تاجکستان اور افغانستان کی سرحد پر بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر روس نے تاجکستان کو ہتھیار اور دیگر فوجی سازوسامان فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی پہلی کھیپ رواں سال میں تاجکستان پہنچنے کا امکان ہے۔
افغان انٹرنیشنل کے مطابق اجتماعی سلامتی کے معاہدے کی تنظیم (سی ایس ٹی او) کے سیکریٹری جنرل تالعت بیک مسادی کوف نے افغانستان اور تاجکستان کی سرحد کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس تاجکستان کو ہتھیار اور سازوسامان فراہم کرنے میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان نے افغانستان میں فائبر آپٹک نیٹ ورک کی توسیع روک دی
مسادی کوف کے مطابق تاجکستان کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مہلک اور غیر مہلک ہتھیاروں اور دیگر سامان کی فہرست پر رکن ممالک نے اتفاق کیا ہے۔ یہ سامان تاجکستان اور افغانستان کی سرحد کو مضبوط بنانے کے لیے بین الریاستی پروگرام کے تحت فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ روس اپنی مشکل صورتحال کے باوجود تاجکستان اور دیگر رکن ممالک کی مدد کے لیے تیار ہے۔ ان کے بقول افغانستان سے ملحقہ تاجک سرحد کو جلد از جلد مضبوط بنانا ضروری ہے، کیونکہ وہاں پیدا ہونے والا کوئی بھی سیکیورٹی مسئلہ صرف تاجکستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اجتماعی سلامتی کے معاہدے کے دیگر رکن ممالک اور دولتِ مشترکہ کے ممالک کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔
سی ایس ٹی او کے سیکریٹری جنرل نے بتایا کہ تاجک صدر امام علی رحمان کی دعوت پر خطے کے حالیہ دورے کے دوران انہوں نے تاجک بارڈر فورسز کے کمانڈر کے ہمراہ افغانستان کے ساتھ تقریباً ایک ہزار 300 کلومیٹر طویل سرحد کے 700 کلومیٹر سے زیادہ حصے کا دورہ کیا۔ ان کے مطابق تاجک سرحدی فورسز علاقے کی سیکیورٹی کے لیے کام کر رہی ہیں تاہم انہیں وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔
نگرانیها از امنیت مرز افغانستان و تاجیکستان افزایش یافته است. دبیرکل سازمان پیمان امنیت جمعی درباره پیامدهای گسترده ناامنی در این منطقه هشدار داده و روسیه نیز از ارسال تجهیزات و تسلیحات برای تقویت مرز تاجیکستان خبر داده است.
رضا صاحبزاده گزارش میدهد. pic.twitter.com/clPesWYkEZ
— افغانستان اینترنشنال (@AFIntlBrk) August 28, 2026
افغان انٹرنیشنل کے مطابق تاجکستان اور افغانستان کی سرحد مضبوط بنانے کے لیے 5 سالہ پروگرام کی منظوری کے قریباً 2024 میں ہونے کے بعد اس پر عمل درآمد گزشتہ سال شروع کیا گیا تھا۔
نومبر 2025 سے افغانستان کی جانب سے تاجکستان میں کئی حملے بھی ہوچکے ہیں، جن میں عام شہریوں، چینی باشندوں اور تاجک سرحدی اہلکاروں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاجک حکام کا کہنا ہے کہ بعض حملہ آوروں کے قبضے سے اسلحہ اور منشیات بھی برآمد کی گئیں جبکہ کچھ حملہ آور مارے گئے۔













