مولانا کیا چاہتے ہیں؟

منگل 25 اگست 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کل مولانا ن لیگ کے ساتھ مل کر تحریک انصاف کی حکومت کو گھر بھیجنا چاہتے تھے اور آج مولانا تحریک انصاف کے ساتھ مل کر ن لیگ کی حکومت کو گھر بھیجنا چاہتے ہیں ۔ میں تو مولانا کا مداح ہوں، اس لیے خاموش ہوں ورنہ میں حاضر ہو کر برادرم سہیل وڑائچ کے میٹھے  لہجے میں سارے ادب  کے ساتھ ضرور پوچھتا : مولانا ! کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔

یہ قصہ کیا ہے کہ ساون بھادوں کی برسات  میں مولانا ادھر ہوتے ہیں اور پوہ ماگھ کے جاڑے میں مولانا اُدھر کھڑے ہوتے ہیں ۔ کوئی عام دنیا دار قسم کا سیاست دان ہوتا تو بات اور ہوتی  لیکن یہ تو مولانا ہیں ۔ آدمی حیرن ہوتا ہے کہ بدلتے موسم ان پر کیوں اتنے اثر انداز ہوتے ہیں۔

مولانا سے پورے احترام کے ساتھ یہ سوال پوچھا جانا چاہیے کہ وہ کون سے اعلیٰ اصول تھے جن کی بنیاد پر کل آپ ن لیگ اور پی پی  کے ساتھ مل کر عمران کے خلاف تحریک چلا رہے تھےا ور وہ کون سے اعلیٰ آدرش ہیں جن کی وجہ سے آج آپ عمران کے ساتھ مل کر ن لیگ کی حکومت  کے خلاف کھڑے ہیں۔

وہ کون سے اہداف تھے جو پورے نہ ہوئے۔ وہ کون سے وعدے تھے جو ادھورے رہ گئے۔ وہ کون سی تمنائیں تھیں جو تشنہ رہ گئیں؟ کچھ تو بتائیےتو اور سمجھائیے۔ اپنے حلیفوں سے مایوسی ہوئی تو کیوں ہوئی اور کب ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟

اگر بات اسٹیبلشمنٹ کے مبینہ کردار سے اصولی اختلاف  کی ہے تو پھر یہ کیا معاملہ ہے کہ جب وہ عمران کے خلاف اسلام آباد میں احتجاج کر رہے تھےتو رات کو جنرل باجوہ صاحب کے گھر کھانے پر بھی تشریف لے گئے تھے؟ باہمی دلچسپی کے وہ کون سے امور تھے جو اس ملاقات میں زیر بحث آئے تھے؟ ایم ایم اے کے دامن سے بھی بہت سارے سوالات لپٹے ہیں ، ان کا جواب بھی ابھی تشنہ ہے۔

 میں بہت حوالوں سے مولانا کا مداح ہوں مگر ان کی سیاست کے 4 بنیادی اصول ایسے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اصول ایک طالب علم کے طور پر میں نے سالوں پہلے لکھے تھے۔

پہلا یہ کہ جس الیکشن میں مولانا کی جماعت ہار جائے اور پر لطف شراکت اقتدار کا کوئی امکان بھی نہ ہو تو ان انتخابات میں شدید قسم کی دھاندلی ہوئی ہوتی ہے اور مولانا کا مینڈیٹ چرایا جا چکا ہوتا ہے۔ یہ صرف آج کا قصہ نہیں ، مولانا جب بے نظیر بھٹو کے حلیف تھے اور نواز شریف جیت گئے تو مولانا نے اسے بھی دھاندلی قرار دیا تھا۔

دوسرا یہ کہ مولانا اگر اپوزیشن میں ہوں تو اس گستاخی کے نتیجے میں حکمران نہ صرف ملک دشمن قرار پاتا ہے بلکہ اس کی اسلام دشمنی بھی بے نقاب ہو جاتی ہے۔ چنانچہ  جب نواز شریف حریف تھے تو مولانا نے کہا کہ ان کو ان کے خاص ذرائع نے بتایا ہے کہ نواز شریف ایٹمی صلاحیت کا سودا کرنے جا رہا ہے۔ (بحوالہ، مشافہات۔ جلد اول ، صفحہ 245، 46) بعد میں اسی نواز شریف  کے دور میں ایٹمی دھماکے کر دیے گئے لیکن مولانا کے ان خاص ذرائع کی ابھی تک کوئی خبر نہیں۔

کارگل سے افواج کی واپسی کا معاملہ سامنے آیا تو مولانا نے کہا یہ مسلم امہ کی توہین ہے۔ جنگ سے اجتناب کو ان دنوں نواز شریف نے جنگ لڑنے سے زیادہ جرات مندانہ اقدام قرار دیا تو مولانا نے فرمایا: ’یہ گناہ کبیرہ ہے۔

اسی طرح عمران خان سے معاملہ درپیش ہوا تو قوم کو بتایا گیا کہ وہ تو اصل میں یہودی ایجنٹ ہے۔ اسے تو مغرب نے مسلط کیا ہے۔ وہ تو یہودیوں کا آلہ کار ہے۔

مزید پڑھیے: کشمیر اب ایک ٹیسٹ کیس ہے

تیسرا یہ کہ جمہوریت  صرف اس وقت تک فائدہ مند ہوتی ہے جب تک مولانا کے لیے ا مکانات کا دروازہ کھلا رہے ورنہ  جمہوریت ایک نامعتبر اور غیر اسلامی نظام ہے۔ اور اس کے خلاف مسلح جدوجہد جائز ہو جاتی ہے۔ مشافہات جلد دوم کے صفحہ 107 پر مولانا اپنے انٹرویو میں فرماتے ہیں: اصول کی بات یہ ہے کہ مدارس میں جہاد کی تربیت دی جانی چاہیے۔ یہ میں اس اصول کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ کسی تعلیمی ادارے میں جہاد کی تربیت دینا ناجائز ہے تو حکومت نے یہ کیڈٹ کالج کیوں بنائے ہیں جہاں ایک طرح کی فوجی تربیت دی جاتی ہے۔ اگر حکومت کی سطح پر فوجی تربیت جائز ہے تو پرائیویٹ سطح پر کیوں جائز نہیں ہے؟ اس پر ان سے سوال کیا گیا : کیا ایسا شرعا جائز ہے کہ پرائیویٹ سطح پر جہاد کی تربیت دی جائے؟ تو مولانا نے جواب دیا : بالکل جائز ہے۔

چوتھا یہ کہ مولانا ناراض ہو کر یوٹرن لینے لگیں تو انڈیکیٹر کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ یہ عین ممکن ہے کہ اچانک ہی وہ بیٹنگ چھوڑ کر بولنگ شروع کر دیں یا بولنگ کرتے کرتے چھکا لگا دیں یا وہ سب کچھ چھوڑ کر اچانک ہی ایک طرف بیٹھ جائیں کہ میں تو آیا ہی ہاکی کھیلنے تھا۔ یہ امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی بھی وقت پچ پر احتجاج شروع کر دیں کہ 73 کے آئین کے تناظر میں مجھے اس میچ میں مزہ نہیں آ رہا، فی الفور نیا میچ کرایا جائے۔

اس کا ثبوت یہ ہے کہ جناب مولانا بے نظیر بھٹو کے ساتھ تھے۔ لیکن جب بے نظیر کی حکومت ختم ہوئی اور آئی جے آئی جیتی اور نواز شریف وزیراعظم بن گئے تو مولانا نے الٹا  نواز شریف سے مطالبہ کرنا شروع کر دیا کہ چونکہ عورت کی سربراہی مناسب نہیں اس لیے آئین میں ترمیم کی جائے کہ آئندہ کوئی عورت وزیر اعظم نہیں بن سکتی۔( مشافہات ، جلد اول، صفحہ 256)۔

لیکن دوسری طرف نواز شریف کے شریعت بل کو رد کرتے ہوئے ساتھ ہی فرمایا: ’ہمارا موقف ہے کہ بے نظیر حکومت میں پاس کردہ سینیٹ کا شریعت بل آج دوبارہ پاس کروا کر نافذ کیا جائے۔‘ (جلد اول، صفحہ 252)۔

مشافہات ،جلد اول کے صفحہ 253 پر فرمایا: ’ماضی میں بھی ہم نے بے نظیر بھٹو کی مخالفت کی تھی‘ اور اگلے صفحے پر فرمایا ‘ماضی میں ہم نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ مل کر کام کیا تھا’۔

یہ سنہ 1996 کی بات ہے، مولانا نے ایک انٹرویو میں فرمایا: ’ہم نے میاں نواز شریف سے کہا کہ ہم مسلم لیگ سے بات کرنے کے لیے تو تیار ہیں لیکن وزیر اعظم کے لیے آپ کو اپنا متبادل لانا ہو گا۔ آپ نے بہت سی غلطیاں کی ہیں، ہم مزید تجربات نہیں کرنا چاہتے۔‘ (مشافہات۔ جلد اول، صفحہ 359)۔ لیکن 2 عشرے بعد اسی نواز شریف کو لانے کے لیے عمران کے خلاف تحریک کی قیادت یہی مولانا کر رہے تھے۔ اور اب ن لیگ کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک کے روح رواں پھر سے مولانا ہیں۔

مزید پڑھیں: کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی کل کی بات ہے جب تحریک انصاف سے قومی اسمبلی کی  مخصوص نشستیں لے لی گئیں اور یہ دیگر جماعتوں میں تقسیم کر دی گئی  تو مولانا نے اس تقسیم میں اپنی پارٹی کے لیے حصہ بقدر جثہ خوب ڈٹ کر وصول کیا اور آج دہائی دے رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

پہلے اخبارات و جرائد کی کی ٹھہری ٹھہری سی دنیا تھی، بہت کچھ  وقت کے ساتھ محو جاتا تھا، اب ڈیجیٹل دور ہے، تضادات  اب شبنم کی طرح تازہ رہتے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پہلے پی ڈی ایم اور اب پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد، مولانا فضل الرحمان کا ماضی و حال کا مؤقف کیا؟

آزاد کشمیر حکومت سازی: اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب آج، کون بنے گا وزیراعظم؟ نام فائنل کرلیا گیا

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ارکان اسمبلی سے ملاقاتیں کیوں کررہی ہیں، کیا کوئی خاص وجہ ہے؟

مولانا ڈیزل اور یہودی ایجنٹ کے القابات: کیا فضل الرحمان اور عمران خان کا ایک اسٹیج پر آنا کارکنوں کے کو قبول ہوگا؟

پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے 25 اگست کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا

ویڈیو

پہلے پی ڈی ایم اور اب پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد، مولانا فضل الرحمان کا ماضی و حال کا مؤقف کیا؟

مولانا ڈیزل اور یہودی ایجنٹ کے القابات: کیا فضل الرحمان اور عمران خان کا ایک اسٹیج پر آنا کارکنوں کے کو قبول ہوگا؟

فیلڈ مارشل دنیا کو تباہی سے بچانے کے مشن پر، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی راہیں جدا؟ مولانا کا یہودی ایجنٹ سے غیر فطری اتحاد

کالم / تجزیہ

کیا شہباز حکومت توہینِ عدالت کے ’جرم‘ میں گھر جا سکتی ہے؟

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار