔ جنگوں کی رپورٹنگ بدل دی۔ کھیلوں کی معیشت بدل دی۔ یہاں تک کہ خاندانوں کی شامیں بھی بدل گئیں۔ کبھی لوگ شام کے وقت صحن میں بیٹھ کر ایک دوسرے سے باتیں کرتے تھے۔ پھر ایک دن گھر کے کونے میں ایک ڈبہ آیا اور پورا خاندان اس کے گرد جمع ہونے لگا۔ یہ صرف مشین نہیں تھی۔ یہ ایک نئی سماجی دنیا تھی۔
وقت گزرتا گیا۔ ٹیلی ویژن پہلے میز پر آیا پھر دیوار۔ پھر لیپ ٹاپ بنا۔ پھر جیب میں آگیا۔ آج ہماری ہتھیلی میں موجود اسمارٹ فون دراصل اسی طویل تکنیکی سفر کی جدیدترین شکل ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب اسکرین ہمیں صرف دکھاتی نہیں، ہم سے بات بھی کرتی ہے۔ ہمیں سنتی بھی ہے، ہمیں پہچانتی بھی ہے اور اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے جواب بھی دیتی ہے۔
اگر تاکایاناگی کینجیرو آج زندہ ہوتے تو یقیناً حیران ہوتے کہ جس کیتھوڈ رے ٹیوب میں انہوں نے صرف ایک حرف روشن کیا تھا، آج اسی تاریخی سفر نے اربوں انسانوں کی جیب میں پوری دنیا رکھ دی ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ ہم ایپل کو جانتے ہیں۔ سونی کو جانتے ہیں۔ سام سنگ کو جانتے ہیں۔ ایل جی کو جانتے ہیں۔ مگر ان سب سے پہلے کھڑا وہ جاپانی استاد ہماری اجتماعی یادداشت میں کہیں پیچھے رہ گیا۔ ’تاکایاناگی کینجیرو‘ کی عظمت اسی خاموشی میں پوشیدہ ہے۔ کینجیرو نے دنیا کو دیکھنے کا ایک نیا راستہ ضرور دیا، مگر خود شہرت کی روشنی سے دور رہے۔
آج انسان پھر دوراہے پر کھڑا ہے۔ مصنوعی ذہانت تصویریں بنا رہی ہے۔ فلمیں تخلیق کر رہی ہے۔ ورچوئل انسان وجود میں آ رہے ہیں۔ ایسے مناظر تخلیق ہو رہے ہیں جو کبھی حقیقت میں پیش ہی نہیں آئے۔ اسکرین اب صرف حقیقت دکھاتی نہیں، حقیقت پیدا بھی کرتی ہے۔ لیکن اس حیرت انگیز انقلاب کے باوجود ایک حقیقت نہیں بدلی۔ آج کی ہر جدید اسکرین اگرچہ 1926 کی اس ٹیکنالوجی پر نہیں چلتی، مگر اسکرین تک انسانی سفر کی طویل داستان کا ایک اہم باب اسی ننھے سے تجربے سے شروع ہوتا ہے۔
تاریخ کا حسن یہی ہے۔ کبھی کبھی آنے والی پوری صدی کا سفر ایک معمولی سے لمحے سے شروع ہوتا ہے۔ نیوٹن کے لیے ایک سیب۔ گٹن برگ کے لیے ایک پریس۔ رائٹ برادران کے لیے لکڑی کا ایک جہاز اور تاکایاناگی کینجیرو کے لیے جاپانی زبان کا صرف ایک حرف۔ تاریخ نے بعد میں اس حرف کے گرد پوری بصری تہذیب تعمیر کر دی۔

برسوں بعد شاید لوگ بھول جائیں کہ پہلا اسمارٹ فون کس نے بنایا تھا، پہلی ایل ای ڈی اسکرین کس نے متعارف کرائی تھی یا مصنوعی ذہانت کی کون سی حیرتیں تاریخ میں باقی رہیں۔ مگر ایک حقیقت ہمیشہ زندہ رہے گی: ہر وہ تصویر جو کسی اسکرین پر روشن ہوتی ہے، ہر وہ بچہ جو کارٹون دیکھ کر مسکراتا ہے، ہر وہ طالبِ علم جو آن لائن پڑھتا ہے اور ہر وہ انسان جو ہزاروں میل دور بیٹھے اپنے پیاروں کو ویڈیو کال پر دیکھتا ہے، وہ سب جاپان کی خاموش تجربہ گاہ کے مقروض ہیں، جہاں قریباً صدی قبل ایک استاد نے شیشے کی ننھی اسکرین پر صرف ایک حرف روشن کیا تھا۔ وہ حرف آج بھی روشن ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اب وہ ایک اسکرین پر نہیں، اربوں اسکرینوں پر چمک رہا ہے۔
شاید کسی سائنس دان کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ دنیا روز اس کی ایجاد سے فائدہ اٹھائے، مگر اس کا نام یاد رکھنے کی ضرورت محسوس نہ کرے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












