چلی کے صحرائے اٹاکاما میں دنیا کی سب سے بڑی زمینی دوربین کی تعمیر تیزی سے جاری ہے، جس کے ذریعے ماہرین فلکیات کائنات کے دور دراز حصوں کا پہلے سے کہیں زیادہ تفصیل سے مشاہدہ کر سکیں گے اور ممکنہ طور پر زمین سے باہر زندگی کے شواہد تلاش کرنے میں اہم پیشرفت ہوگی۔
برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق یورپی سدرن آبزرویٹری کے تحت تعمیر ہونے والی ’ایکسٹریم لیج ٹیلی اسکوپ‘ (ای ایل ٹی) کی گنبد نما عمارت تقریباً 80 میٹر بلند ہوگی جبکہ اس کا مرکزی آئینہ 39 میٹر چوڑا ہوگا۔ دوربین کا بیرونی ڈھانچہ 2027 تک مکمل ہونے کی توقع ہے اور اسے 2030 کے آس پاس سائنسی مشاہدات کے لیے فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔

اس عظیم منصوبے میں 798 چھ کونوں والے آئینے کے حصے شامل کیے جائیں گے، جنہیں انتہائی باریک بینی سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ تمام حصے مل کر ایک ایسا آئینہ بنائیں گے جو دور دراز ستاروں اور کہکشاؤں سے آنے والی انتہائی مدھم روشنی بھی جمع کرسکے گا۔ ماہرین کے مطابق دوربین کو اس قدر درست بنایا جا رہا ہے کہ اس کی معمولی سی حرکت بھی مشاہدے کے نتائج کو متاثر کرسکتی ہے۔
ای ایل ٹی چلی کے پہاڑ ’سیرو آرماثونیس‘ پر تعمیر کی جا رہی ہے، جہاں خشک اور صاف موسم آسمانی مشاہدات کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ اٹاکاما دنیا کے خشک ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے اور کئی مقامات پر بارش انتہائی کم ہوتی ہے، جس کے باعث بادل اور نمی سائنسی مشاہدات میں کم سے کم رکاوٹ بنتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نئی دوربین موجودہ طاقتور دوربینوں، حتیٰ کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ساتھ مل کر کائنات کے ابتدائی دور کی انتہائی دور کہکشاؤں کے مطالعے میں مدد دے گی۔ اس کے علاوہ سائنس دان ہماری اپنی کہکشاں کے قدیم ترین ستاروں کی عمروں، کہکشاں کے مرکز کے قریب موجود ستاروں اور نظام شمسی سے گزرنے والے بین النجمی اجسام کا بھی زیادہ تفصیلی مشاہدہ کرسکیں گے۔
🔭 The Telescope That Could Find Alien Life 👽
The largest optical telescope ever built is taking shape in Chile’s Atacama Desert.
ESO’s Extremely Large Telescope will use a 39-metre mirror to study rocky planets around nearby stars and search their atmospheres for possible… pic.twitter.com/jzPoQ0mS4s
— Above The Norm News (@abovenormnews) August 28, 2026
تاہم ماہرین کی سب سے بڑی امید زمین سے باہر زندگی کی تلاش سے وابستہ ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق دوربین براہ راست کسی اجنبی مخلوق کی تصویر تو نہیں لے سکے گی، لیکن دوسرے ستاروں کے گرد گردش کرنے والے سیاروں کی کمیت، ساخت اور فضا کا جائزہ لے کر یہ معلوم کرنے میں مدد دے سکتی ہے کہ وہاں زندگی کے لیے موزوں حالات موجود ہیں یا نہیں۔
ماہرین دور دراز سیاروں کی فضاؤں میں موجود کیمیائی عناصر کا بھی جائزہ لے سکیں گے۔ ہر کیمیائی عنصر روشنی کے طیف میں مخصوص نشان چھوڑتا ہے، جس سے سائنس دان اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کسی سیارے کی فضا میں کون سی گیسیں موجود ہیں۔ اگر کسی سیارے پر زندگی موجود ہو تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بعض نامیاتی گیسیں ممکنہ حیاتیاتی سرگرمی کا اشارہ دے سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:چین سورج کی سمت سے آنے والے خطرناک خلائی پتھروں کا سراغ لگائے گا
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 90 فیصد ماہرینِ حیاتیاتِ ارضی و فلکیات اور متعلقہ سائنس دان اس بات کو ممکن سمجھتے ہیں کہ کائنات میں بنیادی نوعیت کی بیرونِ ارضی زندگی موجود ہے، اگرچہ ذہین یا پیچیدہ زندگی کے امکانات کے بارے میں سائنسی حلقوں میں زیادہ احتیاط پائی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ای ایل ٹی کے فعال ہونے کے بعد آنے والی دہائی میں انسان کو اس سوال کا زیادہ مضبوط جواب مل سکتا ہے کہ کیا کائنات میں زمین کے علاوہ بھی زندگی موجود ہے۔ اگر ایسے شواہد مل گئے تو یہ دریافت انسان کے کائنات اور اس میں اپنی حیثیت کو سمجھنے کے انداز کو بنیادی طور پر بدل سکتی ہے۔













