افغان طالبان نے ملک بھر میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ نیٹ ورک کی توسیع، مرمت اور انفرااسٹرکچر سے متعلق تمام سرگرمیاں تاحکمِ ثانی روکنے کا حکم دے دیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے سے انٹرنیٹ کی رفتار، نیٹ ورک کی استعداد اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں مستقبل کی سرمایہ کاری متاثر ہوسکتی ہے۔
افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق طالبان کی وزارتِ مواصلات نے افغان ٹیلی کام اور متعدد نجی کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ فائبر آپٹک نیٹ ورک کی توسیع، مرمت اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق تمام کام فوری طور پر روک دیے جائیں۔ وزارت کے ڈائریکٹوریٹ برائے فائبر آپٹک ڈویلپمنٹ کی جانب سے جاری خط میں نئی لائنوں کی تعمیر، راستوں کی تبدیلی، کنکشن، تنصیب، دیکھ بھال اور مرمت سمیت تمام متعلقہ سرگرمیوں پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے افغان حکومت کی سخت گیر پالیسیاں، ملک کے مختلف علاقوں میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ بند
وزارت نے افغانستان ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی (اے ٹی آر اے) اور صوبائی ٹیلی کمیونیکیشن محکموں کو فیصلے پر عمل درآمد کی نگرانی کی ہدایت بھی کی ہے۔ خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ حکم کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف ’ مناسب کارروائی ‘ کی جائے گی۔ یہ ہدایات افغان وائرلیس، روشن، اتصالات، افغان ٹیلی کام سمیت فائبر آپٹک نیٹ ورک چلانے والی متعدد کمپنیوں کو بھیجی گئی ہیں۔
افغانستان میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ پر پابندیوں کا سلسلہ پہلے ہی جاری ہے۔ جون 2025 میں اے ٹی آر اے نے کابل میں گھروں کو نئی فائبر آپٹک لائنوں سے منسلک کرنے کا عمل روک دیا تھا، جبکہ ستمبر 2025 میں طالبان نے بلخ میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ کے استعمال پر پابندی عائد کی، جسے بعد میں دیگر صوبوں تک بھی بڑھا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے افغانستان میں ملک گیر مواصلاتی بلیک آؤٹ، انٹرنیٹ رابطے 14 فیصد تک محدود
گزشتہ سال 29 ستمبر کو ملک بھر میں فائبر آپٹک اور ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس بھی بند کر دیے گئے تھے، جس سے بینکوں، کسٹمز دفاتر اور کابل کی سرائے شہزادہ کرنسی مارکیٹ کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور بعض پروازیں بھی منسوخ کرنا پڑی تھیں۔ تقریباً 48 گھنٹے بعد سروس بحال کردی گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق تازہ فیصلہ فوری طور پر ملک گیر انٹرنیٹ بندش کا حکم نہیں بلکہ فائبر آپٹک نیٹ ورک کی توسیع، تعمیر، منتقلی، دیکھ بھال اور مرمت کو غیر معینہ مدت کے لیے روکنے کا اقدام ہے۔ افغانستان میں بین الاقوامی انٹرنیٹ کی بڑی مقدار ایران، پاکستان، تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان سے فائبر آپٹک اور مائیکرو ویو روابط کے ذریعے پہنچتی ہے، جبکہ موبائل نیٹ ورکس بھی بین الاقوامی رابطے کے لیے اسی بنیادی ڈھانچے پر انحصار کرتے ہیں۔ طالبان وزارتِ مواصلات نے تاحال اس فیصلے کی وجوہات بیان نہیں کی ہیں۔














