گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

ہفتہ 22 اگست 2026
author image

صنوبر ناظر

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے مضافات میں ملیر ایک متوسط طبقے کا علاقہ تھا۔ ہمارا گھر ملیر، ماڈل کالونی کے عین بیچوں بیچ تھا۔

گھر سے ذرا آگے بائیں جانب نکلتے تو سامنے ایئرپورٹ صاف دکھائی دیتا۔ جہاز اڑتے بھی نظر آتے، اترتے بھی۔ رن ون کے اطراف صرف کچی زمین تھی۔ یا جھاڑیاں ۔

دائیں طرف سعود آباد شروع ہو جاتا تھا۔ پھر آگے میمن گوٹھ آتا۔ اس کے باغ پورے ملیر میں اپنی ٹھنڈی ہوا کے سنگ امرود اور آم کی مہک بھی دور دور تک پہنچاتے تھے۔ انہی باغوں کے آگے ملیر ندی بہتی تھی۔ بارشوں میں وہ پوری آب و تاب سے رواں رہتی ۔

ہمارے علاقے میں بارش کا پانی کبھی ٹھہرتا نہ تھا۔ محلے کے تمام بچے بہتے پانی میں کاغذ کی کشتیوں کی ریس لگاتے تھے ۔ بارش تھمتے ہی کچی زمین اسے پی جاتی، یا وہ سیدھا ملیر ندی میں جا گرتا۔ بارش کے بعد ہر چیز دھل جاتی تھی۔

بارشوں میں ہم سب بچے پیدل اپنے والدین کی سنگت میں ایئرپورٹ کے ساتھ والے جنگل کی طرف نکل جاتے۔ جہاں جھاڑیاں اور جنگلی پودے تھے ۔ بارش کے موسم میں سرخ سرخ بیر بہوٹیاں نہ جانے کہاں سے نمودار ہو جاتی تھیں ، ابو چن چن کر وہ مخملی بیر بہوٹیاں میری ہتھیلی پر سجا دیتے ۔

انہی دنوں زمین سے ننھی ننھی کھمبیاں بھی پھوٹ پڑتی تھیں۔ ہم دیر تک انہیں حیرت سے دیکھتے رہتے۔ ابو نے پہلی بار مجھے بتایا تھا کہ انھیں مشروم کہتے ہیں۔

ملیر صرف ایک بستی نہیں تھی۔ ایک آباد دنیا تھی ۔ ہر طرح کے لوگ وہاں رہتے تھے۔ زیادہ تر وہ جو ہجرت کر کے ہندوستان سے آئے تھے۔ اپنے دکھ بھی ساتھ لائے تھے، اپنی امیدیں بھی۔

میرے دادا دادی بھی اجمیر اور جے پور سے آ کر یہیں بس گئے تھے۔ ان کے دو ہی بیٹے تھے۔ ہمارے تایا جان اور ابو ۔

ملیر میں زیادہ تر گھر ایک منزلہ تھے۔ دو منزلہ مکان بہت کم تھے۔ ہمارا گھر دو منزلہ تھا۔ اوپر تایا کے لیے دو کمرے بنے تھے۔ نیچے ہم رہتے تھے۔ ایک کمرہ دادا دادی کے لیے مخصوص تھا۔

باقی سارا صحن کچا تھا۔ بارش کے بعد اس سے اٹھنے والی سوندھی خوشبو آج بھی یاد ہے۔

صحن کی چاروں دیواروں کے ساتھ کیاریاں بنی ہوئی تھیں۔ گھر میں کئی گھنے درخت تھے۔ نیم کا درخت آج بھی آنکھوں کے سامنے ہے۔ آم کا درخت بھی، جس پر ہر سال کیریاں لگتی تھیں۔ ایک املی کا درخت بھی تھا، جسے دادی نے بڑے شوق سے لگایا تھا۔

دھوپ بھی تھی، چھاؤں بھی۔ اسی چھاؤں میں دادی کی چارپائی ہر وقت بچھی رہتی۔ جہاں وہ دن بھر دھوپ سینکا کرتی تھیں ۔ صبح سویرے وہ اس پر گدا بچھاتیں، پھر صاف چادر ڈال دیتیں۔ وہی ان کی دنیا تھی۔

درختوں سے چھینکے بھی لٹکے رہتے تھے۔ ریفریجریٹر تو شاید اکا دکا گھر میں ہی تھا۔ بچا ہوا کھانا، دودھ یا ڈبل روٹی دادی اسی چھینکے میں رکھ کر درخت کی ٹہنی سے لٹکا دیتیں۔ وہی ہمارا فریج تھا۔

میرے دادا پانچ وقت کے نمازی تھے۔ تہجد بھی پڑھتے تھے۔ میرے تایا بھی انہی کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔

دادی کا معاملہ کچھ اور تھا۔ مذہب سے ان کا تعلق علم کا تھا، وہ اندر سے بہت روشن خیال تھیں۔

میرے ابو بے حد وجیہہ تھے۔ ان کا رنگ، ان کے نقوش، ان کی شخصیت دادی سے مشابہ تھی ۔ دلکش ایسے کہ کسی فلم کے ہیرو معلوم ہوتے تھے۔

میں ان کی پہلی اولاد تھی۔ پہلی بیٹی۔ شاید اسی لیے ان کی محبت بھی کچھ الگ تھی۔ ماں کی محبت جیسی نہیں۔ باپ کی محبت ہمیشہ ایک اور طرح کی ہوتی ہے۔ خاموش، مگر ساری زندگی ساتھ چلنے والی۔

پہلے پانچ سال تو میں نے خوب مزے کیے۔

امی اور ابو کے ساتھ۔

جب تک اکلوتی رہی امی سے جڑی رہی ۔

پھر امی اوپر تلے چار بچوں کی ماں بن گئیں ۔

اور دوسرے بچوں میں مصروف ہوتی چلی گئیں۔

اور میں چپکے سے ابو کے قریب ۔

ابو مجھے ہر جگہ اپنے ساتھ لے جانے لگے ۔

ان کے پاس ہونڈا ففٹی تھی۔

اس پر آگے ایک ڈبہ سا لگا تھا، سرخ رنگ کا۔

وہ مجھے اسی پر اپنے آگے بٹھا لیتے۔

اور ہم نکل پڑتے۔

بزمِ علم و دانش کا کوئی پروگرام ہو۔

گوئٹے انسٹیٹیوٹ کی کوئی تقریب ہو۔ برٹش کونسل میں فلم اسکریننگ ہو ۔

یا کبھی اسلم اظہر انکل کا بنایا ہوا تھیٹر گروپ ’’دستک‘‘ کے ڈرامے کی ریہرسل ہو ۔

اس وقت اسٹریٹ تھیٹر خوب ہوا کرتے تھے ۔

ابو دفتر سے واپس آتے۔

مجھے اپنے ہنڈا ففٹی پرساتھ بٹھاتے۔

پھر کراچی کی سڑکیں ہوتیں اور باپ بیٹی ۔

یوں آہستہ آہستہ ابو میری دنیا کا ایک بہت اہم حصہ بنتے چلے گئے۔

ابو صدر سے ڈھیروں پرانی کتابیں لایا کرتے تھے۔

طرح طرح کی چھوٹی بڑی ، رنگ برنگی خوبصورت تصویریں سے سجی کتابیں ۔

انہی کتابوں سے ابو نے مجھے پڑھنا سکھایا۔

کہانیاں پڑھنا۔

رات کو لیٹ کر وہ مجھے اردو انگریزی کی کہانیاں پڑھ کر سناتے۔

ابو کو پڑھنے لکھنے کا بے حد شوق تھا، لیکن مالی حالات نے زیادہ تعلیم حاصل کرنے کی سکت نہ دی۔ میٹرک کے بعد ملازمت کی تلاش شروع کردی۔ ملازمت مل بھی گئی، مگر پھر 1971ء کا سانحہ پیش آیا اور وہ ملازمت بھی ہاتھ سے چلی گئی۔

اچھی ملازمت کے حصول کی خاطر ابو نے اپنے بل بوتے پر انگریزی زبان پر جلد ہی عبور حاصل کرلیا –

کچھ عرصے بعد ابو کی شادی ہوئی اور پھر انہیں جنرل الیکٹرک کمپنی میں ایک اچھی ملازمت مل گئی۔ وہاں سے ان کی زندگی نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ اپنی محنت، لگن کے بل پر وہ ترقی کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے گئے۔

پھر گلف وار کا زمانہ آیا۔ کمپنی کے بہت سے غیرملکی ملازمین، خصوصاً امریکی اور یورپی، واپس چلے گئے۔ اچانک ان کے جانے سے کام کا ایک بڑا حصہ ابو کے ذمے آگیا۔ انہیں ایک دم نمائندے کی حیثیت سے بڑی ذمہ داری اور ترقی دے دی گئی۔ یوں جو کچھ انہوں نے برسوں کی محنت سے کمایا تھا، اس کا صلہ انہیں ملنے لگا۔ ہمارے گھر میں چمچماتی نئی گاڑی آگئی، آسائشیں آئیں اور وہ بہت کچھ میسر آیا جس کا شاید ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔

پھر ابو کے پاؤں میں جیسے پہیے لگ گئے۔ کبھی ایک ملک، کبھی دوسرا۔ پورا یورپ، امریکا، لاطینی امریکا، وسطی امریکا، ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور خلیج کے مختلف ممالک ۔ ان کی ملازمت انہیں دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک لے جاتی رہی۔ کبھی ایک جگہ قیام ہوا تو اگلے ہی دن کسی اور ملک روانگی۔ بعد کے برسوں میں بعض سفروں میں امی بھی ان کے ساتھ جانے لگیں۔ یوں انہوں نے دنیا کے نہ جانے کتنے ممالک دیکھے، وہ بھی اپنی جیب سے ایک پیسہ خرچ کیے بغیر۔ صرف سفر ہی نہیں کیا، بے شمار تجربات بھی حاصل کیے اور دنیا کو بہت قریب سے دیکھا۔

ہم چار بہنیں اور ایک بھائی ۔ ایک ملازمت پیشہ باپ کے لیے چار بیٹیوں کو پڑھانا، لکھانا، پھر ان کی شادیاں کرنا یقیناً کتنا بڑا اور مشکل فرض ہوتا ہے۔ ابو نے یہ سب کچھ نہ صرف نبھایا بلکہ اس قدر خوش اسلوبی سے نبھایا کہ آج سوچتی ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ انہوں نے یہ سب کیسے کیا ہوگا۔ شاید آج ہم بچے باپ کی اس مشکلوں کا پوری طرح اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔

پھر جب ہم سب کے اپنے اپنے بچے ہوگئے تو بھی ابو امی کی ذمہ داریاں ختم نہیں ہوئیں۔ وہ ہمارے بچوں کے لیے اسی محبت اور خلوص کے ساتھ ہمہ وقت موجود رہے۔ خاموشی سے، اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ جیسے زندگی بھر ان کا یہی کام تھا: سب کا خیال رکھنا اور سب کے لیے موجود رہنا۔

پھر 2004ء آیا۔ میں اپنی فیملی کے ساتھ انگلینڈ میں مقیم تھی ۔ ایک روز اپنے کام سے واپس آئی تو اپنے شوہر کو کچھ پریشان سا پایا ۔ دو دن، چار دن، کئی دن یہی کیفیت رہی۔ اکثر ان کی آنکھیں سرخ ہوتیں، جیسے ابھی روئے ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آتا تھا۔کہ آخر بات کیا ہے۔ میں پوچھتی، “کیا ہوا ہے؟ پڑھائی اور کام کا کوئی بوجھ ہے؟” مگر وہ کچھ بتاتے نہیں تھے۔

پھر ایک دن انہوں نے کہا، “ہم پاکستان جا رہے ہیں ۔ ایک ماہ کے لیے۔”

میں خوش ہوگئی۔ ساتھ ہی فکرمند بھی ، میں نے کہا، “کیا ہوا ہے؟” تو وہ بولے، “کچھ نہیں، بس چلتے ہیں۔ تمہارے ابو کی طبیعت کچھ خراب ہے ۔ ہمارے جانے سے وہ خوش ہوجائیں گے۔”

میں مطمئن ہوگئی۔ مجھے لگا معمولی سی طبیعت خراب ہوگی ۔ پورے ہوائی سفر میں اسی خوشی میں رہی کہ میں گھر جا رہی ہوں ، سب گھر والوں سے ملوں گی۔

لیکن جب ہم کراچی پہنچے تو اچانک معلوم ہوا کہ میرے ابو کا تو بائی پاس ہوچکا ہے۔

اس لمحے تو جیسے یقین ہی نہیں آیا۔ میرے ابو؟ وہ اتنے جوان، اتنے اسمارٹ اور اتنے توانا دکھائی دیتے تھے ۔ ان کے ساتھ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ دل ماننے کو تیار ہی نہیں تھا۔

وقت گزر گیا اور شکر ہے کہ ابو ٹھیک ہوگئے۔ اس واقعے کے بعد انہوں نے اپنی صحت کا بہت خیال رکھنا شروع کردیا۔ شاید انہیں احساس ہوگیا تھا کہ ابھی انہیں بہت کچھ کرنا ہے، بہت سے رشتے نبھانے ہیں، بہت سے لوگوں کے لیے موجود رہنا ہے۔ جیسے ایک باپ کبھی ریٹائر نہیں ہوتا۔

پھر 2021ء آگیا ۔کووڈ کا سال۔ اسی دوران میری دوسری بہن کے شوہر کو کووڈ ہوا اور ہمادے ہاتھوں میں ہی اس نے راہ عدم کی راہ لے لی ۔ ہم سب بہن بھائی الگ الگ شہروں اور ملکوں میں تھے، سوائے اس بہن کے ۔ چنانچہ امی ابو اور بہن اکیلے رہ گئے۔ سو ہم انہیں اپنے پاس اسلام آباد لے آئے۔

مگر ابو امی کا دل اسلام آباد میں نہ لگا۔ انہیں کراچی کی عادت تھی۔ وہاں ان کے دوست تھے، محفلیں تھیں، لوگوں سے ملنا جلنا تھا، ایک بھرپور سماجی زندگی تھی۔ اسلام آباد اپنی جگہ بے حد خوبصورت شہر ہے، لیکن ابو کو یہ ایک خاموش، قدرے بے رونق سا شہر محسوس ہوتا تھا ۔ یہاں انہیں وہ زندگی نہیں مل رہی تھی جس کے وہ عادی تھے۔

رفتہ رفتہ ان کی دنیا محدود ہوتی گئی۔ کبھی ہمارے گھر آجاتے، مگر ان کے لیے اپنی کوئی مستقل سرگرمی نہیں رہی تھی۔

اور شاید اسی دوران، ایک دو سال سے، ان کے پیٹ میں درد رہنے لگا تھا۔

مگر انہوں نے ہمیں کچھ نہیں بتایا۔

کچھ باپ جو ہوتے ہیں نا، وہ اکثر بتاتے نہیں۔ خاموش رہتے ہیں ۔ اپنی تکلیف چھپا لیتے ہیں ۔ بس دوسروں کا خیال رکھنا اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔ ابو بھی یہی کرتے رہے۔ کبھی پیٹ میں ہلکا سا درد ہوتا تو ڈاکٹر کو دکھایا۔ کسی نے معدے کی دوا دے دی، کسی نے قبض یا پیٹ صاف کرنے کی۔ اینڈوسکوپی بھی ہوگئی، مگر کسی نے کولونوسکوپی کی طرف توجہ نہیں دی۔

پھر تقریباً تین ماہ پہلے انہیں محسوس ہوا کہ رفعِ حاجت کے دوران خون آرہا ہے۔ تب انہوں نے اس کا ذکر کیا۔ سب نے کہا، “کولونوسکوپی کروا لیتے ہیں، ٹھیک ہوجائیں گے۔” وہی دوائیں شروع ہوگئیں اور ہم بھی یہی سمجھتے رہے کہ کوئی معمولی مسئلہ ہوگا۔

پھر آخرکار ایک دن ڈاکٹر نے کہا کہ کولونوسکوپی فورا کروانی چاہیے۔

میں ان کے ساتھ تھی جب وہ اندر گئے۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر نے بتایا کہ بائیوپسی بھی کرنی ہوگی۔ بائیوپسی ہوئی، اور پھر وہ خبر ملی جس کا تصور بھی نہ کیا تھا ۔

ابو کو کینسر کی تشخیص ہوگئی۔

ان کے اناً فاناً ٹیسٹ شروع ہوئے اور مختلف ڈاکٹروں سے مشورے بھی ۔ ڈاکٹروں نے فوری سرجری کا کہا ۔ اللہ کا شکر ہے کہ ان کی مجموعی صحت اب بھی کافی اچھی ہے، حوصلہ بھی ہے اور وہ ہمت سے اس مرحلے کا سامنا کر رہے ہیں۔ اور ابھی تو مجھے ابو کے ساتھ مل کر پٹھانے خان، ریشماں ،مناڈے، طلعت محمود ، اے با ، کرپینٹر، لیونل رچی کے گانے سننے ہیں ۔ اور نہ جانے کتنی ادھوری باتیں کرنا باقی ہیں ۔ ابھی تو ہم سب کی ری یونین ہے ۔ بیرون ملک مقیم بہن بھائی سب کام چھوڑ کر ان کے پاس اگئے ہیں ۔ ابھی تو انھیں ہم سب کے درمیان رہنا ہے ۔

ہم کبھی کبھی ابو سے کہتے ہیں، “ابو، آپ نے بھی عجب کیا… ایک کے بعد ایک بڑی بیماری اپنے اندر چھپا لیں۔”

لیکن ابو کی محبت بہت مختلف ہے۔ وہ اپنے بچوں کی زندگیوں میں انے والے اتار چڑھاؤ ، دکھوں اور مسائل پر اندر ہی اندر ہی اندر گھٹتے رہے ۔ لیکن انہوں نے اپنی تکلیف کا حساب نہیں رکھا ، وہ بس اپنا فرض نبھاتا چلے گئے ۔ خاموشی سے، بغیر کسی شکوے کے، بغیر یہ جتائے کہ انھوں نے ہمارے لیے کیا کیا۔

اور شاید اسی لیے بچے اکثر اس محبت کو ٹیک اٹ فار گرانٹڈ لے لیتے ہیں ۔

ابو نے کبھی فینسی لفظوں کا سہارا نہیں لیا ۔ نہ فیمینسٹ، نہ کمیونسٹ، نہ سوشلسٹ ہونے کا دعویٰ کیا۔ مگر اپنے عمل سے ہمیشہ دکھایا کہ عورتوں کی عزت کیا ہوتی ہے، غریبوں کا خیال کیسے رکھا جاتا ہے، مختلف نظریات رکھنے والوں سے کس طرح شائستگی سے بات کی جاتی ہے اور مصیبت زدہ انسان کے کام کیسے آیا جاتا ہے۔

ہم شاید ان کی طرح نہ بن سکے، ہماری اپنی کچھ کمزوریاں اور کوتاہیاں رہیں، مگر وہ ہمیشہ ہماری پشت پر ڈھال بن کر کھڑے رہے اور ہماری کسی بھی غلطی یا لغزش پر لعن طعن کے بجائے اسکی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی ۔ دوسرے فریق کا سچ سننے کا حوصلہ ابو کو سب سے منفرد بناتا ہے ۔ انہوں نے اپنے کٹھن بچپن اور زندگی میں جتنے دکھ اور مسائل جھیلے، کبھی ان کی تکرار کرتے نہیں سنا ۔ نہ اپنے بل بوتے پر جو کیا ان پر کبھی فخر کرتے نہ دیکھا ۔ شاید یہی ان کی سب سے بڑی خوبی ہے ۔ وہ نظریات کے نہیں، عمل کے آدمی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قدرت نے ان کی اس خوبی کا صلہ انھیں اچھے دامادوں اور بہو کے روپ میں دیا ۔

ہم جو بچے ہوتے ہیں نا وہ باپ کی خاموشی کو ان کی مضبوطی سمجھ لیتے ہیں اور ان کے درد کو ان کی ذمہ داری ۔

مگر باپ کی خاموشی کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے ۔ ان کی محبت کو محسوس کرنا چاہیے۔ ان کی آنکھوں کے پیچھے چھپی تھکن، ان کے لہجے میں چھپی پریشانی اور ان کی خاموشیوں میں چھپا درد پڑھنا چاہیے۔

میرے اکثر خواب میں دیکھتی ہوں کہ آم کے پیڑ تلے کھڑی ابو کی ہنڈا ففٹی کے لال ڈبے کی جگہ لال پَر ابھر آئے ہیں ۔ ابو مجھے اس پر بٹھاتے ہیں اور اچانک ہنڈا ففٹی اڑن کھٹولہ بن کر باپ بیٹی کو فضاؤں میں لے اڑتی ہے ۔

مجھے بچپن کا وہ ملیر یاد ہے۔ وہ راستے یاد ہیں، وہ ہوا یاد ہے، اور وہ لال مخملی بیربہوٹیاں بھی، جنہیں دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے زمین پر کسی نے سرخ دبیز قالین بچھا دیا ہو۔

کبھی کبھی سوچتی ہوں، مجھے سب کچھ آج بھی یاد آتا ہے، تو ابو کیسے بھلا سکتے ہیں؟

کیا یادیں عمر کے ساتھ دھندلا جاتی ہیں؟

میں آج بھی اُس صحن میں کبھی کبھی لوٹ جاتی ہوں جہاں ابو مجھے گود میں اٹھا کر جھولا دیا کرتے تھے۔ آم کے پیڑ کے نیچے کھڑی ہنڈا ففٹی کے اُس لال ڈبے میں، جہاں دنیا بہت چھوٹی تھی، راستے بہت لمبے، اور ابو کے ساتھ سفر … پوری کائنات جتنا بڑا۔

اے خدا میرے ابو سلامت رہیں،

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

صنوبر ناظر ایک متحرک سیاسی و سماجی کارکن ہیں۔ تاریخ میں ماسٹرز کر رکھا ہے جبکہ خواتین کی فلاح اور مختلف تعلیمی پراجیکٹس پر کام کر چکی ہیں۔ کئی برس سے قومی و بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے باقاعدگی سے لکھتی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا ملک گیر شٹر ڈاؤن کا اعلان، اسلام آباد مارچ کا عندیہ

حنا جاوید کے بہیمانہ قتل پر خاتونِ اول کا اظہارِ تشویش

پرائیویٹ حج 2027: واجبات کی وصولی شروع، بکنگ اور ادائیگی صرف پاک حج ایپ یا حج پورٹل سے ہوگی

صوبائی حکومت کی کمزور گرفت، بنوں اور لکی مروت میں پولیس امن کمیٹیاں بے امنی اور جرائم کی سرپرست بن گئیں

ٹرمپ کی ایران کیخلاف معاشی جنگ تیز کرنے کی تیاری، تہران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی

ویڈیو

ٹرمپ کی ایران کیخلاف معاشی جنگ تیز کرنے کی تیاری، تہران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی پبلک سیفٹی ایپ، خصوصی افراد کے لیے مؤثر سہولت

میدان میں حریف کھلاڑی کو تھپڑ مارنے پر سپر اسٹار لیونل میسی پر جرمانہ عائد

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘